7

لیہ،25 ارب ما لیت کی رہائشی و کمر شل اراضی کا انتقال بوگس قرار

لیہ،ڈسٹرکٹ کلکٹر کا لینڈ مافیا کو لیہ کی تاریخ کا بڑا جھٹکا،کالج روڈ پر واقع شہزاد کالونی کی قانونی حیثیت بارے بڑا فیصلہ ، 25 ارب مالیتی سکنی و کمرشل اراضی کا انتقال بوگس قرار ، زمین محکمہ ہائوسنگ کے نام منتقل اور واگذار کرانے کا حکم جاری ، سابق پارلیمنٹرین کی ’’ لال حویلی ‘‘ سیکرٹریٹ سمیت سیکڑوں کوٹھیاں ، مارکیٹیں ، پلازے سب زد میں آگئے ، ڈاکٹر عمران لودھرا بنام نزہت سرور کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا ، سول کورٹ کے حکم امتناعی کو دعویٰ استقرار حق ظاہرکرکے فراڈ سے زمین کا انتقال کرانے ، ایک کے بعد دوسری جگہ اراضی ایڈجسٹ کروا کر دہرا استحقاق حاصل کرنیکا الزام ثابت ، محکمہ ہائوسنگ کے ارباب اختیار اور ریونیو افسران کی بھی ملی بھگت پکڑی گئی ،اے سی لیہ کو گھنائونی سازش میں ملوث افسران کیخلاف انکوائری کرکے عدالت کو رپورٹ بھجوانے کی بھی ہدایت ، تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ کلکٹر لیہ اظفر ضیاء ڈپٹی کمشنر کی جانب سے لینڈ مافیا کیخلاف لیہ کی تاریخ کا بڑا فیصلہ سنا یا گیا ہے ، ڈاکٹر عمران لودھرا بنام نزہت سرور کیس میں لیہ شہر کے وسط میں کالج روڈ پر واقع شہزاد کالونی کی 25 ارب روپے مالیتی سکنی و کمرشل اراضی کا انتقال دو بنیادوں پر غیر قانونی قرار دیکر بحق محکمہ ہائوسنگ منتقل کرنے اور رقبہ واگذار کرانے کا حکم جاری ہوا ہے ، ڈسٹرکٹ کلکٹر لیہ کی جانب سے جاری کئے گئے فیصلے میں مذکورہ 124 کنال اراضی جس پر شہزاد کالونی واقع ہے کا 3 جنوری 1985ء کو منظور ہونیوالا انتقال نمبری 1308 بوگس قرار دیدیا گیا ، فیصلے میں تحریر کیا گیا ہے کہ مسماۃ بہار خانم دختر محمد شفیع قوم شیخ نے بائعان عبدالرشید وغیرہ کے نام پر اپنے خرید کردہ حقوق چکوک نمبران 125 بی ٹی ڈی اے ، 128 اے ٹی ڈی اے ، 129 ٹی ڈی اے اور 137 ٹی ڈی اے میں سول کورٹ کی ڈگری کی بنیاد پر 247 کنال 9مرلے مورخہ 19-09-1970 ء کو اپنے نام منتقل کرائے ، یہ رقبہ ای اے سی او نے مورخہ 2 اگست 1971ء کو ایڈجسٹ کیا جس کا مثل حقیت 1979-80 میں اندراج 128 اے ٹی ڈے اے غیرہ میں عمل میں لایا گیا ، مذکورہ مثل ایڈجسٹمنٹ نمبری 124 کنفرم شدہ موضع سمرا تھل جنڈی کے خانہ کیفیت میں بسرخ قلمی مسماۃ بہار خانم مشتریہ کا اندراج درج ہے جبکہ نقل خسرہ گرداوری میں بھی فصل خریف اور فصل ربیع کی صورت قبضہ درج تھا ، جس کی نقول جاری کردہ 23 جولائی 1971ء عدالت میں پیش کی گئیں ، مذکورہ ایڈجسٹ شدہ رقبے میں سے بہار خانم وغیرہ نے 128 اے ٹی ڈی اے میں ایڈجسٹ شدہ اراضی کیخلاف اے سی آر ملتان کی عدالت میں اپیل دائر کی جس میں استدعا کی گئی کہ چونکہ چک منڈی ٹائون حالیہ شہزاد کالونی پر ان کا قبضہ موجود ہے تو 128 اے ٹی ڈی اے میں الاٹ کی گئی جگہ کی بجائے شہزاد کالونی کا 124 کنال رقبہ انہیں ایڈجسٹ کیا جائے ، اے سی آر ملتان نے 19 نومبر 1978ء کو مسماۃ بہار خانم کی اپیل خارج کی ، عدالت نے تحریر کیا کہ بروئے نوٹیفکیشن نمبر 5125-C مورخہ 16 نومبر 1951ء کی رو سے تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اپنا یہ رقبہ سکیم آبادکاری منڈی ٹائون لیہ کیلئے نہ صرف وقف کرچکا ہے بلکہ اسے محکمہ ہائوسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ کے نام انتقال نمبر 189 کے تحت منتقل بھی کیا جاچکا ہے ، تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اس رقبے کی قیمت بھی محکمہ ہائوسنگ سے وصول کرلی ہے ، سو اس طور یہ رقبہ کسی صورت بہار خانم کو ایڈجسٹ نہیں ہوسکتا۔ بہار خانم نے اے سی آر کے حکم کیخلاف ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب کو نگرانی نمبر451/79 دائر کی جو ممبر کالونیز بورڈ آف ریونیو پنجاب نے خارج کردی ، کیس ریمانڈ کرتے ہوئے ممبر کالونیز نے ای اے سی او لیہ کو حکم دیا کہ بہار خانم کو ممنوعہ حدود منڈی ٹائون کے باہر رقبہ ایڈجسٹ کیا جائے جیسا کہ وہ چک 128 اے ٹی ڈی اے میں حاصل کرچکی ہے ، ریمانڈ نگرانی پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے ای اے سی او لیہ نے 10 مئی 1979ء کو فیصلہ صادر کرتے ہوئے 128 اے ٹی ڈی اے میں سابقہ ایڈجسٹمنٹ کو بحال رکھا جو رقبہ ڈگری نمبر1501 مورخہ 19 ستمبر 1970ء کو حاصل کیا گیا تھا۔فیصلے کیخلاف بہار خانم کے وارثان کی جانب سے ہائیکورٹ میں بھی اپیل دائر کی گئی جو کہ خارج ہوئی ،128 اے ٹی ڈی اے کی زمین کے اخراج اور نئی جگہ ایڈجسٹمنٹ کیلئے سپریم کورٹ میں بھی اپیل دائر کی گئی ہے جو زیر سماعت ہے ، ڈسٹرکٹ کلکٹر نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا ہے کہ بہار خانم وغیرہ کے وارثان نے قبل ازیں فیصلے کیخلاف سول کورٹ سے حکم امتناعی کی ڈگری حاصل کی ، حکم امتناعی دوامی کی ڈگری کو دعویٰ استقرار حق ظاہر کرکے محکمہ ہائوسنگ کے ارباب اختیار اور محکمہ ریونیو لیہ کے سابقہ افسران سے مبینہ ملی بھگت و فراڈ کی بدولت مورخہ1994 28-11- کو انتقال نمبر 1308 چک منڈی ٹائون پراونشل گورنمنٹ بحق بہار خانم فراڈ سے درج کرالیاجو کہ بلا استحقاق اور دھوکہ دہی کا ارتکاب تھاکیونکہ بہار خانم قبل ازیں 128 اے ٹی ڈی اے میں یہ زمین حاصل کرچکی ہے۔ یوں ایک کے بعد دوسری جگہ اراضی ایڈجسٹمنٹ کرانا غیر قانونی ہے۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں محکمہ ہائوسنگ اور محکمہ محال کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری محکمہ ہائوسنگ کی 124 کنال اراضی جس کی مالیت 25 سے 30 ارب کے لگ بھگ ہے کی لینڈ مافیا کو منتقلی پر انتقال نمبر 1308 خارج کرنے اور زمین فی الفور واگزار کرانے کیلئے اسسٹنٹ کمشنر لیہ کو حکم جاری کیا ہے تاہم یہ تحریر کیا گیا ہے کہ واگزاری کے عمل میں اگر اس معاملے پر کسی معزز عدالت سے کوئی حکم امتناعی جاری شدہ ہو یا کوئی قانونی امر مانع ہو تو واگزاری سے گریز کیا جائے۔ڈسٹرکٹ کلکٹرلیہ اظفر ضیاء نے اپنے فیصلے میں اسسٹنٹ کمشنر لیہ کو اپنی نگرانی میں اراضی واگزار کرانے کیساتھ ساتھ گھنائونی سازش میں ملوث افسران و اہلکاران کی نشاندہی کرنے ، انکوائری کرکے معاملہ عدالت ہذا کو بھجوانے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں، ڈپٹی کمشنر نے حکم کی کاپیاں چیف سیکرٹری پنجاب لاہور ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو لاہور ، سیکرٹری ہائوسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ لاہور ، کمشنر ڈیرہ غازیخان کو ارسال کردی ہیں ، یہ امر قابل ذکر ہے کہ لیہ شہر کے وسط میں واقع 25 سے 30 ارب روپے مالیتی اس قیمتی اراضی پر سابق پارلیمنٹرین ملک غلام حیدر تھند کی رہائشگاہ جسے لال حویلی کہا جاتا ہے کے علاوہ ان کا پبلک سیکرٹریٹ بھی تعمیر شدہ ہے ، مذکورہ علاقے میں لیہ کے بڑے بڑے ڈاکٹرز کی بڑی بڑی کوٹھیوں کے علاوہ بیسیوں رہائشی مکانات ، کمرشل مارکیٹیں ، پلازے اور دکانیں تعمیر شدہ ہیں ،اسی طرح کچھ اراضی نئے گھوڑا چوک کے جنوب غربی جانب صدیق پارک سے ملحقہ جو کہ برلب سڑک بھی واقع ہے اسی انتقال کا حصہ ہے جس پر دکانیں اور مکانات تعمیر شدہ ہیں ، اس ضمن میں ایڈووکیٹ عمران گنڈاس نے میڈیا کو جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے حکم امتناعی جاری شدہ ہے اور یہ کیس عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے ، ڈپٹی کمشنر نے مذکورہ کیس میں اختیارات سے ہٹ کر فیصلہ صادر کیا جس کیخلاف نظر ثانی کی اپیل داخل کرائی جائیگی۔ واضح رہے کہ کیس میں مدعی مقدمہ کی جانب سے ایڈووکیٹ ملک نواز سامٹیہ ، وارثان بہار بیگم متوفیہ نائلہ و نزہت سرور وغیرہ کی جانب سے ایڈووکیٹ محمد اظہر خان چانڈیہ وغیرہ نے دلائل دیئے جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر ہائوسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ لیہ غلام حسین ، قانونگو ایڈجسٹمنٹ برانچ ڈسٹرکٹ کلکٹر آفس لیہ کے علاوہ گورنمنٹ سپیشل پلیڈر خان اللہ بخش خان ایڈووکیٹ نے کیس میں عدالت کی رہنمائی کی اور بیانات داخل کئے جن کی روشنی میں ڈسٹرکٹ کلکٹر اظفر ضیاء ڈپٹی کمشنر لیہ فیصلہ صادر کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں