14

عباسیہ کیمپس کی اراضی خاتون کے نام منتقل،یونیورسٹی انتظامیہ کی اپیل خارج

بہاولپور،سپریم کورٹ آف پاکستان میں اسلامیہ یونیورسٹی کے عباسیہ کیمپس کے حوالے سے یونیورسٹی کی اپیل خارج، اراضی مدعی خاتون اور ورثا کے نام منتقل کر دی گئی،صدر مملکت عارف علوی نے بھی وارثان کو انصاف دینے کا حکم دیدیا،مدعی خاتون کے حق میں فیصلے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے اراضی کی حد بندی کیلئے ایماندار ریونیو افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی ڈپٹی کمشنر کو درخواست دیدی،جنوبی پنجاب کی تاریخی و عظیم الشان درسگاہ اسلامی یونیورسٹی بہاولپور کے عباسیہ( اولڈ) کیمپس کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس کیمپس کی اراضی مقامی علوی فیملی کی ملکیت ہے اوراس فیملی کی بزرگ خاتون عائشہ بی بی کی جانب سے صدر پاکستان عارف علوی کو ایک تحریری درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سائلہ و دیگر وارثان کی طرف اپنے آباؤ اجداد کی جانب سے ملنے والی جائیداد پر اسلامیہ یونیورسٹی (اولڈ کیمپس) پر ناجائز قبضے کیخلاف عدالت سول کورٹ میں کیس دائر کیا گیا جس پر عدالت نے 22 فروری 1997 کو وارثان کے حق میں ڈگری کردیا جس کے خلاف اسلامیہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اپیل دائر کی جو 30 مارچ 2001 کو خارج ہوگئی ۔بعدازاں عدالت عالیہ میں کیس دائر کیا گیا جو دوبارہ 9 جون 2015 کو خارج ہو گیا اور عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر تحریر کیا ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی کا رقبہ مدعیہ و وارثان کی ملکیت کے متعلق کوئی بھی ثبوت اسلامیہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے فراہم نہیں کیا گیا جس پر رقبہ متدعویہ ریونیو اتھارٹیز نے وارثان/ سائلہ کے نام انتقال کردیا ۔درخواست میں صدر پاکستان سے اپیل کی گئی عدالت عالیہ و سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں انکو انصاف دلایا جائے ہمارے نام رقبہ انتقال ہو چکا ہے اس کے باوجود موروثی حق سے محروم رکھا جارہا ہے جس پر صدر پاکستان کی جانب سے بہاولپور کے انتظامی افسران کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی گئی تھی کہ معاملے کی مکمل چھان بین اور تحقیقات کرکے وارثان کو انصاف دلایا جائے اور اسکی رپورٹ صدر مملکت کے آفس بھجوائی جائے۔ذرائع کے مطابق عدالتی احکامات کے بعد رجسٹرار اسلامیہ یونیورسٹی کی جانب سے 31 مئی 2021 کو ڈپٹی کمشنر کو لکھے گئے مراسلے میں درخواست کی گئی ہے کہ حد بندی کے پراسس کیلئے ایماندار قابل ریونیو افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے ۔تاہم اس حوالے سے یونیورسٹی ترجمان کا کہنا تھا کہ میں عدالتی معاملات پر تبصرہ نہیں کر سکتا تاہم یونیورسٹی نے عدالت میں موثر انداز میں اپنا موقف پیش کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں