3

مولانا اشرف علی تھانوی ؒایک ہمہ جہت شخصیت


مولانا مجیب الرحمان انقلابی
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کا شمار ان ممتاز ہستیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا… اور ان کی تصنیفات کی تعداد1400 سے زائد ہے۔ان ہی کے بارے میں قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ میرے پاس ایک ایسا عالم دین ہے کہ اگر اس کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور پورے ہندوستان کے بقیہ علماء کا علم دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو ان کا پلڑا بھاری ہو گا اور وہ ہیں مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ۔آج ملک بھر کی امن کمیٹیاں اور علماء کرام حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھا نوی ؒ کے اس سنہرے اصول اورخوبصورت امن فارمولے “اپنے مسلک کو چھوڑو نہیں اور دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہیں ” پر عمل پیر ا ہیں۔ حکیم الامت حضرت تھانوی ے تو قیام پاکستان سے بھی پہلے اس ضرورت کی طرف علماء کو متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا:’’ہوا کا رخ بتا رہا ہے کہ مسلم لیگ والے کامیاب ہو جائیںگے اور بھائی جو سلطنت ملے گی وہ انہی لوگوں کو ملے گی ۔۔۔ لہٰذا ہم کو یہ کوشش کرنا چاہیے کہ یہی لوگ دیندار ہو جائیں۔‘‘قیامِ پاکستان میں مولانا اشرف علی تھانوی کی دعائیں کوششیں اور ان کے خلفاء و رفقاء کا بنیادی کردار ہے اسی وجہ سے مولانا اشرف علی تھانوی کے حکم پر بانی جامعہ اشرفیہ لاہور حضرت مفتی محمد حسنؒ نے شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ ،مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع اور دیگر علمائے دیوبند کے ہمراہ تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا اور کئی جگہ مسلم لیگ کے امیدواروں کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کیا جس کے نتیجہ میں پاکستان بننے کے بعد مشرقی و مغربی پاکستان پر آزادی کا پرچم لہرانے کی سعادت ’’بزم اشرف‘‘ کے روشن چراغ اور دارالعلوم دیوبند کے قابل فخر سپوت حضرت مولانا علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کو حاصل ہوئی،حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا شاہ محمد اشرف علی تھانوی نے1930ء میں مسلمانوں کی حالت کودیکھتے ہوئے فرمایا تھا کہ مسلمانوں کی حالت کا تصور اگر کھانے سے پہلے آجاتا ہے تو بھوک اڑجاتی ہے اور سونے سے پہلے آجاتا ہے تو نیند اُڑ جاتی ہے۔ ان حالات میں مسلمانوں کی فلاح وکامیابی کیلئے حضرت تھانویؒ نے حیاۃ المسلمین کو تحریر فرمایا اور حیاۃ المسلمین کے نظام کوجاری کرنے کے لیے حضرت تھانویؒ نے 1930ء میں مجلس صیانۃالمسلمین کے نظام کو جاری کیا۔ قیام پاکستان کے بعد حضرت مولانا جلیل احمد شیروانی (المعروف پیارے میاں)نے حضرت مولانا مفتی محمد حسن بانی جامعہ اشرفیہ لاہور کی زیر سرپرستی اس نظام کو جاری فرمایا۔۔۔آج بھی صیانۃ المسلمین پاکستان کے صدر حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور اور نائب صدر حضرت مولانا مفتی محمدطیب (فیصل آباد)اور نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ قاری ارشد عبید (نگران اعلیٰ)و دیگر اکابرین کی سرپرستی میں مصروف عمل ہے،اپریل 1943ء میں دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس ہوا جس میں شرکت کے لئے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے پاس دعوت نامہ ارسال کیا گیا دعوت نامہ کے جواب میں مسلم لیگ کی مذہبی تربیت کافریضہ انجام دیتے ہوئے لکھا کہ میری دو کتابیں’’حیاۃ المسلمین اور صیانۃ المسلمین ‘‘ارکانِ مسلم لیگ عملی زندگی میں اختیار کر لیں۔۔۔۔۔،حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کو اوقات کی پابندی کا خیال بہت زیادہ رہتا، ان میں ذرہ برابر فرق نہیں آتا۔ انتہائی مجبوری کی صورت کے سوا کسی قسم کا کسی کے ساتھ استثناء نہ ہوتا،حضرت ِ تھانویؒ قرآن و حدیث، فقہ وتفسیر اور معرفت و سلوک میں غیرمعمولی امتیاز و تفوق کے علاوہ نفسیات شناس بھی تھے۔ انسانوں کی نفسیات میں انھیں گہرا دراک حاصل تھا۔ کس انسان سے کب اور کیا برتائو کیاجاے، اس سے وہ بہ خوبی واقف تھے۔ یہ وہ خوبی ہے، جو اصلاح و تربیت اور دعوت و تبلیغ کے کام کے لیے نہایت ناگزیر ہے۔ اس صلاحیت کے بغیر اس راہ میں کوئی مفید خدمت نہیں انجام دی جاسکتی۔ اس کے بغیر جو بھی کام ہوگا، وہ اطمینان بخش نہیں ہوگا،جہاں ایک طرف علامہ سید سلیمان ندویؒ سے لے حضرت مفتی محمد حسن سمیت سینکڑوں علماء و صلحاء آپ کے دامن عقیدت سے وابستہ اور دست حق پر بیعت تھے وہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے بھی بڑی تعداد میں آپ ؒکے ہاتھ پر توبہ کرتے ہوئے بیعت کی۔۔۔ برصغیر پاک وہند کے دو نامور شعراء جگر مراد آبادی مرحوم اور حفیظ جون پوری مرحوم کی توبہ اور آپ کے ہاتھ پر بیعت ہو نے کا ایمان افروزواقعہ بہت مشہور ہے ۔۔۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت مولانا شرف علی تھانوی کسی شخص یا فرد کانام نہیں، بلکہ ایک علمی، روحانی اور تربیتی ادارے کا نام ہے۔ وہ اپنی ذات میں ایک ایسی دانش گاہ تھے، جس نے اصلاح و تربیت کے لاتعداد پیاسوں کی پیاس بجھائی۔۔۔۔۔ آج کے دور میں دعوت و تبلیغ اور اصلاح و تربیت کاکام کرنے کے لیے مولانا تھانوی ؒ کی تعلیمات اورشخصیت مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔آپ کی تصانیف اور رسائل کی تعدادا1400 سے زائد ہیں جن میں تفسیر بیان القرآن ، نشر الطیب( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر مشتمل جامع مانع کتاب)، شہرہ آفاق تصنیف بہشتی زیور،احیاء السنن،امداد الفتاوی،الانتباہات المفیدہ ،اعلاء السنن ،المصالح العقلیہ،،جمال القرآن ،کلید مثنوی مولانا روم کی مثنوی کی شرح اور دیگرشامل ہیں۔۔۔حضرت مولانااشرف علی تھانوی 83سال 3 ماہ11 دن کی زندگی گزارنے کے بعد16 رجب1362ھ بمطابق20 جولائی1943ء میں علالت کے بعد انتقال کر گئے۔آپ ؒکی نماز جنازہ مولاناظفر احمد عثمانی نے پڑھائی اور بعد میںآپ ؒ کوتھانہ بھون کے قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔
بشکریہ نوائے وقت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں