12

مویشی منڈی‘ٹھیکیدار کو یکم جولائی سے قبل ہی انٹری فیس لینے کی اجازت،کارندے ڈبل فیس وصول کرنے لگے

ملتان،مویشی منڈی جنگل جسونت گڑھ کو لوکل گورنمنٹ پنجاب کی ڈی جی اور ملتان کے سی ایف او شیراز نے کمائی کا ذریعہ بنا لیا ، چہیتے ٹھیکیدار سے مبینہ طور پر بھاری نذرانہ لے کر یکم جولائی سے پہلے ہی جانوروں کی انٹری فیس لینے کی اجازت دے دی،نجی ٹھیکیدار کے کارندے مویشی مالکان سے ڈبل انٹری فیس وصول کرنے لگے – تفصیلات کے مطابق کیٹل مارکیٹ ملتان کے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے یکم جولائی سے قبل ہی پرائیویٹ ٹھیکیدار کو جنگل جسونت گڑھ مویشی منڈی میں جانوروں کی انٹری فیس وصول کرنے کی اجازت دی دی گئی ، جس کی وجہ سے پرائیویٹ ٹھیکیدار کے کارندوں نے مویشی مالکان سے لوٹ مار شروع کر رکھی ہے ، مویشی مالکان سے ڈبل فیس وصول کی جا رہی ہے ، جس پر مویشی مالکان نے حکام بالا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے دوسری جانب مویشی منڈی میں سہولیات کا بھی فقدان ہے ، پانی، سایہ نہ ہونے کی وجہ سے بھی مویشی مالکان پریشانی سے دوچار ہیں ، مویشی مالکان نے اللہ ڈتہ، فرحان احمد، گلزار رئیس نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاروبار مکمل طور پر تباہی کے دھانے ہر آگئے ہیں، حکومت نے آڑھتیوں اور مویشی مالکان کو ریلیف دینے کے بجائے 500 روپے فی جانور ٹیکس لگا دیا ہے ، پرائیویٹ ٹھیکہ دار منڈی میں جانور لانے اور لیجانے والوں سے ڈبل ٹیکس وصول کر رہے ہیں۔ جانوروں سے ٹیکس تو وصول کیا جارہا ہے لیکن کمپنی حکام کی جانب سے نہ تو سایہ فر اہم کیا جارہاہے اور نہ پینے کیلئے پانی ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی پانی نہ ملنے اور گرمی کی وجہ سے ایک آڑھتی جاں بحق ہوگیا تھا، جس کی ایف آئی آر کمپنی حکام کے خلاف کٹنی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں