4

فورٹ منرو میں امن وامان کی ناگفتہ بہ صورتحال


جنوبی پنجاب کے پر فضا مقام جسے اس علا قے کا مری بھی کہا جا تا ہے اس وقت انتہائی مشکل حالا ت سے گزر رہا ہے،فورٹ منرو کے بارے کئی دھا ئیوں سے اہل قلم نے لکھا ، وہاں کی خوبصورتی ڈھنڈی ہوائوں پہاڑوں جھرنوں کے بارے میں لکھتے رہے۔اسی وجہ سے دور دراز علا قو ں سے سیا ح آتے رہتے ہیں۔ باالخصوص جنو بی پنجاب اور زیر یں سندھ سے تعلق رکھنے والے صا حبان ثروت نے اپنے گھر بنا ئے اور گر میوں کے ما ہ رمضان المبارک کے روزے اور اپنے گھر والوں کے سا تھ گر میوں کے تین ما ہ گزار کے وا پس اپنے گھروں کو لوٹ جا تے ۔ فورٹ منرو میں ہو ٹل قا ئم ہوئے، گیسٹ ہا ئوسز کا قیام عمل میں آیا تمام محکمہ جا ت کے ریسٹ ہا ئوسز بنائے گئے۔ سب سے اہم مسئلہ پا نی کا تھا جسے سا بق صدر پا کستان سر دار فاروق احمد خان لغاری نے بلو چستان حکومت سے بات چیت کر کے فورٹ منرو اور قریبی علا قوں کو سیراب کیا۔ اس سے قبل علا قہ کھر میں ٹیوب ویل کے ذریعے پانی کو پمپ کر کے فورٹ منرو اور نزدیکی علا قوں کو مہیا کیا جا تا تھا،بلو چستان سے پانی کے اس انتظام پر نہ صر ف بھاری اخرا جات اٹھے بلکہ اس سکیم کو چلا نے کے لیے بجلی کے اخرا جات بھی ہوتے تھے۔ اس سکیم کو کبھی پبلک ہیلتھ انجینئر نگ ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے سنبھا لا تو کبھی فورٹ منرو ڈویلپمنٹ اتھا رٹی تشکیل دی گئی،کوہ سلیمان کے علا قوں پر تحصیل بنائی گئی جو جملہ انتظامات کے حوالے سے نا کام رہی۔ مو جودہ حکومت کے تین سا ل اس علاقہ کیلئے ایک عذاب سے کم نہیں ہیں ۔ اس کو وہ سلیمان تحصیل کے نا ظم سر دار عثمان خان بزدار پنجاب کے وزیر اعلی منتخب ہوگئے لیکن اس علاقہ با الخصوص فورٹ منرو اور قریبی علا قوں کیلئے مشکلات پیدا ہوئیں ۔ فورٹ منرو اور قریبی علا قوں میں پا نی ، بجلی نہیں ہے جو بنیا دی ضروریات ہیں پورے علا قہ میں صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے،امن وامان کی صورت حا ل نا گفتہ بہ ہے،شراب ، جوا اور غیر اخلا قی کام بلا خو ف و خطر ہو رہے ہیں ایسے لو گوں کیلئے نہ تو پا نی ضرورت ہے اور نہ ہی بجلی کی انہیں ضرورت ہے ۔ اس علا قہ میں لاء اینڈ آرڈر کی خراب حا لات کی وجہ سے مقا می افراد کے علاوہ سیا حوں کو مشکلات در پیش ہیں جو اپنے گھروں کو بیچنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ۔ ایک اندازے کے مطا بق 80فیصد سے زا ئد گھر رہائش گاہیں برائے فروخت ہیں،مقامی دکانداروں کی حالت زار دید نی ہے، بجلی نہ ہونے کی وجہ سے دکاندارکاروباری لو گ انتہائی مایوس ہیں۔ سیا حوں کی آمد کم سے کم ہو رہی ہے۔ جس سے مقا می آبادی کا نقصا ن ہورہا ہے جن کا سا رادارومدار مو سم گر ما کے اس دو تین ماہ کے سیزن پر ہو تا ہے ۔ ایسی صورت حا ل میں رات کو بجلی نہ ہونے کی وجہ سے مچھر وں کا انسانوں پر حملہ ہو نا ضروری ہو جا تا ہے ۔ اس طر ح ملیریا پھیلنے کا خد شہ بڑھ رہا ہے ۔ اگر چہ پا نی ٹینکر ز کے ذریعے مہیا کیا جا رہا ہے اور مقا می آبادی ہی پانی مہیا کرکے ثواب دارین حا صل کر رہے ہیں تا ہم تین ہزار تک ٹینکر مہیا کیا جا تا ہے اور اس با ت کا بھی یقین نہیں ہو تا کہ پا نی صا ف ہے یا آلو دہ ۔پنجاب حکومت کے سر براہ سر دار عثمان بزدار فورٹ منرو کے علا وہ دیگر مقا مات پر سڑکوں کے جا ل پھیلا رہے ہیں اور کو شش ہے کہ بارتھی اور قریبی علا قہ جا ت کو نئے سرے سے تر قی دی جائے اس طر ح نئے علا قے ترقی کریں گے اپنے بلو چوں کو ٹھیکے بھی ملیں گے اور انہیں دیگر ٹیکسوں سے چھوٹ بھی ملے گی اور ٹیکسوں میں چھوٹ والی رقم کسی شخصیت کو دوسرے ہا تھ سے وصول ہو جا تی ہے ۔ جہاں تک ایم این اے اور علاقے کے ایم پی اے کا تعلق ہے وہ بھی صورت حا ل سے لا تعلق نظر آتے ہیں ۔ انکے پروگرام کے مطا بق اگلے سا ل تک صورتحا ل بہتر بنانے کا عزم رکھتے ہیں تا کہ نئے انتخابات سے پہلے مقا می آبادی کو خو ش کیا جا سکے۔ فورٹ منرو کی خوبصورتی ، سیا حت کو نظر انداز کرکے انفرا دی طور پر بور کر کے پانی مہیا کر نے کے پروگرام بنئے جا رہے ہیںتاکہ اجتماعی کام نہ ہو سکیں۔ وہ جانتے ہے کہ سیا حوں کے ووٹ تو نہیںہو تے مقا می آبادی ان سے را ضی ہو جا ئے گی۔ اس حکمت عملی سے یہ خطہ فورٹ منرو تبا ہی کی طرف چلا جائیگا جس کے ثرات جلد نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔حکومتی ایم این اے اور ایم پی اے کی خا موشی سے ایک اندازہ ہو رہا ہے کہ لغاری قوم کو پریشان کیا جائے تاکہ وہ ان کے سا منے گڑ گڑا نے پر مجبور ہوجائیں۔ دوسری طر ف لغاری اقوام کے سر دار ران کی خا موشی بھی معنی خیز ہے اور ان کی خا مو شی کا مقصد بڑا واضع ہے کہ۔اگر لغاری سر داران کو ووٹ نہیں ملتے تو پھر انہیں کیا!۔ حالا نکہ لغاری سردراران کو قیادت کر نی چا ہیے تھی تاکہ مقا می آبادی اور بلو چوں کے دکھ درد کا مداوا ہو سکے۔ پنجاب حکومت اگر دیگر مقامات کو سیا حت کیلئے بہتر بنانا چا ہتے ہیں تو ضرور کریں لیکن یہ یاد رکھیں وقت بہت تھوڑا ہے وہ مقامات بھی ترقی نہیں کر پائیں گے اور مو جودہ فورٹ منرو اپنی عظمت رفتہ رفتہ کھو چکا ہو گا۔ بارڈر ملٹری پولیس کو پنجاب پولیس میں ضم کیا جائے اور اسکے اثر رسو خ سے نکال پنجاب حکومت اور ضلع ڈیرہ غازیخان کا حصہ بنا یا جائے تو بہتری پیدا ہو گی ۔ شا ید منشیات ، جوئے کے اڈوں کا خا تمہ ہو اور امن اور امان کی صورت حا ل بہتر ہو سکیں۔
بشکریہ نوائے وقت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں