5

وزیراعظم کا دورہ گوادر،سی پیک فیز2 کا آغاز،بلوچستان کی پسماندگی کے خاتمے کا باعث بنے گا


وزیراعظم عمران خان کا دورہ گوادر جہاں سی پیک منصوبے کیلئے اہم سنگ میل ثابت ہو گا،وہاں بلوچستان کی پسماندگی اور محرومیوں کے خاتمے کا بھی ذریعہ بنے گا،وزیر اعظم نے گوادر فری زون کا افتتاح اور 2200ایکڑ پر فری زون فیز ٹو کا سنگ بنیادرکھنے کے ساتھ ساتھ ایکسپو سینٹر اور ایگریکلچرل انڈسٹریل پارک کے ساتھ ساتھ تین فیکٹریوں کابھی افتتاح کیا،۔سی پیک منصوبوں پر کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں گے، گوادر پورٹ مکمل آپریشنل ہو چکی ہے، 60ایکڑ رقبہ پر فری زون فیز۔1مکمل ہو گیاہے، 2200ایکڑ پر فیز۔2منصوبے کے سنگ بنیاد سے اربوں ڈالر کے سرمایہ کاری کا نیا سلسلہ شروع ہو گا۔ گوادرمیںجدیدہسپتال،ایئرپورٹ اور ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کی تعمیر بھی جاری ہے گوادر خطے میں اقتصادی اور ترقیاتی سرگرمیوں کا محور بنے گا جس سے ناصرف پاکستان اور بلوچستان کو فائدہ ہوگا بلکہ وسطی ایشیا سمیت علاقائی ممالک کیلئے بھی وسیع تر تجارتی مواقع پیدا ہوں گے، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن کے تحت سہولیات فراہم کی جائیں گی، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی براہ راست وزیراعظم آفس سے کی جارہی ہے، اس سلسلہ میں وزیراعظم آفس اور وزیراعلی سیکرٹریٹ کے درمیان موثر رابطہ کو بھی یقینی بنایا جارہا ہے،سکیورٹی فورسز کی محنت اور قربانیوں کے بغیر ان منصوبوں پر کام آگے بڑھانا مشکل ہوتا۔ ان کی قربانیاں بھی قابل تحسین ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ گوادرپاکستان کا فوکل پوائنٹ بننے جا رہا ہے اور خطے میں اقتصادی اور ترقیاتی سرگرمیوں کا محور بنے گا،گوادر وسطی ایشیا تک کے خطے کو آپس میں ملا رہا ہے، تاجکستان اور ازبکستان کے ساتھ ہمارے معاہدے ہوئے ہیں، وہ گوادر کے راستے تجارت کرنا چاہتے ہیں۔چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ سی پیک پاکستان کے حاسدوں اور دشمنوں کے پروپیگنڈے کے نشانے پر ہے،سی پی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کے لئے بھر پور اقدامات کئے جا رہے ہیں،وزیراعظم عمران خان کا کہنا کہ گوادر خطے میں اقتصادی اور ترقیاتی سرگرمیوں کا محور بنے گا جس سے نہ صرف پاکستان اور بلوچستان کو فائدہ ہوگا بلکہ وسطی ایشیاء سمیت علاقائی ممالک کیلئے بھی وسیع تر تجارتی مواقع پیدا ہوں گے،غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن کے تحت سہولیات فراہم کی جائیں گی، ہماری کوشش ہے کہ ترقی کے عمل میں ملک کے تمام علاقوں کو ساتھ لیکر چلیں، ملک کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کیلئے برآمدات میں اضافہ پر توجہ دینا ہوگی، گوادر سمیت تمام شہروں کے ماسٹر پلان بنائے جا رہے ہیں، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی براہ راست وزیراعظم آفس سے کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم آفس اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے درمیان موثر رابطہ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے بلوچستان کی ترقی کیلئے 730 ارب روپے کا تاریخی پیکج دیا ہے،
وزیراعظم نے کہاکہ گوادر کے دورے کے ان کے دو مقاصد تھے، ایک تو گوادر فری زون کا افتتاح اور 2200 ایکڑ پر فری زون فیز ٹو کا سنگ بنیاد رکھنا تھا۔بلوچستان کو ماضی میں ترقی میں نظرانداز کیا گیا، بدقسمتی سے ترقی میں کئی علاقے بہت پیچھے رہ گئے اور ان میں بلوچستان بھی شامل ہے۔ جبکہ 1960 کی دہائی میں پاکستان خطے کے ان چار ممالک میں شامل تھا جو تیزی سے ترقی کر رہے تھے ۔ ہم ایک رول ماڈل تھے، آج جو ممالک ایشیئن ٹائیگر شمار ہوتے ہیں، وہ ہماری طرف دیکھا کرتے تھے لیکن ہم نے غلطیاں کیں جس کی وجہ سے ہمیں یہ حالات دیکھنا پڑے۔ انہوں نے کہاکہ گوادر پاکستان کا فوکل پوائنٹ بنے گا جس سے پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کو فائدہ ہوگا۔ سی پیک کے مغربی روٹ کے اب تمام منصوبوں پر کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ توانائی ، پانی کے منصوبے اور انٹرنیشنل گوادر ایئرپورٹ کی تعمیر ہو رہی ہے، یہ منصوبہ گوادر کو دنیا سے ملائے گا، ان منصوبوں پر کام تیز ہونا چاہئے تھا لیکن ان کی رفتار سست رہی۔ وزیراعظم نے کہاکہ چینی اور دیگر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یہاں پر بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اگر ہم انہیں بہتر خدمات فراہم نہیں کریں گے تو ایسے ممالک موجود ہیں جہاں پر ان کو بہتر سہولیات مل رہی ہیں، اس سلسلہ میں ویتنام، کمبوڈیا اور بنگلہ دیش میں سرمایہ کاروں کو بہت سہولیات مل رہی ہیں، موجودہ حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے ون ونڈ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری برآمدات میںماضی میں اضافہ نہیں ہوا اور برآمدات بڑھانے پر توجہ نہیں دی گئی اور روپے پر دباؤ بڑھنے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کی صورت میں مسائل پیدا ہوتے ہیں اور آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔حکومت کی کوشش ہے کہ سرمایہ کاروں کو خصوصی اقتصادی زونز اور نارتھ فری زون جیسے مقامات پر سرمایہ کاری کیلئے ترغیب دیں تاکہ ملک کی آمدنی بڑھے اور میکرو اقتصادی عدم توازن ختم ہو،ملک میں 18 ویں ترمیم کے بعد اخراجات صوبوں کو منتقل ہو چکے، ہماری کوشش ہے کہ کئی معاملات پر وفاقی حکومت اجازت دے دیتی ہے لیکن صوبوں میں مسائل پیدا ہو جاتے ہیں،بلوچستان حکومت کے ساتھ وفاقی حکومت کا بہت اچھا رابطہ ہے، یہ رہنا چاہئے اور کیونکہ جب ملک میں سرمایہ کاروں کو فائدہ ہو رہا ہوتا ہے تو وہ وہاں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں اس سے دوسرے سرمایہ کار بھی اس ملک کا رخ کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ چین کے ساتھ دوستی اور تعلقات کا ہمیں بڑا فائدہ ہے، چین معاشی لحاظ سے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ تمام شہروں کیلئے ماسٹر پلان بن رہے ہیں کیونکہ ماسٹر پلان نہ ہونے کی وجہ سے شہر پھیلتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے سہولیات کی فراہمی میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں،گوادر میں ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کے قیام سے گوادر اور بلوچستان کے نوجوانوں کو فائدہ ہوگا، جیسے جیسے یہاں سرمایہ کاری بڑھے گی اور صنعتیں لگیں گی تو یہاں پر پیشہ وارانہ مہارت کی حامل افرادی قوت کی ضرورت ہوگی،انہوں نے کہاکہ گوادر میں 500 بستروں کا ہسپتال تعمیر کیا جا رہا ہے، ہماری کوشش ہے کہ تمام علاقوں میں یکساںترقی ہو جو ماضی میں پیچھے رہ گئے ہیں۔فاٹا، بلوچستان، پنجاب کے جنوبی اضلاع اور شمالی علاقہ جات پر توجہ دی جا رہی ہے اور پہلی مرتبہ پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے کثیر فنڈز فراہم کئے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے بلوچستان کیلئے اگلے چار سال کیلئے 730 ارب روپے کا بڑا پیکج دیا ہے اور اتنا بڑا ترقیاتی پیکج پہلے کبھی صوبے کو نہیں دیا گیا۔ بلوچستان بہت بڑا علاقہ ہے جب تک یہاں پر سڑکیں نہیں بنیں گی یہاں ترقی نہیں ہو سکتی، ترقیاتی پیکج کے ذریعے دوردراز علاقوں کو آپس میں ملایا جا رہا ہے۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ کالجز بنائے جائیں، گوادر میں یونیورسٹی بن رہی ہے، کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت غریب گھرانوں کو آسان شرائط پر قرضہ فراہم کیا جائے گا، کسانوں کو سہولیات دی جائیں اور علاج کیلئے ہیلتھ انشورنس فراہم کی جائے گی۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ سست روی کا شکار رہا ہے کیونکہ ماضی میں بینکوں کو غریب افراد کو گھروں کیلئے قرضے دینے کی یہاں روایت نہیں رہی، اب یہ قرضے فراہم کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ گوادر میں کامیاب جوان پروگرام کے تحت وزارت بحری امور نے ماہی گیروں کی کشتیوں اور مچھلیاں پکڑنے کے جال بہتر بنانے کیلئے پروگرام بنایا ہے۔ اگر کسی علاقے میں سماجی و اقتصادی ترقی نہیں ہوتی اس محرومی کی وجہ سے انتشار پسند افراد بے روزگار نوجوانوں کو آسانی سے اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں،وزیراعظم نے افغانستان کے حوالہ سے کہا پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن ہو، افغانستان کے مسئلے کا سیاسی حل نکلے، خانہ جنگی اور انتشار نہ ہو۔سب کی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو، ایران کے صدر سے بھی بات ہوئی ہے اور ہماری حکومت کی یہ کوشش ہے کہ افغانستان کے سب ہمسائے مل کر کوشش کریں کہ وہاں پر سیاسی حل نکالا جائے۔ کیونکہ خانہ جنگی کا سب سے زیادہ نقصان توافغانستان کو ہوگا لیکن ہمسایہ ممالک کو بھی اس کا نقصان ہوگا، پناہ گزینوں کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی رابطے بھی متاثر ہوں گے۔ گوادر وسطی ایشیا تک کے خطے کو آپس میں ملا نے کا ذریعہ ہے، تاجکستان اور ازبکستان کے ساتھ ہمارے معاہدے ہوئے ہیں، وہ گوادر کے راستے تجارت کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر خارجہ کوشش کر رہے ہیں کہ تمام ہمسایہ ممالک اور طالبان کے ساتھ بھی بات کریں اور کسی نہ کسی طرح وہاں پر مسئلے کا سیاسی حل نکل آئے۔ وزیراعظم نے کہاکہ وزارت منصوبہ بندی نے وزیراعلی کے ساتھ بیٹھ کر بلوچستان کیلئے بہت اچھا پیکج تیار کیا ہے، وزیراعظم آفس گوادر کے منصوبوں کی مکمل نگرانی کرے گا اور وزیراعلی سیکرٹریٹ سے بھی ہمارا رابطہ رہے گا تاکہ تمام منصوبوں پر پیش رفت کا ماہانہ جائزہ لیا جائے، چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ سی پیک منصوبوں پر کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، گوادر پورٹ مکمل آپریشنل ہو چکی ہے ، اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں گے ۔ آج ایک تاریخی دن ہے۔ گوادر پورٹ کے آپریشنل ہو نے کے ساتھ 40 کمپنیاں یہاں پر اپنی سرگرمیاں شروع کر چکی ہیں۔ ان منصوبوں کے راستے میں دیرینہ رکاوٹیں دور کر کے13 سال بعد گوادر پورٹ فری زون پالیسی بنائی گئی۔ ایل پی جی اور ایل این جی لائسنسز کا اجرا ہوا۔ ایران کے ساتھ سرحدی انتظام کے معاملے پر پیش ر فت کے بعدایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر کا آغازکیا جا چکاہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کے ساتھ ساتھ گوادر شہر میں بھی ترقی کا سفر جاری ہے۔ ماسٹر پلان کی منظوری دی جا چکی ہے اور اس پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ جنوبی بلوچستان کے لوگوں میں ماضی میں نظر انداز کئے جانے کااحساس پایا جاتا ہے۔ پانی، بجلی، سڑکوں اور روزگار کی فراہمی اس علاقے کے مسائل ہیں جو جنوبی بلوچستان پیکج سے حل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ پاکستان سے حسد کرنیوالوںاوردشمنوں کے پروپیگنڈے کے نشانے پر ہے۔ سی پیک کے خلاف پراپیگنڈا ناکام بنانے اور اس پراپیگنڈے کے اثرات ذائل کرنے میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری سمیت چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد قیصر اور دیگر صوبائی و وفاقی وزرا سی پیک کے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں بھرپور کردار ادا کررہے ہیں۔ ہماری سکیورٹی فورسز کی محنت اور قربانیوں کے بغیر ان منصوبوں پر کام آگے بڑھانا مشکل ہوتا، ان کی قربانیاں بھی قابل تحسین ہیں۔ چین کے سفیر نونگ رونگ بھی سی پیک منصوبوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں،گوادر میں غیرملکی سفیروں کو سی پیک سے متعلق منصوبوں پر بریفنگ دی گئی، گوادر میں دی گئی بریفنگ میں متعدد ملکوں کے سفیروں نے شرکت کی، مختلف ممالک کے سفیروں خصوصا سعودی عرب کے سفیر نے گوادر میں کام کی تعریف کی۔سعودی سفیر نے کہا کہ سی پیک منصوبوں اور گوادر میں کاموں کی تشہیر اور مارکیٹنگ میں کمی کی وجہ سے سی پیک اور گوادر سے متعلق منصوبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع جاننے میں مشکلات درپیش ہیں۔ واضح رہے وزیراعظم عمران خان سفیروں کو دی گئی اس بریفنگ کا حصہ نہیں تھے۔وزیراعظم عمران خان کو بلوچستان پر حکومت کی خصوصی توجہ کے وژن کے تحت تاریخی جنوبی بلوچستان ترقیاتی پیکیج پر پیش رفت کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ جس میںبتایا گیا کہ654ارب کے مجموعی پیکیج میں سے رواں مالی سال 99.38ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔جس میں ٹرانسپورٹ و بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، صاف پانی کی فراہمی ، اس کے بہتر استعمال، زراعت و لائیو سٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، صنعت و تجارت، افرادی قوت و تعلیم اور دیگر ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ پیکیج میں کل 1100کلومیٹر سڑکوں کے منصوبے شامل ہیں۔ جو بلوچستان کے لوگوں کو نقل و حرکت میں آسانی کے ساتھ ساتھ زرعی اجناس کو منڈیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کریںگی۔ پیکیج میں پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے سات بڑے ڈیمز اور 100کے قریب چھوٹے ڈیمز کی تعمیر بھی شامل ہے۔ انکرا، سواد اور شادی کور ڈیم گوادر میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہونگے۔ اسکے علاوہ آبپاشی کے نظام کی بہتری اور زراعت کیلئے پانی کی فراہمی ایگریکلچرل ٹرانسفارمیشن پلان کے نفاذ میں معاونت اور زرعی پیداوار میں اضافے کا وسیلہ بنیں گے، اس کے علاوہ اجلاس کو بتایا گیا کہ پیکیج کے تحت بجلی کی فراہمی کی موجودہ شرح کو 12 فی صد سے بڑھا کر 57فی صد کیا جائے گا. اسکے علاوہ ایل پی جی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ تعلیم کیلئے ایسپائر کے نام سے ایک جامع منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس کے تحت ٹیلی سکولنگ سے دور دراز کے علاقوں کے طلبا کو فاصلاتی تعلیم کی فراہمی کی جا رہی ہے مزید یہ کہ وسیلہِ تعلیم کے تحت 25000بچوں کو تعلیم دی جا رہی ہے جبکہ گوادر اور خاران میں کیڈٹ کالجز اور تربت، پشین اور خضدار میں خواتین کیلئے یونیورسٹیوں کا قیام بھی منصوبے میں شامل ہیں اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ فاصلاتی تعلیم کے ذریعے 6لاکھ 40 ہزار بچے تعلیم سے مستفید ہو سکیں گے۔ احساس منصوبے کے تحت پانچ ہزار خاندانوں کی مالی معاونت بھی کی گئی ہے جبکہ مزید بیس ہزار خاندانوں کیلئے سروے جاری ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل بلوچستان کے تحت کیچ، گوادر، چاغی اور نوشکی میں ڈیجیٹل کنیکٹوٹی کو بہتر بنانا، بڑی شاہراہوں کے اطراف ہائی سپیڈ انٹر نیٹ کی فراہمی اور 35ہزار نوجوانوں کو اگنائیٹ پروگرام کے تحت ڈیجیٹل سکلز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ صنعت اور تجارت کے حوالے سے گبد، مند اور چیدگی میں مشترکہ بارڈر مارکیٹس، وشوک، ماشکیل اور تربت میں کھجوروں کی پروسیسنگ کے پلانٹس، ماربل کی بین الاقوامی معیار کی صنعتیں، خضدار میں زیتون کے تیل کے پلانٹ، گوادر میں کشتی بانی کی صنعت کا استحکام و جدت اور مائننگ کی جدید مشینری کی فراہمی کے منصوبوں پر بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے، تاریخ میں پہلی بارکوئی حکومت قدرتی وسائل اور باصلاحیت افرادی قوت سے بھرپور صوبے، بلوچستان پر توجہ دے رہی ہے۔ سڑکوں کے جال، صنعتی ترقی سے روزگار کی فراہمی، زراعت کی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں۔
بشکریہ نوائے وقت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں