16

ملکی تعلیمی نظام کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں،شفقت محمود

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ ملکی تعلیمی نظام کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں جن میں جامعات کے قیام کے بڑھتے مطالبات کے ساتھ معیار تعلیم اور تعلیم و تحقیق کی قومی ضروریات سے ہم آہنگی شامل ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سیکرٹریٹ میں ڈیجیٹل لرننگ اینڈ سکلز انرچمنٹ انیشی ایٹو مرحلہ دوئم کے آغاز سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،تقریب میں ایچ ای سی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شائستہ سہیل، سی ای او کورس ایرا جیف میگیون کلاڈا اور وائس چانسلرز، فیکلٹی ممبران اور طلباء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی،ڈیجیٹل لرننگ اینڈ سکلز انرچمنٹ انیشی ایٹو ایچ ای سی اور کورس ایرا کے اشتراک سے شروع کیا جانے والا ایک پروگرام ہے،ڈی ایل ایس ای آئی کے پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد ایچ ای سی نے کورس ایرا کے ساتھ معاہدے پر دستخط کئے ہیں،جس کے تحت اس پروگرام کے دوسرے مرحلہ کا باقاعدہ آغاز کیا گیا جو کہ رعایتی فیس کے ماڈل پر مبنی ہے،اس پروگرام کے ذریعے ایچ ای سی آن لائن سیکھنے کے عمل اور پُرعزم طلباء کی صلاحیتوں کے فروغ کا ارادہ رکھتا ہے،پروگرام کے تحت ایک ہزار سے زائد کورسز اور 28 لرننگ ٹریکس کی پیشکش کی جا رہی ہے،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ پاکستانی تعلیمی نظام کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں جن میں جامعات کے قیام کے بڑھتے مطالبات کے ساتھ معیار تعلیم اور تعلیم و تحقیق کی قومی ضروریات سے ہم آہنگی شامل ہیں۔ ملک میں نوجوانان کی صلاحیتوں میں اضافہ کے لئے اقدامات کی اشد ضرورت ہے اورجیسا کہ کورونا کے پھیلائو کے بعد سے آن لائن تعلیم میں بہت اضافہ ہوا ہے ، ان حالات میں کورس ایرا کے کورسز کا آغاز ایک اہم اقدام ہے،انہوں نے اساتذہ، جامعات کی قیادت اور انتظامی اسٹاف کے لیے نیشنل اکیڈیمی آف ہائیر ایجوکیشن کی طرف سے تربیتی پروگراموں کے انعقاد پر اکیڈیمی کی تعریف کی۔ کورونا پھیلائو کے دوران تعلیمی نظام میں موجود کمیوں جیسے ملک میں ڈیجیٹل تقسیم، اساتذہ میں آن لائن پڑھانے کی صلاحیت کی عدم موجودگی اور طلباء کی آن لائن کلاسز سمجھنے میں مشکلات کی نشاندہی ہوئی،انہوں نے امید ظاہر کی کہ کورس ایرا کے کورسز پاکستانی طلباء کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، انہیں ملازمت کی صلاحیتوں سے آراستہ کرنے اور ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے،ایچ ای سی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شائستہ سہیل نے کہا کہ ڈی ایل ایس ای آئی کا آغاز 2018ء میں کیا گیا۔ کورسز سے مستفید ہونے والے طلباء کو دنیا کی بہترین جامعات سے کورسز اور سرٹیفیکیشن کرنے کا موقع ملے گا اور وہ اعلیٰ ترین اور مہنگے آن لائن کورسز میں داخلہ لے سکیں گے،انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے ملکی نوجوانان کو ایک اثاثہ میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی،پروگرام کے دوسرے مرحلہ میں 50000 سے زائد لائسنسز کا اجراء کیا جائے گا اور پہلے سال میں تمام سرکاری و نجی جامعات کے لئے اندراج کی بیناد پر جاری ہونے والے لائسنسز کی تعداد 24000 ہو گی،کورس ایرا کے سی ای اور جیف میگیون کلاڈا نے نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کے لئے ڈی ایل ایس ای آئی کورسز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں پر سرمایہ کاری مستقبل پر سرمایہ کاری کرنے کے مترادف ہے،قبل ازیں ایچ ای ای آئی ٹی ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل نذیر حسین نے پروگرام کے آغاز کے پیچھے کارفرما نظریہ پر روشنی ڈالی،ان کا کہنا تھا کہ ایچ ای سی نے کورس ایرا کی معاونت سے اس پروگرام کا آغاز کیا تاکہ طلباء اور فیکلٹی کو عالمی سطح پر تسلیم کی جانے والی جامعات سے سرٹیفیکیشن کرنے کے مواقع میسر آسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں