15

وزیراعلیٰ پنجاب فروغ تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں،صوبائی وزیر برائے توانائی اختر ملک

ملتان(سٹاف رپورٹر)خواتین کا تعلیم پر مساوی حق ہے،پڑھی لکھی ماں ہی باشعور اور مہذب قوم دے سکتی ہے،وزیراعلیٰ پنجاب فروغ تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں،38 ہزار سکولوں کو آپ گریڈ کر دیا گیا ہے،ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر برائے توانائی ڈاکٹر اختر ملک نے آواز فائونڈیشن اور شعور ترقیاتی تنظیم کے زیر اہتمام منعقدہ ایجوکیشن کانفرنس برائے جنوبی پنجاب میں بچیوں کی تعلیم کا فروغ اور ہماری زمہ داریوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت عوام کا پیسہ انہی پر لگا رہی ہے،نیلی و پیلی ٹیکسی یا اورنج لائن پر یا سیوریج پر نہیں،اساتذہ کو ایک ٹرانسفر،جنوبی پنجاب سیکریڑیٹ،کا تحفہ دینے کے ساتھ اب تک پنجاب کے 10ہزار سے زائد سکول سولر انرجی پر منتقل کئے جاچکے ہیں،جن میں سے 25 سو ایسے سکول تھے جہاں بجلی موجود نہیں تھی یا وولٹیج انتہائی کم تھا اور داخلہ نہ ہونے کے برابر تھا آج وہاں شرح خواندگی بڑھ چکی ہے۔اسی طرح جنوبی پنجاب گرلز ایجوکیشن فنڈ کے قیام کیلئے بھی عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔تاکہ اس خطہ کی زیادہ سے زیادہ بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہو سکیں،آواز فائونڈیشن کے چیف ایگزیکٹو ضیا الرحمان نے کہا کہ ملک بھر میں 2کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں جن میں سے پنجاب کے 80لاکھ بچے بھی شامل ہیں،سالانہ صرف 14لاکھ بچیاں میڑک کرپاتی ہیں،2 سے سوا دو کروڑ بچیاں بھی سکولوں میں نہیں جاتی ہیں جن کی بنیادی وجہ غربت،ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی،سکولوں میں ٹوائلٹ،چاردیواری اور کلاس رومز کا فقدان ہے ان کو دور کیا جائے،تعلیم انسان کا بنیادی حق ہے جیسے تسلیم کرتے ہوئے 2014 میں مفت لازمی تعلیم کا بل منظور ہوا تاہم نفاذ آج تک یقینی نہیں بنایا جاسکا،ریاست کو چاہیئے کہ اپنی زمہ داریاں ادا کرتے جنوبی پنجاب میں بچیوں کی تعلیم کے فروغ کیلئے اقدامات کو دیتے ہوئےجنوبی پنجاب میں گرلز ایجوکیشن کے فروغ کیلئے سپورٹ فنڈ قائم کرے،رکن صوبائی اسمبلی و ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب سبین گل خان اور ممبر صو بائی اسمبلی ملک سلیم لابر نے کہا کہ تعلیم نسواں ایک وقت میں خواب سمجھا جاتا تھا تاہم آج بچیوں کی حوصلہ افزا تعداد علم حاصل کررہی ہے۔موجودہ حکومت بچیوں کی تعلیم کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے اور تعلیم نسواں حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ماضی میں جنوبی پنجاب کو تمام تر ترقیاتی واسئل سمیت تعلیمی سہولیات سے محروم رکھا گیا مگر ہماری حکومت نے ترقی کا پیہہ جنوبی پنجاب کی طرف موڑ دیا ہے اور بچے بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہمارا مشن ہے ۔سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی رائو شمشیر احمد خان نے کہا کہ شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں کی بچیاں تعلیم کے حصول کیلئے زیادہ مشکلات سے دو چار ہیں۔جنہیں دور کرنے میں حکومت پنجاب کوشاں ہے۔ملتان کے 247سکول ہیں موجودہ حکومت نے جلالپور پیر والا میں مزید 5 ہائی سکول قائم کئے ہیں،نئے ایلیمنٹری سکولوں میں بھی 9ہزار بچیاں زیر تعلیم ہیں تاہم تعلیمی وظائف کی بندش سے انرولمنٹ میں کمی آئی ہے،لیکن جلد ہی یہ بندش جلد ہی ختم ہو جائے گی موجودہ حکومت تعلیم نسواں کے فروغ کیلئے متعدد تعلیمی پراجیکٹس لا رہی ہے،چیئرمین تعلیمی بورڈ ملتان حافظ محمد قاسم نے کہا کہ معاشرے تبدیل ہو چکا ہے،آج پرائمری سے اعلیٰ تعلیم تک بچیاں نمایاں نتائج دے رہی ہیں،جن کو مزید حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے،اس موقع پر چیرمین شیلٹر ہوم دارالامان شاہد محمود انصاری نے کہاکہ تعلیم وقت کی ضرورت ہے،پڑھی لکھی ماں بچوں کی تربیت بہترین طریقے سے کر سکتے ہے،ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن میڈم شمیم اختر سیال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گڈ گورننس اور یکساں نصاب کے ذریعے ملک خاص کر جنوبی پنجاب میں دور دراز کے علاقے بھی تعلیم کے فروغ کے حوالے سے حکومت کا فوکس ہیں ڈپٹی ڈی ای او میڈم سلطانہ اسلم عانا اور تحصیل ایجوکیشن آفیسر خالد عالم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے فروغ کیلیے سول سو سائٹی کا کردار بے حد ضروری ہے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ تو سرگرم عمل ہے لکین والدین ۔سول سو سائٹی کی اس حوالے سے سوچ وبچار ایک اچھا پہلو ہے،کانفرنس میں جنوبی پنجاب کے 11اضلاع سمیت ملتان سے ماہر تعلیم اور سماجی رہنماوں ڈاکٹر ہمایو شہزاد۔ منور خورشید صدیقی،مہہ طلعت منور۔محمد یونس صدیقی سینیر نائب صدر تعلیمی بورڈ ایسوسی ایشن ڈاکٹر فاروق لخان لنگاہ،عامر بشیر،ملک امیر نواز،چوہدری منصور احمد۔ قیصر اقبال۔ میاں وقاص فرید ۔ملک محمد یوسف۔ اقبال خان بلوچ جنوبی پنجاب کے گیارہ اضلاع سے ایجو کیشن چیمپینز شمائلہ شاہ۔ ردا چوہدری،مس سلمیٰ،نازیہ سلیم،تحریم بتول لاریب شیخ،رومانہ امین،بشریٰ فاطمہ،سمیرا کوثر، ثنا افضل، قیصرہ پروین فہمیدہ۔ نے شرکت کی،۔اور اپنی اپنی تجاویز دیں ۔کانفرنس میں طے کیا گیا کہ دی جانے والی تجاویز کو تحریری سفارشات کی صورت میں وزیر اعلیٰ پنجاب تک پہنچانے کے لیے صوبائ وزیر ڈاکٹر اختر ملک اور ایم پی ایز میڈم سبین گل خان اور ملک سلیم لابر اپنا بھر پور کردار اداکریں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں