9

لینڈ ریکارڈ سنٹر میں رشوت ستانی،سیکڑوں جعلی انتقالات،خزانے کو کروڑوں کا نقصان

بیٹ ظاہر پیر،سیکڑوں انتقالات فرضی اور جعلی درج‘ لاکھوں روپے رشوت لیکر قومی خزانے کوکروڑوں روپے کا نقصان‘ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر شیخ بھی بے بس۔تفصیل کے مطابق لینڈ ریکارڈ سینٹر لوٹ مار اور رشوت کاگڑھ بن چکا ہے،جہاں پر سیکڑوں جعلی اور فرضی انتقالات کئے گئے ہیں وہاں پر ترنڈہ محمد پناہ شبو شاہ مارکیٹ کی بیک سائیڈ میں اقبال ٹاؤن قائم کیا گیا جو کسی ادارے سے بھی منظور شدہ نہ ہے اقبال ٹاؤن کے مالکان محمد اقبال اور محمد اصغر نے لیاقت پور لینڈ ریکارڈ سینٹر کیاے ڈی ایل آرشیخ عطاء اللہ اور انتقال کنندگان محمد افضل،محمد نوید کے ساتھ مل کرلاکھوں روپے کی مبینہ رشوت دے کر تمام رقبے کو زرعی انتقال کراکے آگے پلاٹوں کی صورت میں فروخت کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر اقبال ٹاؤن کے مالکان قانون کے مطابق فیسوں کی ادائیگی کرتے تو سرکاری خزانے میں ایک کروڑ بیس لاکھ روپے پہنچتے لیکن شیخ عطاء اللہ کی مہربانیوں سے چند لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے گئے جمع کرائی گئی رقم سے کہیں زیادہ شیخ عطاء اللہ کی جیب میں رقم چلی گئی اسی طرح بقیہ آفیسران اور ملازمین نے بھی اس بہتی کنگا میں خوب نہایاشیخ عطاء اللہ اقبال ٹاؤن سے مالا مال ہو گیا جبکہ سرکاری خزانے کو کنگال کرکے رکھ دیا فراڈ اور دھوکہ دہی سے معمولی فیس اقبال ٹاؤن والوں سے جمع کروائی اس حوالے سے مزید انکشاف سامنے آیا کہ اسسٹنٹ کمشنر آفس لیاقت پور میں تعینات ایک کلرک نے بھی اس ٹاؤن سے خوب کمایا اور شیخ عطاء اللہ کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں