35

لگتا ہے وزیر اعلی کینٹ اور صدر ڈویژزن میں فرق نہیں کرپائے؟؟؟

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نےڈی جی ایم ڈی اے اور ایس پی کینٹ ڈویژن ملتان کے اچانک تبادلے کے احکامات جاری کر کے اپنی ایگزیکٹو پاورز کا شو آف کیا۔ایم ڈی اے کے ڈی جی پر تو بدعنوانی کے الزامات کے ساتھ اختیارات کےناجائز استعمال کا الزام بھی ہے مگر ایس پی کینٹ کامران خا ن پر اس نوعیت کا کوئی الزام نہیں لگایا جاسکا تاہم اگر کوئی بات ہے تو اسے سامنے لایا جانا چاہیے۔ایس پی کینٹ کے تبادلے پر سب ہی حیران ہیں اور مزے کی بات ہے کسی اعلی افسر ان تک کو اس بات کا علم نہیں کہ ایسا کیوں ہوا ۔یہ تبادلہ شائد کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے احکامات شائد کسی دوسرےڈویژن کے ایس پی کے بارے میں تھے اور آکسی اور کے گئے ،لگتا ہے وزیر اعلی کینٹ اور صدر ڈویژزن میں فرق نہیں کرپائے۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہیں درست بریف نہیں کیا گیا بظاہر تو ایسا کوئی غیر قانونی فعل یا عمل نظر نہیں آرہا جس کی وجہ سے اتنا بڑا فیصلہ اچانک کر کے اس پر عملدر آمد بھی کرادیا گیا۔
ضلع میں اس وقت وارداتوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اورراہ زنی روز برو ز بڑھ رہی ہے تھانوں میں سفارشی تھانیداروں اور اہلکاروں کی بھرمار ہے واردات کے بعد لکیر بھی پوری طرح صرف دکھانے کے لئے بھی پیٹی نہیں جارہی ۔ایک اور بات جو بہت اہمیت رکھتی ہے وہ یہ کہ پولیس سروس کاونٹر کا نظام اور اس پر کی گئی کال پر عملدرآمد انتہائی سستی کا شکار ہے اس طرف توجہ بلکل نہیں دی جارہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں