25

جامعہ ہجویریہ میں “آغاز اسباق” ،،، داتا دربار میں روح پرور تقریب ..سیکرٹری اوقاف نبیل جاوید ، ڈائریکٹر جنرل اوقاف ڈاکٹر طاہر رضا بخاری سمیت علمی، دینی اور روحانی شخصیات کی شرکت

ملتان،دینی مدارس علوم ومعارف کا مرکز اور ہماری اسلامی تاریخ کا درخشاں باب ہیں، ان کوجدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔موجودہ حکومت اس پر بھر پور توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ صوفیاء کے اسلوب دعوت وتبلیغ کو عام کیا جائے ۔اسلام امن ، رواداری ،محبت اور انسان دوستی کا دین ہے،جس کی تعلیمات کا ابلاغ ہماری ذمہ داری ہے،ان خیالات کا اظہار گذشتہ دنوں نبیل جاوید سیکرٹری ،چیف ایڈ منسٹریٹر اوقاف پنجاب اور ڈائریکٹرجنرل اوقاف پنجاب ڈاکٹر طاہرر ضا بخاری نے جامعہ ہجویریہ میں “آغاز اسباق”کی تقریب میں کیا تھا ۔ اس موقع پر مولانا مفتی محمد رمضان سیالوی اور صاحبزادہ بدر الزمان قادری سمیت دیگر اکابر علماء نے بھی خطاب کیا ، جس میں درس نظامی کے طلباء کی کثیر تعداد کے علاوہ علماء اور دینی حلقوں کی معتبر شخصیات موجود تھیں ۔سیکرٹری/چیف ایڈ منسٹریٹر اوقاف پنجاب نے جامعہ ہجویریہ کے طلبہ کو مختلف امتحانات میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے پر انعامات بھی عطاکئے۔ جس میں تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے سالانہ امتحانات میں اوّل، سوئم اور پنجم پوزیشن حاصل کرنے پر بالترتیب محمد قاسم آصف، امین الحسنات اور مسعود احمد جبکہ شعبہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی کے سالانہ امتحانات 2020-21 میںعبد الوحید کو گولڈمیڈل حاصل کرنے پر اعزازات سے نوازا گیا،مدارسِ دینیہ قرونِ اولیٰ ہی سے خانقاہی نظام کا لازمی جزو رہے ہیں، بالخصوص برصغیر پاک وہند میں اولیاء کرام اور صوفیاء عظام کے آستانے اور خانقاہیں ہمیشہ دینی اور روحانی تعلیم وتربیت کے مراکز کے طور پر معروف اور معتبر تھے۔ خانقاہوں سے ملحق مدارس کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان اداروں نے جویانِ علم کی جس نہج پر علمی ، روحانی ، قلبی اور ذہنی تربیت کی ، دنیا کے کسی اور نظام تعلیم کو یہ سعادت نصیب نہ ہو سکتی۔ انہی دینی اداروں سے روحانیت اور تصوف کے وہ آفتاب آسمانِ علم پر ضوفشاں ہوئے جنہوں نے پوری دنیا اور خاص طور پر ساکنان برصغیر کے قلوب کو ایمان اور ایقان سے منور کیا اور انہیں اولیاء امت کی اشاعت اسلام کی کوششوں سے دو قومی نظریے جیسا عظیم تصور ملی اور سیاسی افق پر ابھرا جو بعد ازاں قیامِ پاکستان کی اساس بنا ۔ خانقاہوں سے ملحق مدارس میں رائج علوم اپنے دور کی عصری ضروریات سے بھی مزین ہوتے تھے اور یہاں کے فارغ التحصیل طلبہ معاشرے کے بہترین افراد ثابت ہوتے۔ بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خانقاہ کا وہ ادارہ جو ’’فیضانِ نظر‘‘ اور ’’مکتب کی کرامت‘‘ کے خوبصورت اوصاف سے متصف تھا۔ علمی ، دینی ، روحانی اور تربیت انفرادیت اور تشخص کو اس درجے پر برقرار نہ رکھ سکا۔ جس کے سبب معاشرے میں افتراق و انتشار اور مذہب پر فرقہ بندی اور تشدد پسندی کے رجحانات غالب آنے لگے۔ دینی تدریسی نظام کو آج قومی اور بین الاقوامی سطح پر جو چیلنجز درپیش ہیں، ان سے نبرد آزما ہونا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ ہم آج تعلیم، تدریس اور تربیت کو صوفیاء کے منہاج پر لے جائیں ۔ اس لیے کہ آج تک ان صوفیاء ، اولیاء اور اکابرین امت کی خانقاہوں سے ملحق کسی درسگاہ میں تشدد اور انتہا پسندی نے جنم نہیں لیا بلکہ ان اداروں سے محبت، امن، اخوت اور ایثار جیسے جذبوں کو تقویت میسر آئی ہے جو کہ علم کا اصل مقصد بھی ہے،انہی محرکات کے پیش نظر جناب شفیق حسین بخاری سابق سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر مذہبی امور و اوقاف پنجاب اور ڈاکٹر طاہر رضا بخاری ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور و اوقاف جنہیں اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ علمی و دینی ذوق سے نوازا ہے، کی علمی سرپرستی اور شبانہ روز مساعی سے حضرت داتا گنج بخش کے مزار اقدس کے زیر سایہ جدید دینی و عصری علوم وفنون سے مزین علمی وتحقیقی سنٹر ’’مرکز معارفِ اولیاء ‘‘ کا قیام عمل میں آیا ۔ مرکز کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ تحقیقی وتخلیقی سرگرمیاں مرکز معارفِ اولیاء سے جبکہ تعلیمی اور تدریسی امور ’’جامعہ ہجویریہ ‘‘ سے انجام پذیر ہو رہے ہیں۔ جامعہ ہجویریہ اگرچہ گذشتہ کئی سالوں سے قائم تھا مگر کسی قابل ذکر کارکردگی کا حامل نہ ہونے کے سبب نظروں سے اوجھل ہوتا جا رہا تھا۔ سال 2002ء اوقاف کی علمی تاریخ میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں ان اداروں کی ان کے اصل اعزاز اور تشخص کے مطابق بحالی اور انہیں سرگرم عمل کرنے کی طرف خصوصی توجہ دی گئی جو کہ اس آستاں سے وابستگی رکھنے والے کروڑوں عقیدت مندوں کے لیے باعث اطمینان امر ہے۔ اس ادارے میں درس نظامی کی کلاسز کے اجراء سے طلبہ کی دینی ، علمی ، روحانی اور اخلاقی تربیت کا سلسلہ جاری ہے، یہاں کے فارغ التحصیل اور فضلاء میدانِ عمل میں اتر کر عصری ضروریات اور جدید تقاضوں کی روشنی میں دین و ملت اور ملک و قوم کی خدمت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں،جامعہ کے طلباء کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مورخہ یکم دسمبر 2015ء جامعہ میں کمپیوٹر ؍لینگوئج لیب کا قیام عمل میں آیا، جس میں طلبہ 2بین الاقوامی زبانیں عربی اور انگریزی بول چال کی تربیت حاصل کریں گے، تاکہ وہ دنیا کے مختلف ممالک میں جا کر تبلیغی فریضہ سرانجام دے سکیں ۔ لینگوئج لیب کے ساتھ ساتھ طلبہ کو کمپیوٹر سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔ یہ ادارے آج ایک کامیاب اور بھرپور نظام کی طرف اپنے قدم بڑھا رہے ہیں۔ الحمد للہ! یہ ادارہ ترقی کی منازل بتدریج طے کرتا ہوا انتہائی کامیابی و کامرانی سے دورۂ حدیث؍ الشہادۃ العالمیہ فی العلوم العربیہ والاسلامیہ اور تخصص فی الفقہ (ایم فل) تک جا پہنچا ہے۔ جو کہ یقینا علمی و ادبی حلقوں کے لیے ایک اطمینان بخش امر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں