8

عالمی تناظر میں پاکستان کو در پیش چیلنجز سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے،سید یوسف رضا گیلانی

ملتان(سٹاف رپورٹر)سرائیکستان صوبہ محاذ اور انڈس ویلی اتحاد کی طرف سے منعقد کئے گئے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ لمحہ موجود کے اہم موضوع بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں پاکستان کو در پیش چیلنجز کا سامنا اور اس کے سرائیکی وسیب پر اثرات مرتب ہوں گے،اسی بناء پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کو یقینا بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، افغانستان کی نئی صورتحال سے ایک لمحہ کیلئے بھی بے خبر نہیں رہنا چاہئے،اسے سے پہلے تقریب کے میزبان ظہور دھریجہ، فادر یونس عالم، نفیس انصاری و دیگر سرائیکی رہنمائوں رانا محمد فراز نون، شریف خان لاشاری، مہر مظہر کات، عابدہ بخاری، میاں نور الحق جھنڈیر، اکرم میرانی، ملک ارشد اقبال بھٹہ، میر احمد کامران مگسی، کامریڈ یامین، لیاقت چوہان، رضوان قلندری و دیگر نے کہا کہ سرائیکی قوم کا اپنا وطن ہے اور صوبے سے پہلے وسیب کو شناخت ملنے چاہئے، ظہور دھریجہ نے کہا کہ سرائیکی قوم ہزار سال تہذیب کی وارث ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنی تنظیم کا نام جنوبی پنجاب کی بجائے سرائیکی وسیب رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سرائیکی خطے کے لوگوں کو اپنا وطن اور اپنی دھرتی ہے وہ کسی کے نہ کمی ہیں نہ مضارع ہیں۔ جب اٹھارویں ترمیم میں خیبرپختونخواہ کو شناخت مل سکتی ہے تو وہ کون سا آئین جو میری سرائیکی شناخت کو تسلیم نہ کرے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یقینا آپ کی خواہش بھی ہے اور مطالبہ بھی کہ وسیب کو شناخت ملنی چاہئے اور صوبہ بھی ملنا چاہئے۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ اعزاز پاکستان پیپلز پارٹی کو حاصل ہے کہ پیپلز پارٹی نے صوبے کیلئے عملی قدم اٹھایا اور صوبے کے قیام کیلئے پارلیمانی صوبہ کمیشن قائم کیا۔ جس نے اپنا کام نہایت ایمانداری سے مکمل کیا اور آئین ساز ادارے سینٹ سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ سرائیکی صوبے کا بل پاس ہوا۔ ایک لحاظ سے ہماری حکومت نے سرائیکی صوبے کے مسئلے کو آئینی تحفظ دیا اگر (ن) لیگ اُس وقت ہمارا ساتھ دیتی تو آج صوبہ بھی بن چکا ہوتا اور وسیب کو شناخت بھی مل چکی ہوتی مگر ہم صوبے سے آج بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ پیپلز پارٹی کو جونہی اسمبلی میں اکثریت ملی سرائیکی صوبہ پیپلز پارٹی ہی بنائے گی۔ یہ وعدہ ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری کا بھی ہے اور یوسف رضا گیلانی بھی اس فورم سے صوبے کے عہد کی آپ کے سامنے تجدید کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے صوبے کے قیام کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ صوبہ کمیشن تو کیا اس حکومت نے صوبہ کمیٹی بھی نہیں بنائی۔ صوبے کے نام پر مذاق کر رہے ہیں۔ ملتان اور بہاولپور سیکرٹریٹ کے نام پر تفریق پیدا کر رہے ہیں یہ صوبہ بنانے نہیں بلکہ صوبے کا مقدمہ بیگاڑنے اور وسیب کو ایک دوسرے سے لڑانے والی بات ہے۔ میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ تحریک انصاف نے وعدہ صوبے کا کیا، منشور میں بھی لکھا کہ ہم صوبہ بنائیں گے۔ عمران خان نے تحریری طور پر لکھ کر دیا کہ سو دن میں صوبہ بنائیں گے۔ میرا سوال ہے کہ اب سول سیکرٹریٹ کہاں سے نکل آیا؟ سول سیکرٹریٹ کی تو بات ہی نہیں ہوئی اور سول سیکرٹریٹ صوبے کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ حکومت صوبے کے قیام کیلئے اقدامات کرے۔ پیپلز پارٹی ایوان میں صوبے کا ساتھ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ سول سیکرٹریٹ کے مسئلے پر حکومت کی غیر سنجیدگی ملاحظہ کریں کہ سول سیکرٹریٹ کو ملتان، بہاولپور دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد اب کہا جا رہا ہے کہ سول سیکرٹریٹ کے ارکان ڈی جی خان میں بھی بیٹھیں گے۔ یہ بہت بڑا مذاق ہے جو کہ سرائیکی خطے کے عوام کیساتھ کیا جا رہا ہے۔ اس مسئلے کو بھی مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ ایک صوبے کے چار سیکرٹریٹ ہوں گے تو ظاہر ہے لوگوں کو ایک جگہ کی بجائے چار جگہوں پر دھکے کھانا پڑیں گے اور اگر پوٹھوہار اور پنڈی والوں نے بھی اس طرح کے مطالبات شروع کر دیئے تو اس کا کیا بنے گا؟ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے ایک بھی مسئلہ حل نہیں کیا جبکہ سینکڑوں مسائل کھڑے کر دیئے ہیں۔ صوبوں کی خود مختاری کوبھی چھیڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ موجودہ برسراقتدار جماعت کے رہنمائوں کو جمہوری اقدار کا علم نہیں، بہت بڑا اقتدار ان کو دلایا گیا ہے مگر یہ پھر بھی مطمئن نہیں۔ پارلیمانی طرز حکومت کی بجائے یہ لوگ ایوب خان والے واحدانی طرز حکومت کے بارے میں سوچتے نظر آتے ہیں۔ مگر پاکستان پیپلز پارٹی ہر غیر جمہوری اور غیر پارلیمانی سوچ کے خلاف مزاحمت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ مجھے اپنے وسیب سے محبت ہے۔ وسیب کی سرائیکی زبان سے محبت ہے۔ میں نے اس کا اظہار پارلیمنٹ میں اپنی تقریر کے دوران کیا تھا۔ مجھے فخر ہے کہ بحیثیت وزیر اعظم میں نے وسیب کی محرومی کے خاتمے کیلئے بہت سے اقدامات کئے لیکن مجھے زیادہ خوشی یہ ہے کہ میں نے بہائوالدین زکریا یونیورسٹی کو ایک سو فارن سکالرز شپ دی جس کے باعث ہمارے وسیب کے لوگ باہر سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ میں نے بہائوالدین زکریا یونیورسٹی کے سرائیکی شعبہ کو سرائیکی زبان و ادب پر تحقیق کیلئے تین کروڑ روپے کی خطیر رقم دی۔ اگر میری حکومت ختم نہ ہوتی تو وسیب میں ترقی کا انقلاب آچکا ہوتا لیکن میں نے وسیب کو جو کچھ دیا قیام پاکستان کے بعد کوئی بھی حکومت اتنا کچھ نہ دے سکی تھی۔ یہ اس علاقے کا حق تھا کہ اُسے محروم رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آخر میں یہ کہوں گا کہ یقینا آپ کا مطالبہ ہو گا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنی تنظیم کا نام جنوبی پنجاب کی بجائے سرائیکی وسیب رکھے اس سلسلے میں ہم اپنی جماعت میں بات کریں گے کہ پاکستان پیپلز پارٹی میں تمام فیصلے جمہوری انداز میں ہوتے ہیں۔ مقررین نے ٹانک، ڈی آئی خان کے بارے میں بہت سے خدشات کا ذکر کیا۔ تحریک انصاف گزشتہ 8 سال سے خیبرپختونخواہ میں برسراقتدار ہے۔ موجودہ حکومت کو ٹانک اور ڈی آئی خان میں بسنے والے سرائیکیوں کے مسائل حل کرنے چاہئیں اُن کی تہذیب، ثقافت اور اُن کے جذبات و احساسات کا احترام کرنا چاہئے اور وہ مجوزہ سرائیکی صوبے میں آنا چاہتے ہیں تو اُن کو یہ حق ملنا چاہئے۔ ایک بار پھر شکریہ ادا کروں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں