7

مخدوم رشید،خانیوال،احساس کفالت سنٹر میں رشوت ستانی، نام نہاد ٹائیگرفورس کی خواتین سے بد تمیزی

مخدوم رشید(نمائندہ پی این این اردو)احساس کفالت پروگرام سنٹر جعلسازوں کے نرغے میں متاثرین سراپا احتجاج‘ تفصیل کے مطابق ملتان کے ایم اے جناح سکول میں خواتین کے لئے احساس کفالت سنٹر، جو مکمل طور پر نام نہاد ٹائیگر فورس کے نرغے میں آچکا، آٹھ دس ٹائیگرز اہلکاروں نے دھونس اور دھاندلی مچائی ہوئی ہے۔ تین سے چار افراد کے پاس فورس کے کارڈ ہیں، باقی افراد بغیر کسی ثبوت کے ٹائیگرفورس اہلکار بنے ہوئے ہیں،خواتین سے بدتمیزی ، دھکے دینا اور دست درازی معمول کی بات بن چکی ہے،متاثرہ خواتین کے مطابق یہ ٹائیگرزفورس اہلکار اپنی من پسند یا واقف خواتین کو بغیر قطار کے اندر جانے دیتے ہیں،جبکہ دوسروں کو جھڑکیاں دیتے ہیں، ا ن کا رویہ یوں لگتا ہے کہ جیسے احساس کیش یہ ٹائیگرز اپنے پلے سے دے رہے ہوں، مکمل احساس کفالت سنٹر کا کنٹرول ٹائیگرز فورس اہلکاروں کے ہاتھوں میں ہے، جبکہ ملازمین بھی ٹائیگرز اہلکار کی من مانیوں سے پریشان نظر آتے ہیں،متاثرہ خواتین نے مطالبہ کیا ہے کہ یہاں ٹائیگر فورس کی خواتین کو تعینات کریں یا پھر ان ٹائیگرزاہلکاروں کو قواعد و ضوابط کا پابند کیا جائے اوران کے خلاف شکایات سیل بھی بنایا جائے، تاکہ بدتمیزی کرنے والوں کے خلاف حسبِ ضابطہ کارروائی ہو سکے،خانیوال میں بھی احساس کفالت سنٹر پر شدید بدنظمی خواتین کی جانب سے رشوت لینے کا الزام‘دور دراز کے علاقوں سے کمسن بچوں کے ہمراہ آنے والی خواتین دکھے کے کھانے پر مجبور،مردوں کی بڑی تعداد احساس کفالت سنٹر داخل ہونے سے بدنظمی بڑھ گئی۔تفصیل کے مطابق احساس کفالت سنٹر خانیوال میں دور دراز کے علاقوں سے آنے والی خواتین علی الصبح آکر بیٹھ جاتی ہیں۔سنٹر میں داخل ہونے کے لئے انہیں دکھے کھانے پڑتے ہیں احساس کفالت سنٹر میں کرونا ویکسینیشن پوائنٹ پر خواتین کا ہجوم جبکہ احساس کفالت سنٹر کی اپر سٹوری پر بنایا جانے والا ویکسی نیشن پوائنٹ ضعیف خواتین کا چڑھ کرجانا مشکل ہو گیا۔ احساس کفالت سنٹر پر دوسری خواتین کو گائیڈ کرنے والا کوئی بھی شخص موجود نہیں۔ زیادہ تر خواتین کا یہی گلہ ہے کہ احساس کفالت سنٹر میں پیسے لے کر خواتین کو امداد دی جا رہی ہے پیسے نہ دینے والی خواتین گیٹ کے باہر دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔کم سن بچیوں اور بچوں کے ہمراہ آنے والی خواتین شدید گرمی میں درختوں کے سائے تلے بیٹھ کر امداد کا انتظار کر کے واپس لے جاتی ہیں۔احساس کفالت سنٹر کی گیٹ باہر ایسے لگتا ہے جیسے کسی ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے انتظار میں خواتین اور لوگوں کا اژدھام ہو۔ شدید گرمی میں ٹھنڈے پانی کی عدم دستیابی کے باعث خواتین احساس کفالت سنٹر میں پانی بیچنے کے لیے آنے والے کم سن بچوں سے ٹھنڈا پانی خرید کر پینے پر مجبور ہیں۔احساس کفالت سنٹر میں ڈسپلن نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔اس سلسلہ میں احساس کفالت پروگرام کے انچارج حسنین رضا سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ یہاں پر کیمرے لگے ہوئے ہیں اگر کسی کو شکایت وہ ہم سے رابطہ کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں