13

فارمرز ایڈوائزری کمیٹی سی سی آر آئی ملتان کا پانچواں اجلاس،کپاس کی نگہداشت بارے 15 روزہ سفارشات پیش

ملتان(سٹاف رپورٹر)فارمرز ایڈوائزری کمیٹی سی سی آر آئی ملتان کا پانچواں اجلاس منعقد ہوا،سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں آج فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا پانچواں اجلاس ڈائریکٹر سی سی آر آئی ڈاکٹر زاہد محمود کی صدارت میں ہوا،اس اجلاس میں چاروں صوبوں کے کپاس کے کاشتکاروں کی رہنمائی وتربیت کے لئے پندرہ روزہ کپاس کی نگہداشت سے متعلق یکم اگست تا 15اگست تک کی سفارشات پیش کی گئیں،فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ کپاس کے کاشتکار متوقع بارش کی صورت میں کھیت میں پانی کے نکاس کا مناسب انتظام کریں، اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت کپاس کی فصل پر ڈوڈی،پھول اور ٹینڈے بننے کا عمل تیزی سے جاری ہے،لہذا کاشتکار اس وقت فصل میں کھاد اور پانی کی کمی نہ آنے دیں تاکہ پودوں کی بڑھوتری کا عمل جاری رہ سکے اور بھرپور پیداوار حاصل ہوسکے،جبکہ کپاس کے پودوں کی چوٹی پر سفید پھولوں کی موجودگی فصل کی بڑھوتری رک جانے کی علامت ہے جس کو کھاد اور آبپاشی سے قابو پایا جا سکتا ہے،بارش کی صورت میں کاشتکار ٓبپاشی سے گریز کریں اور ضرورت کے وقت مناسب اور ہلکی آبپاشی کریں،اور 15مئی کی کاشتہ فصل میں جڑی بوٹیوں کی تلفی کو یقینی بنائیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ بیج کے حصول کے لئے لگائی گئی کاشتہ کپاس کی چنائی مکمل کرنے کے بعد چنی گئی کپاس کو خشک کرکے اس کی جننگ جلد ازجلد مکمل کرلیں اور جننگ کے بعد دوبارہ دھوپ لگوا کر خشک کر لیں،کاشتکار بیج کے حصول کے لئے لگائی گئی کپاس کی قسم کے علاوہ کھیت سے دوسری اقسام کے پودے الگ کرلیں یعنی روگنگ کے عمل سے کپاس کے خالص پن کو یقینی بنائیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کاشتکاروں کو چاہئیے کہ وہ اچھے اگاؤ والے صحت مند اور معیاری بیج کی جرمینیشن معلوم کرنے کے بعد انہیں خشک کرپٹ سن یا سوتی کپڑے کے تھیلوں میں ڈال کر ہوادار جگہ پر محفوظ بنا لیں اور سٹور کی جگہ میں نمی کی مقدار12فیصد سے زائد بالکل نہ ہو، اجلاس میں بتایا گیا کہ کھادوں کے غیر متوازن استعمال سے پیداوار متاثر ہوتی ہے اس لئے کاشتکاروں کو چاہئیے کہ وہ عناصر کبیرہ وعناصر صغیرہ کا استعمال کریں،ٹینڈے کے سائز میں اضافہ اور پھل کے کیرے کی شرح کو کم کرنے کے لئے کاشتکارزنک سلفیٹ300گرام،بورک ایسڈ200گرام، میگنیشیم سلفیٹ300گرام اور 2کلوگرام یوریا100لٹر پانی میں حل کرکے سپرے کریں ،اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسی فصل جس میں پوٹاش یا کھاد نہیں ڈالی گئی یا ریتلی اور ٹیوب ویل سے سیراب شدہ زمینوں میں 10کلوگرام پوٹاشیم کھاد بذریعہ آبپاشی دیں۔ وائرس سے متاثرہ فصل کی بڑھوتری رک جاتی ہے لہذا ایسی فصل میں آدھی بوری یوریا بذریعہ آبپاشی دیں۔اجلاس میں کپا س کے کیڑے مکوڑوں سے متعلق سفارشات میں بتایا گیا کہ سبز تیلہ ایک فی پتہ معاشی حد پہنچنے پر کاشتکارڈائی نوٹوٹیفرون100گرام یانا ئٹن پائرم 60گرام یا فلونیکا مڈ60گرام کی مقدار بحساب 100لٹر فی ایکڑ استعمال کریں جبکہ تھرپس10فی پتہ معاشی حد پہنچنے پر کاشتکار کلورفن پائر150ملی لٹر یا سپنٹورام50ملی لٹر بحساب 100لٹر فی ایکڑ استعمال کریں۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کہیں کہیں پر امرکین سنڈی کا حملہ ٹکڑیوں کی صورت میں مشاہدہ میں آرہا ہے تو ا س صورت میں کاشتکار متاثرہ پودوں پر لیوفینوران 40ملی لٹر بحساب20لٹر پانی کی ٹینکی کے حساب سے متاثرہ پودوں پر استعمال کریں۔ جبکہ سفید مکھی سے بچاؤ کے لئے کاشتکار10 چپکنے والے پیلے رنگدار کارڈ yellow sticky trapes فی ایکڑ کے حساب سے کھیت میں لگائیں۔ اور سفید مکھی کی معاشی نقصان حد بڑھنے پر کاشتکارپائیری پراکسیفین400ملی لٹر یا) اسپائروٹیٹرامیٹ 125ملی لٹر+بائیو پاور250ملی لٹر( بحساب100 لٹر پانی فی ایکڑ استعمال کریں۔جلاس میں بتایا گیا کہ گلابی سنڈی سے متاثرہ فصل میں ڈوڈیوں کے آغاز پر کاشتکارپی بی روپس کا استعمال120تعداد فی ایکڑ کے حساب سے لگائیں یا جنسی پھندے8 تعداد فی ایکڑ کے حساب سے کھیت میں لگائیں۔ اسی طرح جہاں پر ڈسکی کاٹن بگ کا حملہ نظر آئے تو کاشتکارکلوتھیان ڈن200ملی لٹر بحساب لٹر فی ایکڑ بذریعہ ہینڈ سپریئر استعمال کریں،اور جہاں پر کپاس کی فصل کے پتوں کا رنگ کالا پڑ رہا ہو تو وہاں کاشتکار ٹیبوکونازول+ٹرائی فلوکسی سٹروبن کا مکسچر65گرام یاکاپرآکسی کلورائیڈ300گرام بحساب100 لٹر پانی میں فی ایکڑ کے حساب سے استعمال کریں،اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان ڈاکٹر محمد نوید افضل،ڈاکٹر محمد ادریس خان،ڈاکٹر فیاض احمد، مس صباحت حسین،ساجد محمود، الیاس سروراور جنید احمد ڈاہا سائنٹفک آفیسرنے شرکت کی۔ فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آئندہ چھٹا اجلاس16اگست کو ادارہ ہذا میں منعقد ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں