16

کپاس کی پیداوار میں اضافے اور ریسرچ اداروں میں اصلاحات لانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں،سید فخر امام

ملتان(سٹاف رپورٹر)موجودہ حکومت ملک میں کپاس کی بحالی اور فروغ کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے اور مستقبل میں کپاس کی پیداوار میں اضافے اور ریسرچ اداروں میں اصلاحات لانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں،یہ بات وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی سید فخر امام نے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں منعقد ہونے والے ایک اہم اجلاس میں شریک وفاقی وصوبائی اداروں سے تعلق رکھنے والے کپاس کے زرعی ماہرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہی،اس اجلاس میں وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے معاون خصوصی ڈاکٹر محمد اکمل صدیق، کاٹن کمشنر ڈاکٹر خالد عبد اللہ، ڈائریکٹر سی سی آر آئی ڈاکٹر زاہد محمود،ڈاکٹر اقبال بندیشہ، ڈاکٹر صغیر احمد،ڈاکٹر رابعہ سعید،ڈاکٹر منظور احمد منج،ساجد محمود، وقاص احمد جبکہ اجلاس میں آن لائن شریک نیبجی سے ڈاکٹر محبوب الرحمان، این اے آر سی اسلام آباد سے ڈاکٹر محمد احسان،سی سی آر آئی سکرنڈ سے ہدایت اللہ بھٹو اورمحمد فرحان جبکہ فیصل آباد زرعی یونیورسٹی سے مسرت حسین نے شرکت کی،وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد ملک بھر میں کپاس کی بحالی،پیداوار میں اضافے،کپاس کو منافع بخش فصل بنانے اور کپاس کو درپیش چیلنجز کو سامنے رکھ کر ایک ایسی حکمت عملی تیار کرنا ہے،جس سے نہ صرف کپاس کی پیداوار میں اضافے سے کاشتکاروں کو منافع حاصل ہو بلکہ ملکی معیشت میں استحکام اور بہتری لائی جا سکے،وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ کپاس کی پیداوار میں کمی کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں جبکہ کاٹن ریسرچ اداروں میں فنڈز اور افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے ان تمام مسائل کے حل کے لئے حکومت بھرپور اقدامات اٹھائے گی،اس وقت کپاس کی انٹروینشن قیمت5ہزار روپے فی 40کلو گرام مقررکرنا موجودہ حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے،کپاس کی فی ایکڑ پیداور میں اضافے کے لئے ہم نئی ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے چین سے بھی مدد لے رہے ہیں اور اپنے ملک میں موجود اداروں کی کپیسٹی بلڈنگ پر بھی توجہ دے کر کپاس کے تحقیقی میدان میں نمایاں پیش رفت کرنے جا رہے ہیں اور انشاء اللہ یہ سال کپاس کی ریوائیول کا سال ہوگا اور ہم آئندہ آنے والے چند سالوں میں کپاس کو منافع بخش فصل بنا کر رہیں گے اور جدید سیڈ ٹیکنالوجی کی بدولت نہ صرف کپاس کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ کپاس کی فصل منافع بخش بھی ہوگی جس سے کاشتکار اور ملک دونوں خوشحالی کی جانب گامزن ہو سکیں گے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر کاٹن کی بحالی کے لئے حکومت بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں جو نئی ٹیکنالوجی چل رہی ہے اس کی طرف جائیں۔انہوں نے کہاکہ کاٹن کے بیج کی کوالٹی کا بھی کافی عرصہ سے مسئلہ رہا ہے، ہماری کوشش ہے کہ معیاری بیج متعارف کروائے جائیں اور ہم اپنی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ضروریات کے عین مطابق کپاس کی اقسام تیار کرنے میں پوری تندہی سے کام کرتے رہیں گے۔ اس موقع پر وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے معاون خصوصی ڈاکٹر محمد اکمل صدیق نے اجلاس کے شرکاء سے کہا کہ وہ اپنی اپنی تحریری تجاویز تین دنکے اندر اندر وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو ارسال کر دیں،بعد ازاں پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشنز کے سابق چیئرمین سہیل محمود ہرل کی سربراہی میں چھ رکنی وفدنے وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام سے ملاقات کی اور ملک میں کپاس کی بحالی و کپاس کے فائبر اسٹینڈرز پر تفصیلی گفتگو کی۔ وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام نے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت کپاس کی بحالی و فروغ اور کپاس کے فا ئبر اسٹینڈرز سے متعلق پاکستان کاٹن جنرز کی تجاویز پر غور کرے گی اور ہر ممکنہ حل کے لئے کوششیں کی جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں