13

ملتان،فارمرز ایڈوائزری کمیٹی سی سی آر آئی کا چھٹا اجلاس،کپاس کے کاشتکاروں کو31اگست تک کی سفارشات جاری

ملتان(سٹاف رپورٹر)فارمرز ایڈوائزری کمیٹی سی سی آر آئی ملتان کاچھٹا اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں کپاس کے کاشتکاروں کو31اگست تک کی سفارشات جاری کر دی گئیں،سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں آج فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا چھٹا اجلاس ڈائریکٹر سی سی آر آئی ڈاکٹر زاہد محمود کی صدارت میں ہوا،اس اجلاس میں چاروں صوبوں کے کپاس کے کاشتکاروں کی رہنمائی وتربیت کے لئے پندرہ روزہ کپاس کی نگہداشت سے متعلق 31اگست تک کی سفارشات پیش کی گئیں،فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ کاشتکارموسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے چنائی کے وقت کاتعین کریں اور کھیت میں چنائی کا عمل اس وقت کریں جب کھیت میں آدھے سے زائد ٹینڈے کھل چکے ہوں،کھیت میں اگر کوئی نئی جڑی بوٹی نظر آئے تو فوراً اسے تلف کریں تاکہ اس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے،جبکہ وائرس سے متاثرہ کپاس کی فصل میں بیماری کے اثرات کم کرنے کے لئے کاشتکار کھاد اور پانی کی مقدار مناسب رکھیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت فصل برداشت کی طرف گامزن ہے،لہذا اس مرحلہ پر فصل کو کھاد اور پانی کی کمی نہ آنے دیں،ایسی فصل جو25تا30ٹینڈے لے چکی ہو اس فصل کو10تا15کلوگرام یوریا بذریعہ آبپاشی فی ایکڑ کے حساب سے دیں،تاکہ ٹینڈوں کی غذائی ضروریات پوری ہوں اور ٹینڈوں کے سائز میں بہتری ہو سکے،جبکہ ایسی فصل جس میں 8تا 10ٹینڈے فی پودا لگے ہوں اور اس کا قد رک گیا ہو تو ا سکے لئے آدھی بوری یوریا فی ایکڑ بذریعہ آبپاشی دیں اور ایک ہفتہ کہ وقفہ سے اس فصل کودوبارا پانی لگائیں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اس وقت درجہ حرارت میں کمی ہونے سے پھل کا کیرا کم ہوگیا ہے اور نیا پھل آرہا ہے۔لہذا کاشتکار فصل کوآدھی بوری یوریا یا ایک بوری کیلشیم امونیم نائٹریٹ یعنی گوارہ یا ایک بوری امونیم سلفیٹ بذریعہ آبپاشی دیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کپاس کے پھل میں عناصر صغیرہ کی کمی کو دور کرنے، کیرے کو کم کرنے اور ٹینڈوں کے سائز میں اضافہ کے لئے کاشتکار300گرام میگنیشیم سلفیٹ،300گرام زنک سلفیٹ،200گرام بورک ایسڈ،400گرام پوٹاشیم نائٹریٹ یاپوٹاشیم سلفیٹ پاؤڈر اور ایک کلوگرام یوریا ان تما م اشیاء کو علحیدہ علحیدہ پانی میں حل کرکے بحساب 100لٹر فی ایکڑ پانی کے لئے استعمال کریں۔اجلاس میں کپا س کے کیڑے مکوڑوں سے متعلق سفارشات میں بتایا گیا کہ سبز تیلہ ایک فی پتہ معاشی حد پہنچنے پر کاشتکارڈائی نوٹیفرون60گرام یا فلونیکامیڈ60گرام یا نائٹن پائرم60گرام بحساب 100لٹر فی ایکڑ استعمال کریں جبکہ تھرپس10فی پتہ معاشی حد پہنچنے پر کاشتکار کلورفینا پائر25ملی لٹر یا سپنٹورام50ملی لٹر بحساب 100لٹر پانی فی ایکڑ استعمال کریں۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ سفید مکھی سے بچاؤ کے لئے کاشتکار10 چپکنے والے پیلے رنگدار کارڈ yellow sticky traps فی ایکڑ کے حساب سے کھیت میں لگائیں۔ اور سفید مکھی کی معاشی نقصان کی حد بڑھنے پر کاشتکارپائیری پراکسیفین400ملی لٹر یا اسپائروٹیٹرامیٹ 125ملی لٹر+بائیو پاور250ملی لٹر بحساب100 لٹر پانی فی ایکڑ استعمال کریں۔گلابی سنڈی سے متعلق اجلاس میں بتایا گیا کہ گلابی سنڈی کی مینجمنٹ کے لئے کاشتکار جنسی پھندے8 فی ایکڑ کے حساب سے کھیت میں لگائیں اور ان میں لگے کیپسول کو15تا20دن بعد تبدیل کریں جبکہ گلابی سنڈی کے حملہ کے بڑھنے کی صورت میں کاشتکار سپنٹورام بحساب100ملی لٹر،یا گیماسائی ہیلوتھرین بحساب100لٹر یا)سائپر میتھرین+پروفینوفاس( 600ملی لٹر آٹھ دن کے وقفہ سے2بار سپرے کریں۔ملی بگ کے زیادہ حملے کی صورت میں کاشتکار کلو تھیناڈن بحساب 30ملی لٹر + بائی فینتھرین بحساب 50 ملی لٹر یاپروفینو فاس بحساب 80 ملی لٹر، 20 لٹر پانی میں حل کرکے متاثرہ پودوں پر سپرے کریں۔۔اور جہاں پر کپاس کی فصل کے پتوں کا رنگ کالا پڑ رہا ہو تو اس صورت میں کاشتکار ٹیبوکونازول+ٹرائی فلوکسی سٹروبن کا مکسچر65گرام یاکاپرآکسی کلورائیڈ300گرام بحساب100 لٹر پانی میں فی ایکڑ کے حساب سے استعمال کریں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسے کاشتکار جنہوں نے اپنی فصل بیج کے حصول کے لئے لگائی ہے تو کاشتکار روگنگ کا عمل یعنی کھیت سے غیر متعلقہ پودوں کو علیحدہ کرکے باہر نکال دیں اور صحتمند بیج کے حصول کے لئے فصل کوآدھی بوری امونیم سلفیٹ یا8تا10کلوگرام حل پذیر سلفر+آدھی بوری یوریا بذریعہ آبپاشی دیں۔سلفر کو نائٹروجن کھاد کے ساتھ ملا کر دینا فائدہ مند ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کاشتکاروں کو چاہئیے کہ وہ اچھے اگاؤ والے صحت مند اور معیاری بیج کی جرمینیشن معلوم کرنے کے بعد انہیں خشک کرپٹ سن یا سوتی کپڑے کے تھیلوں میں ڈال کر ہوادار جگہ پر محفوظ بنا لیں اور سٹور کی جگہ میں نمی کی مقدار12فیصد سے زائد بالکل نہ ہو۔ اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان ڈاکٹر محمد نوید افضل،ڈاکٹر محمد ادریس خان،ڈاکٹر فیاض احمد، مس صباحت حسین،ڈاکٹر رابعہ سعید اور ساجد محمودنے شرکت کی۔ فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آئندہ ساتواں اجلاس یکم ستمبر کو ادارہ ہذا میں منعقد ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں