29

نورمقدم قتل کیس، ملزم ظاہر جعفر کے والدین اور 2 گھریلو ملازمین گرفتار

اسلام آباد(بیورو رپورٹ) نور مقدم قتل کیس میں پولیس نے ملزم ظاہر جعفر کے والدین اور 2 گھریلو ملازمین کو گرفتار کر لیا ہے،نورمقدم قتل کیس میں اہم پیش رفت، ملزم ظاہر جعفر کے والدین اور دو گھریلو ملازمین کو مختلف الزامات کے تحت حراست میں لے لیا گیا جن میں شواہد چھپانے اور جرم میں اعانت کے الزامات شامل ہیں،پولیس نے ملزم کے والدین کا کلینک بھی سیل کر دیا ہے،یاد رہے کہ سابق سفارتکار شوکت مقدم کی 27 سالہ بیٹی نور مقدم وفاقی دارالحکومت کے علاقے سیکٹر F-7/4 میں مردہ حالت میں ملی تھی، قتل کا الزام ظاہر جعفر پر لگایا گیا ہے جو پہلے ہی زیر تفتیش ہے،جبکہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے نور مقدم قتل کیس میں گرفتار سفاک ملزم ظاہر جعفر کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے پیر کے روز ملزم کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے،جوڈیشل مجسٹریٹ صہیب بلال رانجھا کی عدالت نے تھانہ کوہسار میں درج سابق پاکستانی سفیر کی بیٹی نور مقدم قتل کیس میں گرفتار ملزم ظاہر جعفر کے جسمانی ریمانڈ میں 2 روزہ توسیع کر دی،سماعت کے دوران پولیس نے ملزم کو عدالت پیش کیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کون ہے ؟ جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو گرفتار کر کے تین دن میں اس سے آلہ قتل چاقو برآمد کرلیا جبکہ اس سے پستول بھی قبضہ میں لیا گیا اور خون کے نمونہ جات لیے ہیں، ملزم کا موبائل ریکقر کرنا ہے، استدعا ہے کہ جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جائے،اس موقع پر مدعی مقدمہ کی طرف سے شاہ خاور ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے اور کہا کہ موبائل برآمدگہ بہت ضروری ہے۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا اور بعدازاں ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں دو روزہ توسیع کرتے ہوئے پیر کو دوبارہ عدالت پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں