7

مال گاڑی 2 حصوں میں تقسیم،اعلیٰ افسران لا علم ، عملے نے معاملہ دبادیا

ملتان،متعدد حادثات کے باوجود ریلوے کا قبلہ درست نہ ہو سکا،غفلت اور لاپرواہی کے سبب گزشتہ روز بھی بہاولپور سے کراچی جانے والی مال گاڑی دو حصوں میں تقسیم ہو گی،سمہ سٹہ اور بہاولپور کے درمیان ہونے والے اس سنگین واقعہ سے ریلوے کا سگنل انجنیرئنگ اور آپریشنل سٹاف لا علم رہا،دو روز قبل بھی قطب پور سٹیشن کے قریب مال گاڑی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی،مال گاڑی کے دو حصوں میں میں تقسیم ہونے کے واقعہ کا علم ہونے پر روایتی طور پر ریلوے حکام اس کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالتے رہے اور پھر معاملے کو ہی دبا دیا گیا،ریلوے ذرائع نے بتایا ہے کہ واقعہ ڈائون ٹریک پر رونما ہوا گاڑیوں کی آمدورفت کا نہ روکنا سنگین غلط تھی جو کسی بھی بڑے حادثے کا پیش خیمہ ہوسکتی تھی عوامی اور سماجی حلقوں نے ریلوے کے اعلیٰ حکام سے واقعے کا سخت نوٹس لینے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کی اپیل کی ہے،تفصیل کے مطابق چیف آپرٹینگ سپرٹننڈٹ ریلوے ملتان میں موجودمال بردار ٹرین دو حصوں میں تقسیم ہوگئی،معاملہ کو سی او پی ایس کے نوٹس میں لائے بغیر گول کردیا گیا،سیفٹی کے انتظامات کئے بغیر علیحدہ ہونے والے ویگینوں کو دوبارہ سے جوڑ کر ٹرین کو چلا دیا گیا،کسی بھی دوسری ٹرین کے آنے کی صورت میں بڑا حادثہ رونما ہوسکتا تھا،بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ صبح مال بردار خالی ٹرین ڈائون سی ٹی آر جو کہ کراچی کے لئے جارہی تھی 8بجے کر2منٹ پربہاولپور سے روانہ ہوئی ٹرین کو8بجکر12منٹ پر سمہ سٹہ پہنچنا تھا تاہم ٹرین8بجکر40منٹ پر سمہ سٹہ اسٹیشن پر پہنچی ذرائع کے مطابق بہاولپور اور سمہ سٹہ کے درمیان مذکورہ مال گاڑی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی،حادثہ کے فوری بعد مکینکل اور ٹریفک شعبہ کے ذمہ دران نے نہ تو ملتان میں موجود چیف آپریٹنگ سپرٹننڈنٹ شعیب عادل کو آگاہ کیااور نہ ہی ڈویژنل کنٹرول روم میں حادثہ کا اندراج کیا خاموشی سے 30منٹ کی کوششوں کے بعدمال گاڑی کی علیحدہ ہونے والی ویگینوں کو دوبارہ سے جوڑ کر روانہ کردیا بتایاجاتا ہے کہ صورت حال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے چند ریلوے ملازمین نے خفیہ طور پر دو حصوں میں تقسیم ہونے والی مال گاڑی کی ویڈیو بنا لی مال گاڑی کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کے بعدجس طرح ڈویڑنل کنٹرول روم کو آگاہ نہیں کیا گیا اس دوران اگر پیچھے سے دوسری کوئی ٹرین آجاتی تو حادثہ بھی رونما ہوسکتا تھا ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی طرح30جون کو جہانیاں کے قریب بھی ڈائون سی ٹی آر دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی اور اس حادثہ کی بھی کسی کو خبر نہ ہونے دی گئی تھی ریلوے ملازمین نے اس غفلت کے ذمہ دران کے خلاف تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں