21

نشتر ہسپتال میں 3 نابینا افراد کے آنکھوں کے شفاف پردے کی کامیاب پیوند کاری،کمشنر کی مریضوں سے ملاقات،مبارکباد دی


ملتان(سٹاف رپورٹر)جنوبی پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک اور سنگ میل عبور کرلیا گیا،حکومت پنجاب کی ہدایت پر کارنیا ٹرانسپلانٹ کا نشتر ہسپتال میں آغاز ہوگیا،نشتر ہسپتال میں 3 نابینا افراد کے آنکھوں کے شفاف پردے کی کامیاب پیوندکاری کردی گئی،جس میں 10 سالہ مہرین،27 سالہ علیم،32 سالہ سلیم اختر شامل ہیں،کمشنر ملتان ڈویژن جاوید اختر محمود نے مریضوں سے ملاقات کی سہولیات بارے بات چیت کی اور انکو مبارکباد دی،انہوں نے کہا کہ کارنیا ٹرانسپلانٹ سے اس خطے کے لاکھوں مریضوں کو نئی زندگی ملے گی،عبدالستار ایدھی نے اپنی دونوں آنکھیں عطیہ کی تھیں،میں بھی اپنی آنکھیں عطیہ کرنے کا اعلان کرتا ہوں،انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کررہے ہیں، ہر ممکن کوشش کی جارہی کہ عوام کی صحت کی بنیادی سہولیات تک سہل رسائی ممکن بنائی جائے،پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کو کارنیا ٹرانسپلانٹ بارے خط لکھا گیا تھا،اس سے پہلے گردے کی پیوندکاری بھی اس خطے کے لوگوں کیلئے تحفہ ہے،ممبر قومی اسمبلی احمد حسین ڈیہڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اس خطے کی ترقی کے خواہاں ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر نشتر ہسپتال میں آنکھوں کے شعبے میں جدت لائی جارہی ہے،جلد ہی اس شعبے کو ایک انسٹیٹیوٹ کا درجہ دیا جائے گا اور آئی بینک قائم کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ آنکھیں عطیہ کرنا ثواب ہے،اس لئے وہ دوسروں کی زندگی میں روشنی بھرنے کیلئے اپنی اور اپنے خاندان کی آنکھیں عطیہ کرنے کا اعلان کرتے ہیں،وی سی نشتر یونیورسٹی ڈاکٹر رانا الطاف نے کہا کہ پہوٹا کی اجازت کے بعد نشتر ہسپتال میں 3 مریضوں کی کارنیا پیوندکاری کی گئی،پروفیسر ڈکٹر راشد قمر راؤ کی سربراہی میں 3 مریضوں کی کامیاب سرجری کی گئی،مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی گئ ہیں۔نشتر ہسپتال خطے کا سب سے بڑا ہسپتال ہے اور اس میں تعمیر و مرمت کی اشد ضرورت ہے،آئی سرجن پروفیسر ڈاکٹر راشد قمر راؤ نے کہا کہ آنکھوں کا عطیہ کرنے سے بہت سارے اندھے لوگوں کو روشنی مل سکتی ہے،پاکستان میں بعد از موت آنکھوں کے عطیات جانب لوگوں کا رجحان نہیں ہے،کارنیا کی پاکستان میں عدم دستیابی سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں،مخیر حضرات کے تعاون سے آنکھوں کا بینک قائم کیا جاسکتا ہے،وفات پاجانے کے بعد انسانی آنکھیں 12 سے 24 گھنٹے تک زندہ رہتی ہیں،حکومت پنجاب کی ہدایت پر بلامعاوضہ سرجری کی جارہی ہے، ابتک 130 مریض کارنیا ٹرانسپلانٹ بارے رجوع کر چکے ہیں جبکہ 1000 سے زائد آنکھوں کے ریٹینا کی سرجری کی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنی ٹیم پر فخر ہے،ڈاکٹر رضا علی شاہ، ڈاکٹر محمد وقاص اور دیگر تمام سٹاف نے بھرپور لگن کیساتھ کام کیا،بعد ازاں ممبر قومی اسمبلی احمد حسین ڈیہڑ نے کمسن مریضہ مہرین بی بی کو زیورات کا تحفہ دیا۔تینوں مریضوں میں تحائف تقسیم کئے گئے،جبکہ سرجری ٹیم میں پھول اور کمشنر ملتان ڈویژن جاوید اختر محمود، ممبر قومی اسمبلی احمد حسین ڈیہڑ کو سونئیر پیش کیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں