5

فارمرزایڈوائزری کمیٹی سی سی آر آئی ملتان کا چوتھا اجلاس،کپاس کی نگہداشت بارے سفارشات پیش کی گئیں

ملتان(کامران سعید سے)سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں آج فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کاچوتھااجلاس ڈائریکٹر سی سی آر آئی ڈاکٹر زاہد محمود کی صدارت میں ہوا،اجلاس میں ملک بھر میں کپا س کی کاشت سے متعلق جائزہ لیا گیا،اجلاس میں کپاس کے کاشتکاروں کی رہنمائی وتربیت کے لئے پندرہ روزہ کپاس کی نگہداشت سے متعلق31جولائی تک کی سفارشت پیش کی گئیں،فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ کاشتکار متوقع بارش کی صورت میں آبپاشی سے پرہیز کریں یا شام کے وقت ہلکی اور مناسب آبپاشی کریں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسی فصل جس میں 8سے10ٹینڈے کھل چکے ہوں اس کی چنائی متوقع بارش سے پہلے پہلے کر لیں تاکہ اچھی کوالٹی کی کپاس حاصل ہوسکے جبکہ کاشتکارفصل کی چوٹی پرسفید پھول آنے کی صورت میں پانی کا دورانیہ کم کریں۔ایسے کاشتکار جن کی کپاس کی فصل اڑھائی فٹ یا اس سے زائد تک ہو چکی وہ ٹریکٹر کے ذریعے فصل کی گوڈی کرنے سے اجتناب کریں۔ یا ایسے آلات استعمال کریں جس سے فصل ٹوٹنے کا اندیشہ نہ ہو۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ بیج کے حصول کے لئے لگائی گئی کاشتہ کپاس کی چنائی مکمل کرنے کے بعد چنی گئی کپاس کو خشک کرکے اس کی جننگ جلد ازجلد مکمل کرلیں اور جننگ کے بعد دوبارہ دھوپ لگوا کر خشک کر لیں۔کاشتکار بیج کے حصول کے لئے لگائی گئی کپاس کی قسم کے علاوہ کھیت سے دوسری اقسام کے پودے الگ کرلیں یعنی روگنگ کے عمل سے کپاس کے خالص پن کو یقینی بنائیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کاشتکاروں کو چاہئیے کہ وہ اچھے اگاؤ والے صحت مند اور معیاری بیج کی جرمینیشن معلوم کرنے کے بعد انہیں خشک کرکیپٹ سن یا سوتی کپڑے کے تھیلوں میں ڈال کر ہوادار جگہ پر محفوظ بنا لیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کپاس کی فصل پر جب ٹینڈے بننے کا مرحلہ شروع ہوتا ہے تو پودے کی غذائی ضروریات کے ساتھ آبپاشی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے او اس مرحلہ پر کھاد اور پانی کی کمی سیٹینڈے کا سائز چھوٹا ہو کر رہ جاتا ہے۔ ٹینڈے بننے کے مرحلہ میں کم از کم ایک بوری یوریا یا کیلشیم امونیم نائٹریٹ) گوارا کھاد(یا امونیم سلفیٹ ایک بوری فی ایکڑ کے حساب سے استعمال کریں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ٹینڈے کے سائز میں اضافہ اور پھل کے کیرے کی شرح کو کم کرنے کے لئے زنک سلفیٹ300گرام،بورک ایسڈ200گرام اور میگنیشیم سلفیٹ300گرام100لٹر پانی میں حل کرکے سپرے کیا جائے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ گلابی سنڈی سے متاثرہ پچھیتی فصل میں ڈوڈیوں کے آغاز پر کاشتکارپی بی روپس کا استعمال120تعداد فی ایکڑ کے حساب سے لگائیں یا جنسی پھندے6تا8 تعداد فی ایکڑ کے حساب سے کھیت میں لگائیں جبکہ سفید مکھی سے بچاؤ کے لئے کاشتکار 8تا 10 چپکنے والے پیلے رنگدار کارڈ yellow sticky trapes فی ایکڑ کے حساب سے کھیت میں لگائیں۔ اور سفید مکھی کی معاشی نقصان حد بڑھنے پر کاشتکارپائیری پراکسیفین400ملی لٹر یا فلونیکامیڈ80گرام بحساب100 لٹر پانی فی ایکڑ استعمال کریں سبز تیلہ ایک تا دو فی پتہ معاشی حد پہنچنے پر کاشتکار فلونیکامیڈ60گرام یا ڈائی نوٹوٹیفرون100گرام یانا ئٹن پائرم 50گرام کی مقدار بحساب 100لٹر فی ایکڑ استعمال کریں. اور اگر سبز تیلے کے ساتھ تھرپس کا حملہ بھی موجود ہو تو کاشتکار فلو نیکا مڈ80گرام یا تھرپس کے حملہ کی شدت میں 10فی پتہ معاشی حد کی صورت میں کلورفن پائر125ملی لٹر یا سپنٹورام50ملی لٹر بحساب 100لٹر فی ایکڑ استعمال کریں۔ اور جہاں پر دیمک کے حملہ نظر آئے تو کپاس کے کاشتکار کھیت میں کلورپائریفاس بحساب ایک لٹر بذریعہ آبپاشی دیں،اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان ڈاکٹر محمدنوید افضل، ڈاکٹر ادریس خان،ڈاکٹر فیاض احمد،ساجد محمود اور شعبہ اینٹومالوجی سے سید اشفاق شاہ سائنٹفک آفیسر،جنید احمد ڈاہا سائنٹفک آفیسر اور مس شبانہ وزیر سائنٹفک آفیسر نے شرکت کی۔ فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آئندہ پانچواں اجلاس یکم اگست کو ادارہ ہذا میں منعقد ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں