8

غیر قانونی اعضاء کی پیوند کاری میں پاکستان دنیا میں سرفہرست

ملتان،عالمی سطح پر ایسے مریض جن کو گردے کی ضرورت ہوتی ہے ان کو ہسپتالوں میں سالوں سال انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے،جس کی وجہ سے لوگ غیر قانونی طریقوں سے اعضا حاصل کر رہے ہیں،برطانیہ کے محکمہ صحت کے مطابق اعضا کے ٹرانسپلانٹس کے لیے پاکستان سرفہرست ہے،انسانی اعضا کی پیوندکاری کے حالے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ہر ماہ کوئی ایک سو غیر قانونی ٹرانسپلانٹس کیے جا رہے ہیں،اس غیر قانونی کام میں اس قسم کے آپریشنز فی مریض پچاس سے ساٹھ لاکھ تک میں کیے جاتے ہیں،اور وہ لوگ جن کے گردے زبردستی نکالے جاتے ہیں ان کو صرف معمولی سی رقم دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنا منہ بند رکھیں۔بدقسمتی سے بچھلے کئی سالوں سے اعضا کی غیر قانونی تجارت پاکستان میں شروع ہو گئی ہے۔ لاہور اور راولپنڈی میں بہت سارے خفیہ ہسپتالوں میں غیر قانونی طور پر اعضاء کی پیوند کاری کی جار ہی ہے جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اجنبی لوگوں کو اپنا گردہ بیچنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ مالی مسائل کا شکار لوگ پیسہ لے کر گردہ بیچ دیتے ہیں۔ بد قسمتی سے پاکستان کو دنیا کا سب سے بڑا گردہ بازار مانا جاتا ہے،2010 میں پاکستان میں گردوں کی تجارتی بنیاد پر عطیے کو غیر قانونی قراد دیا گیا تھا لیکن یہ دھندا اب بھی جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلب اور رسد میں فرق کو پورا کرنے کے لیے غیر قانونی دھندا کرنے والے میدان میں آ گئے ہیں،لیکن نشانہ بننے والے متاثرین کا یہ سوال ہے کہ کیا ان کی بہتر زندگی کی امیدیں کبھی پوری ہو سکیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں