4

محکمہ جیل خانہ جات میں انقلابی تبدیلیاں


وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور وزیر جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان کے احکامات پر پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کی فلاح وبہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے تاریخی اقدامات کئے گئے ہیں اس سلسلے میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جانب سے جیلوں میں قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لئے مختلف منصوبوں کی منظوری اور فنڈز کے اجراء کا سلسلہ جاری ہے۔اس کیساتھ ساتھ صوبے میں بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے جیلوں میں کم پڑتی گنجائش کے پیش نظر وزیراعلی عثمان بزدار کی جانب سے 5نئی جیلیں بنانے اور تحصیل لیول پر سب جیلیں بنانے کی منظوری بھی دیدی گئی ہے۔ان اصلاحات کا مقصد قیدیوں کی مقامی سطح پر موجودگی کو ممکن بنانا ہے تاکہ عدالتوں میں پیشیوں کے دوران دور دراز کے سفر اور اضافی اخراجات سے بچا جا سکے،وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے اس بار عید پر قیدیوں کے لئے 4کروڑ روپے سے زائد کی گرانٹ بھی دی گئی اورا س رقم سے پنجاب بھر کی جیلوں میں موجود قیدیوں میں خصوصی گفٹ تقسیم کئے گئے ۔ حکومت پنجاب جیلوں میں قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے ۔وزیراعلی عثمان بزدار کی جانب تمام جیلوں میں گرمی کی شدت کے پیش نظر ٹھندے پانی کے واٹر کولر لگانے کے احکامات بھی دئیے گئے ہیں۔ جس پر محکمہ جیل خانہ جات نے فوری عملدرآمد کرتے ہوئے جیلوں میںٹھنڈے پانی کے کولر لگا دئیے ہیں جس کا مقصد قیدیوں کو گرمیوں میں ٹھنڈے کی باآسانی سہولت کی فراہمی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے پنجاب کی تمام جیلوں میں موجود بارکوں میں خراب پنکھے اتار کر نئے پنکھے لگانے کے احکامات دئیے گئے جس پر محکمہ جیل خانہ جات نے عملدرآمد کرتے ہوئے پرانے پنکھوں کی تبدیلی کا کام شروع کر دیا ہے اور پہلے مرحلے میں ایک ہزار سے زائد نئے پنکھے لگائے گئے ہیں،وزیر جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان کی جانب سے جیلوں میں انتظامی امور کی بہتری کے حوالے سے دن رات کوششیں جاری ہیں اور وزیر جیل خانہ جات متعدد جیلوں کے خفیہ دورے کر چکے ہیں اپنے دوروں کے دوران فیاض الحسن چوہان کی جانب سے جہاں جیلوں میں قیدیوں کو فراہم کئے جانے والے کھانے کے معیار کا معائنہ کیا جاتا ہے وہیں ہسپتالوں میں موجود قیدیوں کو فراہم کی جانیوالی طبی سہولیات کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے جبکہ اپنے دوروں کے دوران فیاض الحسن چوہان خود قیدیوں سے ملاقات کرکے ان سے جیل میں موجود مسائل پر بات کرتے ہیں جبکہ جیلوں کے وزٹ کے دوران افسران اور ملازمین کی حاضری بھی باقاعدگی سے چیک کی جا رہی ہے۔ فیاض الحسن چوہان کے ان اقدامات سے محکمہ جیل خانہ جات میں انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں اور محکمہ میں کالی بھیڑوں کا خاتمہ ہوا ہے جیلوں میں رشوت خوری اور کرپشن میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے جبکہ جیلوں کی سیکیورٹی کے لئے بھی انقلابی اقدامات جاری ہیں ۔ایک جانب ہزاروں افراد کی بھرتی کی جارہی ہے اور تمام بھرتی میرٹ پر کرنے کے لئے بھرپور اقدامات جاری ہیں اس کے لئے خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں جو میرٹ کو یقینی بنانے کے لئے مختلف اقدامات کر رہی ہیں جبکہ دوسری جانب جیل فورس کو جدید اسلحہ کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ جیلوں میں موجود جیمرز کو ایکٹو کر دیا گیا ہے اور جیلوں میں موبائل کے استعمال کو مکمل طور پر غیر موثر کر دیا گیاہے۔ پنجاب کی تمام جیلوں کو متعلقہ تھانوں اور سی پی او ، ڈی پی او آفس سے لنک کر دیا گیا ہے تا کہ کسی بھی مشکل صورتحال میں بروقت کارروائی کی جا سکے اس کے ساتھ ساتھ انقلابی اقدامات کے تحت پنجاب کی تمام جیلوں کو آئی ٹی لنک کے ذریعے آئی جی آفس سے بھی لنک کر دیا گیا اور اعلی افسران اپنے آفس میں بیٹھ کر کسی بھی قیدی کی پوزیشن کو چیک کر سکیں گے اور قیدی سے متعلق تمام انفارمیشن بھی حاصل کی جا سکے گی،پنجاب کی43 جیلوں میں اس وقت تقریبا 58ہزار قیدی موجود ہیں جن میں بڑی تعداد اقدام قتل کے قیدیوں کی ہے جبکہ غیر ملکی قیدیوں کی بھی بڑی تعداد جیلوں میں موجود ہے جن کی سیکیورٹی یقینی بنائی گئی ہے اور انھیں دوسرے قیدیوں سے الگ رکھا گیا ہے۔ ان قیدیوں کو جیلوں میں جہاں کھانے کی سہولیات کے ساتھ جہاں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیںوہیں ان قیدیوں کو صاف پانی کی فراہمی کے لئے فلٹر پلانٹ بھی لگائے گئے ہیں ۔اب تک تقریبا 22جیلوں میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے فلٹریشن پلانٹ لگانے کا منصوبہ مکمل کر لیا گیا ہے ۔جبکہ قیدیوں کو اپنے اہل خانہ سے فون پربات کرنے کے لئے جیلوں میں خصوصی طور پر پی سی اوز کی تنصیب کا کام بھی جاری ہے جس کے ذریعے قیدیوں کو اہل خانہ کے مخصوص موبائل نمبرز پر ہفتہ وار 5سے 10منٹ بات کرنے کی اجازت ہو گی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے جیلوں میں قیدیوں کو معیاری کھانے کی فراہمی کے لئے بھی خصوصی اقدامات کئے گئے اس حوالے سے جہاں ایک جانب کھانے کے معیار کے کو بہتر بنانے کے لئے کوکنگ آئل ، کھی ، آٹے ، دالیں ، گوشت اور چکن کے معیار کو بہتر بنایا گیا وہیں کھانے کے مینیو میں بہتری لائی گئی ہے۔ قیدیوں کو ہفتہ میں 5دن گوشت فراہم کیا جا رہا ہے جیل مینیو کے مطابق قیدیوں کو پیر کے روز ناشتہ میں روٹی اور چائے ،دوپہر کے کھانے میں چکن کیساتھ روٹی اور رات کے کھانے میں سبزی روٹی کیساتھ میٹھے چاول دئیے جا رہے ہیں۔ منگل کو ناشتے کیساتھ سبزی اور رات کو چکن ، بدھ کو صبح ناشتے کے بعد دوپہر میں دال ماش اور روٹی اور رات کو چکن ، چپس ، جمعرات کو صبح ناشتے کے بعد دوپہر چکن دال اور روٹی اور رات کو دال روٹی اور جمعہ کو دوپہر کو دال روٹی اور رات کو چکن روٹی ،ہفتہ کو سبزی اکے ساتھ روٹی اور رات کو چکن کیساتھ روٹی جبکہ اتوار میکس ڈیل اور گوشت کیساتھ روٹی کا مینیو رکھا گیا ہے۔ رمضان جیسے با برکت مہینے کے لئے قیدیوں کو سپیشل کھانے کیساتھ شربت کی فراہمی مینیو میں شامل کر دی گئی ہے۔ جبکہ عید الفطر اور عید الظحی پر قیدیوں کو سپیشل کھانے فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ہے،جیلوں میں قیدیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں کرونا کی صورتحال میں جیلوں میں بہترین انتظامات کئے گئے جبکہ قیدیوں کا روازنہ کی بنیاد پر چیک اپ کیا جا تا رہا ہے ۔اس کی ساتھ ساتھ ڈینگی کنٹرول کرنے کے لئے بھی متعدد اقدامات کئے گئے اور جیلوں میں صفائی ستھرائی کے اقداما ت پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ جیلوں میں قیدیوں کی تعلیم و تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ،تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند قیدیوں کو میٹرک سے ایم تک امتحانات دینے کی سہولتوں کو آسان بنایا جا رہا ہے۔ جبکہ ان کو جیلوں میں مختلف لینگوئج کورسز بھی کروائے جا رہے ہیں۔ مختلف کمپیوٹر کورسزمیں حصہ لینے والے قیدیوں کو کمپیوٹر سے متعلق بنیادی تعلیم دی جارہی ہے تعلیمی سہولیات کیساتھ ساتھ جیلوں میں قیدیوں کو مختلف ہنر بھی سکھائے جا رہے ہیں تاکہ وہ رہائی پانے کے بعد با عزت روزگار کما سکیں۔ اس کی ساتھ ساتھ جیلوں میں مخیر حضرات کے تعاون سے مختلف فلاحی کام بھی جاری ہیں ۔ مخیر حضرات کے تعاون سے بطور خاص ایسے مستحق قیدیوں کے ذمہ دیت کی رقم کی ادائیگی کرکے ان افراد کی رہائی کو ممکن بنایا گیاہے۔
بشکریہ نوائے وقت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں