5

مطالبات کو منظور کیا جاوے ورنہ آہل ملز چلانا ناممکن ہوگا.آل پاکستان آہل ملز ایسوسی ایشن

کا اجلاس زیر صدارت چوہدری محمد ارشد چیرمین APOMA و سرپرست اعلی خواجہ محمد فاضل و شیخ وقاص لیاقت واہس چیرمین ویڈیو لنک رابطہ اجلاس ہوا
حالیہ بجٹ کے حوالے سے تیل بنولہ پر %17 سیلز ٹیکس کے نفاذ پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ملک میں کاٹن کاشت کے اخراجات کے مقابلہ میں اسکی صحیح قیمت کاشتکار کو نہیں مل رہی۔جس وجہ سے اسکی پیداوار 15 ملیں بیل سے کم ہوکر 5 ملین ہو گہی ہے۔تیل بنولہ پر سیلز ٹیکس کے نفاذ سے کپاس کی قیمت میں 150 روپے فی من کمی آہے گی خو کاشتکار کی مزید حوصلہ شکنی کا سبب ہوگا۔
ٹرن اوور ٹیکس کی شرح کو بجٹ میں %0 5۔1 سے کم کرکے% 25 ۔1کیا گیا ہے۔ہمارا مطالبہ تھا کی اس شرح کو فلور ملز اور فیڈ ملز کی شرح کے مطابق %2 ۔0 کیا جاہےکھل بنولہ دودھ دینے والے جانوروں کے استعمال میں آتی ہے دودھ انسانی خوراک کا اہم جزو ہے۔
وزیراعظم وزیر خزانہ معاون خصوصی خزانہ ریویوز سے اپیل ہے بد حالی کا شکار آہل ملز کو زندہ رہنے کا موقع دیا جاہے۔کپاس سے نکلنے والا بنولہ جو سبزی سے جلد خراب ہو جاتا ہے نقر اراہگئ کرکے ڈلیوری لے کر کاشتکار کو سہارا دینے ہیں
ہمارے مطالبات کو منظور کیا جاوے ورنہ آہل ملز چلانا ناممکن ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں