8

ملتان،سوائل اینڈ واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹریز بارے جائزہ اجلاس،تسلی بخش جواب نہ دینے پر افسران کی سرزنش

ملتان(سٹاف رپورٹر)سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل کی زیر صدارت  ایگریکلچر سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں جنوبی پنجاب میں سوائل اینڈ واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے ہیڈز کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا،مختلف فصلوں کے پودوں کو فاسفورسی، نائٹروجنی اور پوٹاش کھادوں کے صحیح وقت اورصحیح مقدار کی ضرورت کے متعلق تسلی بخش جواب نہ دینے پر افسران کی سرزنش کی اور دوبارہ 2 ہفتوں میں مکمل ڈیٹا کے ساتھ پریزینٹیشن دینے کی ہدایت کی،اس موقع پر سیکرٹری زراعت کا کہنا تھا کہ کیمیکلز کا غیر متوازن، ہماری زمینوں میں نامیاتی مادہ کی 1فیصد سے بھی مقدار اور پی ایچ لیول کا 7.5 سے زیادہ ہونا وہ عوامل ہیں جن کے نتیجے میں نہ صرف فصلوں کی پیداوار میں کمی واقع ہورہی ہے بلکہ مختلف کیڑوں وبیماریوں کے حملہ میں اضافہ ہورہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ مختلف فصلوں کی پیداوار میں اضافہ اور فی ایکڑ لاگت کاشت میں کمی کیلئے (integrated nutrient management) پلا ن مرتب کیا جارہا ہے،فرٹیلائزر کے استعمال کی جتنی ونڈو چھوٹی ہوگی اتنا ہی اس کا اثر زیادہ ہوگا اور پیداوار بڑھے گی۔سیکرٹری زراعت نے مزید کہا کہ کھادوں کو پودوں کیلئے دستیاب بنانے میں خوردبینی جانداروں (micro organisms) کا بہت بڑا کردار ہے جب تک خوردبینی جاندار زمین میں موجود نہیں ہونگے،تب تک کھادوں کا استعمال فائدہ مند نہیں ہوسکتا،انہوں نے زرعی سائنسدانوں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ گندم کے ایک پودے کو پورے سیزن میں نائٹروجن،فاسفورس اور پوٹاش کھاد کی مقدار اور وقت استعمال بارے تجزیہ کرکے مکمل رپورٹ ایک ہفتہ میں پیش کی جائے،تاکہ گندم کی کاشت سے پہلے کاشتکاروں تک محکمانہ سفارشات پہنچائی جاسکیں،انہوں نے کہا کہ جب تک پودے کی خوراک کی ضرورت کا پتہ نہیں چلے گا تب تک مطلوبہ پیداوارحاصل نہیں کی جاسکتی۔انہوں نے ہدایت دیتے ہوئے مزید کہا کہ زرعی زمینوں میں نامیاتی مادہ میں اضافہ کے قابل عمل طریقے بتائے جائیں تاکہ کاشتکار باآسانی ان پر عمل کرکے اپنی زمینوں کی اصلاح کرسکیں۔اجلاس میں ڈپٹی سیکرٹری آصف رضا،رانا عظیم، اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت انفارمیشن عبدالصمد سمیت،دیگر افسران نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں