9

ملتان،فارمرز ایڈوائزری کمیٹی سی سی آر آئی کا ساتواں اجلاس،کپاس کے کاشتکاروں کو15ستمبر تک کی سفارشات جاری

ملتان(سٹاف رپورٹر)سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا ساتوں اجلاس ڈائریکٹر سی سی آر آئی ڈاکٹر زاہد محمود کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں ملک بھر میں کپاس کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور کپاس کے کاشتکاروں کی رہنمائی وتربیت کے لئے پندرہ روزہ کپاس کی نگہداشت سے متعلق15ستمبر تک کی سفارشات پیش کی گئیں،فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ اس وقت کپاس کی فصل تیزی سے پھل اٹھا رہی ہے اس لئے اس وقت فصل کو کھاد اور پانی کی کمی نہ آنے دیں اور کھیت میں چنائی کا عمل اس وقت کریں جب کھیت میں آدھے سے زائد ٹینڈے کھل چکے ہوں جبکہ چنائی کرتے وقت اس بات کا دھیان رہے کہ چنی گئی گئی کپاس میں پتی یا سانگلی وغیرہ کی آمیزش نہ ہو،کاشتکار وائرس سے متاثرہ کپاس کی فصل میں بیماری کے اثرات کم کرنے کے لئے کاشتکار کھاد اور پانی کی مقدار مناسب رکھیں،اجلاس میں بتایا گیا کہ کاشتکارحا لیہ بارشوں کے بعد فصل پر پیلا پن ظاہر ہونے کی صورت میں 10 کلو تا آدھی بوری یوریا فی ایکٹر فلڈ کریں یا 2 کلوگرام فی ایکٹر سپرے کریں،اجلاس میں بتایا گیا کہ کپاس کے پھل میں عناصر صغیرہ کی کمی کو دور کرنے، کیڑے کو کم کرنے اور ٹینڈوں کے سائز میں اضافہ کے لئے کاشتکار300گرام میگنیشیم سلفیٹ،300گرام زنک سلفیٹ،200گرام بورک ایسڈ،400گرام پوٹاشیم نائٹریٹ یاپوٹاشیم سلفیٹ پاؤڈر اور 2کلولوگرام یوریا ان تما م اشیاء کو علحیدہ علحیدہ پانی میں حل کرکے بحساب 100لٹر فی ایکڑ پانی کے لئے استعمال کریں،اورلیٹ کاشتہ ایسی فصل جس پر دس تا پندرہ سبز ٹینڈے بن چکے ہیں اور مزید پھل آرہا ہے اسے آدھی بوری یوریا فلڈ کریں،اجلاس میں کپا س کے کیڑے مکوڑوں سے متعلق سفارشات میں بتایا گیا کہ کاشتکار گلابی سنڈی کی مینجمنٹ کے لئے کاشتکار جنسی پھندے8 فی ایکڑ کے حساب سے کھیت میں لگائیں اور ان میں لگے کیپسول کو15تا20دن بعد تبدیل کریں،جبکہ گلابی سنڈی کے حملہ کے بڑھنے کی صورت میں کاشتکار سات دن کے وقفہ سے تین لگاتار زرعی زہروں کا استعمال کریں،کاشتکارپہلا سپرے گیما سائی ہیلوتھرین بحساب 100ملی لٹریا سپنٹورام بحساب100ملی لٹر فی ایکڑ بحساب 100لٹر پانی کی مقدار میں حل کرکے سپرے کریں،دوسرا سپرے کاشتکار پہلے سپرے کے7دن بعد کریں اور جن کاشتکاروں نے پہلا سپرے اگر سپنٹورام کا کیا ہے تو دوسرا گیما سائی ہیلو تھرین کا کریں اور اگر پہلا سپرے گیما سائی ہیلو تھرین کا کیا گیا ہو تو پھر دوسرا سپرے سپنٹورام کا کریں اور دوائی کی مقدار کی وہی رکھیں جو پہلے سپرے کے لئے تجویز کی گئی ہے جبکہ پانی مقدار وہی100لٹر رکھی جائے جبکہ تیسرا اور آخری سپرے کاشتکار دوسرے سپرے کے بعد 7دن کے وقفہ سے سائپرمیتھرین+پروفینوفاس600ملی لٹر یا ٹرائی ایزوفاس+ڈیلٹا میتھرین600ملی لٹر فی ایکڑ بحساب 100لٹر پانی کی مقدار میں حل کرکے سپرے کریں،اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ سفید مکھی سے بچاؤ کے لئے کاشتکار10 چپکنے والے پیلے رنگدار کارڈ yellow sticky traps فی ایکڑ کے حساب سے کھیت میں لگائیں،جہاں سفید مکھی کا حملہ معاشی حد سے بڑھ جائے تو وہاں زرعی زہروں کا استعمال کیا جائے،کاشتکار سفید مکھی کے بالغ کے لئے اسیٹا مپریڈ150ملی لٹر یا فلونیکامڈ60گرام بحساب100لٹر پانی فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں جبکہ سفید مکھی کے بچوں کے لئے کاشتکار سپائیرو ٹیٹر میٹ125ملی لٹر+بائیو پاور250ملی لٹر کا مکسچر یا پائریپروکسیفین400ملی لٹر بحساب100لٹر پانی فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں۔ اگر کپاس کی فصل سٹریس میں نہ ہو تو سفید مکھی کے بالغ اور بچوں سے بچاؤ کے لئے ڈائی فینتھیوران200ملی لٹر بحساب100لٹر پانی فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں،اجلاس میں ملی بگ کے حملے سے متعلق بھی تفصیل سے گفتگو ہوئی اور بتایا گیا کہ جہاں ملی بگ کا حملہ نظر آئے تو کاشتکار کلوتھیانڈن30ملی لٹر+بائی فینتھرین50ملی لٹر یا پھر پروفینوفاس80ملی لٹر پانی کی 20لٹر ٹینکی میں حل کرکے متاثرہ پودوں پر سپرے کیا جائے اور متاثرہ پودوں کے چاروں طرف موجود اردگرد کے پودوں پر بھی اس کا سپرے کیا جائے جبکہ تھرپس10فی پتہ معاشی حد پہنچنے پر کاشتکار کلورفینا پائر150ملی لٹر یا سپنٹورام50ملی لٹر یا ڈائی میتھوایٹ 333ملی لٹربحساب 100لٹر پانی فی ایکڑ استعمال کریں۔اور جہاں پر کپاس کی فصل کے پتوں کا رنگ کالا پڑ رہا ہو تو اس صورت میں کاشتکار سلفر(80فیصد خالص) 300گرام بحساب100لٹر پانی میں ملا کر متاثرہ پودوں کو اچھی طرح دھو ئیں اجلاس میں بتایا گیا کہ کچھ کاشتہ علاقہ جات میں پر کپاس کے پودے سوکھنے کی اطلاعات موصول ہو رہی یں تو اس صورت میں کاشتکار میٹا لیگزل ایم+مینکوزپ300گرام کا مکسچر یا تھائیوفینیٹ بحساب300گرام فلڈ کریں اور ایسے کاشتکار جنہوں نے اپنی فصل بیج کے حصول کے لئے لگائی ہے تو کاشتکار روگنگ کا عمل یعنی کھیت سے غیر متعلقہ پودوں کو علیحدہ کرکے باہر نکال دیں کاشتکاروں کو چاہئئے کہ وہ اچھے اگاؤ والے صحت مند اور معیاری بیج کی جرمینیشن معلوم کرنے کے بعد انہیں خشک کرپٹ سن یا سوتی کپڑے کے تھیلوں میں ڈال کر ہوادار جگہ پر محفوظ بنا لیں اور سٹور کی جگہ میں نمی کی مقدار8تا10فیصد سے زائد بالکل نہ ہو۔ اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان ڈاکٹر محمد نوید افضل،مس صباحت حسین، ساجد محمود،ڈاکٹر رابعہ سعید،مس فرزانہ اشرف اوربریڈنگ سیکشن سے ڈاکٹر محمد اکبر سائنٹفک آفیسر نےشرکت کی۔ فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آئندہ آٹھواں اجلاس 16ستمبر کو ادارہ ہذا میں منعقد ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں