23

قتل کیس میں بے گناہ،ایس پی کینٹ کے تبادلے سے بیانیہ درست ثابت ہوا،کامران عامر نے گناہ گار بنانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی،شہزاد مقبول بھٹہ

ملتان(سٹاف رپورٹر)سابق مسلم لیگی ایم پی اے پیر زادہ میاں شہزاد مقبول بھٹہ نے کہا ہے کہ ایس پی کینٹ کامران عامر خان کے تبادلے سے میرا بیانیہ درست ثابت ہوا،ایس پی کینٹ کامران عامر خان ماتحت پولیس ملازمین سے خالی ضمینوں پر دستخط کروا کر اس پر تحریر اپنی مرضی سے لکھتے تھے اور انہوں نے مجھے گناہ گار بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،حالانکہ آج تک انہوں نے اشفاق قتل کیس کے مدعی اور ملزم فریقین کو آمنے سامنے تک نہیں بٹھایا،غیر قانونی طور پر کمسن بیٹے اور بھیجے کو 24 گھنٹے تک ناجائز حراست میں رکھا،انہوں نے جاری بیان میں کہا ہے کہ 18 مئی کو مقدمہ درج ہوا اور مزکورہ ایس پی نے 12 گاڑیوں پر مشتمل نفری کے ہمراہ گھر داھاوا بولا،اس صورتحال پر ہر پلیٹ فارم پر انصاف کیلئے دروازہ کھٹکھٹایا تو ہر جگہ ایس پی نے جان بوجھ کر وقوع کو غلط رنگ دیا،انہوں نے کہا کہ وہ پی پی 212 اور این اے 154 میں ہمیشہ غریبوں اور بے سہارا لوگوں کے ساتھ سپورٹ کرنے کی وجہ سے ہر دلعزیز ہیں جو بات سیاسی مخالفین کو پسند نہیں تھی اور اسی وجہ سے انہیں اور ان کے بھائی اظہر مقبول بھٹہ کو ناجائز کیس میں پھنسایا گیا ہے،جو انصاف کا گلہ گھوٹنے کے مترادف ہے، انہوں نے کہا کہ ایس پی کامران عامر نے جس گھر پر ریڈ کیا ان کی گندم ، کپڑے اور جوتیاں تک اٹھا کر ساتھ لے گیا اور وہ آج بھی ان کی تحویل میں ہے،انہوں نے کہا کہ اشفاق قتل کیس کی شفاف تحقیقات کی جائیں تو اسکا کھر امشتاق کالروعرف مشتاق باتا کے گھر سے نکلے گا،انہوں نے کہا ہے کہ میرے قائد صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں اور میں بھی جھوٹے ہتھکنڈوں سے نہیں ڈرتا،میں انشاء اللہ سرخرو ہوں گا۔ مسلم لیگ (ن) کا کارکن ہوں چاہوں تو ملتان بلاک کر دوں لیکن عوام کو مشکلات میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ میرے اوپر بنائے گئے کیس کا ٹرائل میڈیا کے سامنے کیا جائے تاکہ لوگوں کو حقائق پتہ لگ سکیں ۔ انہوں نے مشتاق باتا کو بھی شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں