12

فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا تیسرااجلاس،کپاس کی کاشت سے متعلق جائزہ لیا گیا

ملتان،سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں آج فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا تیسرااجلاس ڈائریکٹر سی سی آر آئی ڈاکٹر زاہد محمود کی صدارت میں ہوا،اجلاس میں ملک بھر میں کپاس کی کاشت سے متعلق جائزہ لیا گیا،اجلاس میں کپاس کے کاشتکاروں کی رہنمائی وتربیت کے لئے پندرہ روزہ کپاس کی نگہداشت سے متعلق 15جولائی تک کی سفارشات پیش کی گئیں،فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ کاشتکار فصل کی چوٹی پرسفید پھول آنے کی صورت میں پانی کا دورانیہ کم کریں اور پچھیتی کاشتہ فصل میں جڑی بوٹیوں کی تلفی کا عمل یقینی بنائیں،متوقع بارش کی صورت میں آبپاشی سے پرہیز کریں اور اشد ضرورت کے تحت ہلکی آبپاشی کریں،ایسے کاشتکار جن کی کپاس کی فصل اڑھائی فٹ یا اس سے زائد تک ہو چکی وہ ٹریکٹر کے ذریعے فصل کی گوڈی کرنے سے اجتناب کریں،اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسے کاشتکار جنہوں نے مارچ ، اپریل میں بیج کے حصول کے لئے کپاس کاشت کی ہے انہیں چاہئے کہ وہ لگائی گئی کپاس کی قسم کے علاوہ کھیت سے دوسری اقسام کے پودے الگ کرلیں،یعنی روگنگ کے عمل سے کپاس کے خالص پن کو یقینی بنائیں اور اگردوسری اقسام کے پودوں کی تعداد2 فیصد سے زائد ہو توکاشتکار ہرگز بیج نہ بنائیں۔بیج کے لئے لگائی گئی کپاس میں متوازن کھادوں کا استعمال کریں اور پودوں کا درمیانی فاصلہ ڈیڑھ سے دو فٹ رکھیں جبکہ بیج کے لئے چنی گئی کپاس کو اچھی طرح خشک کرکے جلد از جلد جننگ کرلیں اور جننگ کے بعد بیج کو ہوادار اور محفوظ جگہ پر سٹور کرلیں،اجلاس میں بتایا گیا کہ جن کاشتکاروں نے سی آئی ایم663اور سی آئی ایم632کپاس کی قسم کاشت کی ہیں اور زرخیز زمینوں میں اگر ان کا قد ضرورت سے زائد بڑھ گیا ہو تو کاشتکار پھل لگنے سے پہلے پانی کا وقفہ بڑھا دیں کیونکہ ان اقسام میں پانی کی کمی کو برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور فروٹ لگنے کے بعد کاشتکار سفارش کردہ کھاد اور ضرورت کے تحت پانی کا استعمال کریں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ کاشتکار جون کاشتہ فصل کو چھدرائی کے بعد ایک بوری ڈی اے پی بذریعہ آبپاشی دیں یا چھٹہ کرکے گوڈی والا ہل چلادیں۔15اپریل سے قبل کاشت کی گئی فصل میں آدھی بوری یوریا یا متبادل نائٹروجنی کھادیں بذریعہ آبپاشی دیں۔ کھاد کی مقدار میں کمی بیشی فصل کے قد،پودے پر موجود فروٹ اور زمین کی زرخیزی کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں۔ اسی طرح 15مئی یا اس کے بعد کاشت کی گئی فصل میں ڈی اے پی بحساب ایک بوری یا متبادل فاسفورس کھاد مکمل کریں۔ ایسی فصل جو 10سے15ٹینڈے فی پودا بنا چکی ہے اس میں آدھی تا ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا پوٹاشیم کلورائیڈ ڈالیں تاکہ پودے بیماریوں اور موسم کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔ جو فصل مناسب قد اختیار کر چکی ہے اور پھل اٹھاچکی ہے تو کاشتکار اس فصل میں یوریا کا استعمال نہ کریں ورنہ پھل کے کیرے میں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ کاشتکار چھوٹے قد کی فصل میں آدھی بوری یوریا فی ایکڑ کے حساب سے استعمال کریں اور موجودہ گرمی کی حالت کو دیکھتے ہوئے فصل کو مناسب پانی دیں۔ ایسی زمینیں جہاں زنک اور بوران کی کمی ہے وہاں کاشتکار 3تا6کلوگرام زنک سلفیٹ اور کم ازکم 2کلوگرام بوران بذریعہ آبپاشی دیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ سبز تیلہ ایک تا دو فی پتہ معاشی حد پہنچنے پر کاشتکار فلونیکامیڈ60گرام یا ڈائینوٹوٹیفرون100ملی لٹر یانا ئٹن پائرم 50گرام کی مقدار بحساب 100لٹر فی ایکڑ استعمال کریں، اور اگر سبز تیلے کے ساتھ تھرپس کا حملہ بھی موجود ہو تو کاشتکار فلو نیکا مڈ80گرام یا تھرپس کے حملہ کی شدت میں 10فی پتہ معاشی حد کی صورت میں کلورفن پائر125ملی لٹر یا سپنٹورام50ملی لٹر بحساب 100لٹر فی ایکڑ استعمال کریں۔ جبکہ سفید مکھی سے بچاؤ کے لئے کاشتکار 8تا 10 چپکنے والے پیلے رنگدار کارڈ yellow sticky trapes فی ایکڑ کے حساب سے کھیت میں لگائیں،گلابی سنڈی کے مانیٹرنگ کے لئے ایک جنسی پھندا فی 5ایکڑ بلاک کے لئے استعمال کریں،جبکہ گلابی سنڈی کی مینجمنٹ کیلئے کاشتکار6تا8جنسی پھندے فی ایکڑ کے حساب سے لگائیں یا پھر کپاس کے کاشتکار پی بی روپس بحساب120روپ فی ایکڑ لگائیں،اجلاس میں بتایا گیا کہ زیادہ گرمی میں فصل مرجھاؤ کے مرض کا شکار ہو سکتی ہے اس لئے فصل کومناسب آبپاشی دیں،مرجھاؤ کی شدت کی صورت میں کاشتکار میتھائل تھائیومینیٹ 300گرام یا میٹالیگزل ایم +مینکوزب کا مکسچر300گرام بذریعہ آبپاشی استعمال کریں،اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان ڈاکٹر محمدنوید افضل، ڈاکٹر ادریس خان،ڈاکٹر فیاض احمد،ساجد محمود، مس صباحت حسین اور ڈاکٹر رابعہ سعیدنے شرکت کی۔ فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آئندہ چوتھا اجلاس 16جولائی کو ادارہ ہذا میں منعقد ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں