23

مشکوک پولیس ملازمین کے منشیات ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ

آئی جی پنجاب کی زیر صدارت سنٹرل پولیس آفس میں آ ر پی اوز ویڈیولنک کانفرنس ،وزیر اعظم پاکستان کے پنجاب میں پولیس ریفارمزکے ویژن کو عملی جامہ پہنانے کے عمل میں آئی جی پنجاب کا ایک اور بڑا فیصلہ ۔ آئ جی پنجاب نے وڈیو لنک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات استعمال کرنے والاکوئی بھی شخص کسی بھی کپیسٹی میں پنجاب پولیس کا حصہ نہیں ہو گا۔
۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ منشیات استعمال کرنے والامنشیات فروشوں کا پشت پناہ یا انکے کاموں میں حصہ دار نہ ہو۔ آئی جی پنجاب نے اتمام ریجنل، ضلعی اور یونٹ سربراہان کو ماتحت سٹاف کی ہیلتھ پروفائلنگ مکمل کروانے کا حکم دیا۔ایسے افسران و اہلکاروں کی نشاندہی کیلئے ہر ممکن ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ بنا ثبوت کسی کی پگڑی نہ اچھالی جائے۔ ہیلتھ پروفائلنگ کے دوران نشاندہی ہونے والے افسران واہلکاروں کا مستند اور معیاری ہیلتھ لیبارٹریز سے فوری ڈرگ ٹیسٹ کروایا جائے۔ آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز اور یونٹ سربراہان اس سلسلے میں سپیشل برانچ سمیت دیگر خفیہ ایجنسیوں سے بھی معاونت لے سکتے ہیں۔ جو شخص منشیات کے استعمال جیسے قبیح فعل میں ملوث ہے اس کا پنجاب پولیس کا حصہ ہونا خرابی کے سوا کچھ نہیں ہے۔پنجاب پولیس میں ہیلتھ پروفائلنگ کے عمل کو شفاف اور بامقصد بنانے کیلئے آر پی اوز صاحبان اس عمل کی خود نگرانی کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں