7

ملتان،کاشو خان قتل کیس کا فیصلہ،ماڈل کورٹ نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے 14 برضمانت ملزمان اور ایک حراستی ملزم غلام سرور کو بری کردیا

ملتان(احمر خان سے)6 نمبر چونگی کی رہائشی روبینہ ماہ نور خان خاکوانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خرم عرف کاشو خان قتل کیس جو عدالت عالیہ میں زیر سماعت تھا جس فیصلہ فاضل جج عدالت نے تمام ثبوتوں اور گواہان کے بیان قلمبند کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا گیا،جس میں عدالت عالیہ کے جج نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے میرے خلاف اور سروراعوان، حیدر اعوان، علی رضا،عبدالصمدنیازی،ندیم قریشی سمیت سولہ افراد کے خلاف جھوٹ پر مبنی من گھڑت کہانی بناکر تھانہ گلگشت میں قتل کا مقدمہ اندراج کیاگیا تھا مگر عدالت عالیہ کے جج نے انصاف کی فضا کو برقرار رکھتے ہوئے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مقدمہ ہذا میں نامزد ملزمان کو باعزت بری کردیاگیا،روبینہ خاکوانی نے مزید کہا کہ ہمیں عدلیہ پر پورابھروسہ تھا کہ انصاف کا بول بالا کرتے ہوئے ہمیں سچ کی بنیاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمہ ہذاہی جو خرم عرف کاشو خان کے والد خالد خان کی مدعیت میں درج کیاگیاتھا خارج ہی کردیاگیا،مزید کہا کہ خرم عرف کاشو خان جو شہر میں خطرے کی علامت بناہواتھا جس کے خلاف ڈکیتی، اقدام قتل سمیت سنگین نوعیت کے مقدمات شہر کے مختلف تھانوں میں درج تھے جو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا مگر اہلخانہ نے چند شرپسند عناصر کے ہمراہ ملی بھگت کرتے ہوئے مجھے ناحق طور پر کیس میں پھنسایا گیا لیکن عدالت عالیہ نے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرتے ہوئے مقدمہ میں تمام نامزد ملزمان کو باعزت طور پر بری کرنے کا حکم صادر فرمایا،روبینہ خاکوانی نے وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلی پنجاب، آئی جی پنجاب، ایڈیشنل آئی جی پنجاب،آر پی او ملتان سے اپیل کی ہے کہ عدالت عالیہ کے فیصلے کے بعد مجھے یا میرے اہلخانہ کو کسی بھی قسم کا جانی و مالی نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ داری خرم عرف کاشو خان، اس کے والد خالد خان، بھائی آصف بھتیجے دانش وغیرہ اور ان کے حامیوں پر عائد ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں