10

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی ملاقات

ملتان(ویب ڈیسک)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے وزارت خارجہ میں ملاقات کی،وزیر خارجہ نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا،وزیر خارجہ نے ان کی نئی تعیناتی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا،پاکستان ڈیجیٹل معیشت، تجارت اور ڈیجیٹل صنعتوں کی جامع تبدیلی اور ترقی کیلئے ڈی سی او کے ایجنڈے کی مکمل حمایت کرتا ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ڈی سی او کے سیکرٹری جنرل دیمے ال یحییٰ سے ملاقات میں گفتگو،تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل معیشت، تجارت اور ڈیجیٹل صنعتوں کی جامع تبدیلی اور ترقی کے لئے ڈی سی او کے ایجنڈے کی مکمل حمایت کرتا ہے،یہ بات انہوں نے ڈیجیٹل تعاون تنظیم (ڈی سی او) کی سیکرٹری جنرل دیمے ال یحییٰ سے بات چیت کرتے ہوئے کہی،جنہوں نے جمعرات کو وزارت خارجہ میں ان سے ملاقات کی،وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، حکومت کے ڈیجیٹل پاکستان ویژن کے تناظر میں ایک بانی رکن کے طور پر ڈی سی او کو ایک اہم پلیٹ فارم سمجھتا اور سعودی عرب کی طرف سے تجویز کردہ ڈی سی او کو خصوصی اہمیت دیتا ہے،شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل تبدیلی کے مشترکہ مقصد کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے آئی سی ٹی کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے مشترکہ اقدامات کے فروغ کا متمنی ہے،انہوں نے کہا کہ ہم ڈی سی او کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، سائنس،صحت، تعلیمی، تجارتی، سماجی زرعی، سرمایہ کاری اور سکیورٹی کے شعبوں میں عالمی ڈیجیٹل ایجنڈے کو فروغ دینے کیلئے یہ ایک قابل عمل پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے،شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل معیشت، تجارت اور ڈیجیٹل صنعتوں کی جامع تبدیلی اور ترقی کیلئے ڈی سی او کے ایجنڈے کی مکمل حمایت کرتا ہے،شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کے باصلاحیت اور تربیت یافتہ انسانی وسائل کے پیش نظر، ڈی سی او کی رکنیت ہمارے ترقیاتی اہداف کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے،پاکستان ایک بین الاقوامی تنظیم کے طور پر، ڈی سی او کی بڑھتی ہوئی ساکھ کو سراہتا ہے اور اس میں شمولیت پر آمادگی کا اظہار کرنے والے نئے رکن ممالک کے داخلے کی حمایت کرتے ہیں،دریں اثنا شاہ محمود قریشی نے یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس کے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امریکا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، ہم امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینے کے متمنی ہیں،یہ بات انہوں نے یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی،جنہوں نے وزارت خارجہ میں ان سے ملاقات کی،ملاقات کے دوران پاکستان اور امریکا کے مابین دو طرفہ تعلقات،افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،وزیر خارجہ نے وفدسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے واشنگٹن کے دوروں کے دوران یو ایس آئی پی کے ساتھ بات چیت کی ہے،مجھے یقین ہے کہ یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس، دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی کے شعبوں کی نشاندہی اور اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا،شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،انہوں نے کہا کہ تاریخ اور جغرافیائی سیاست کے اس اہم موڑ پر، ہم امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینے کے متمنی ہیں،شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے، پاکستان کے لیے، ایک قریبی پڑوسی ہونے کے ناطے، پرامن اور مستحکم افغانستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے،وزیر خارجہ نے کہا کہ 11 نومبر 2021 کو، ہم نے افغانستان کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیلئے پاکستان، چین، روس اور امریکا پر مشتمل ٹرائیکا پلس، کے اجلاس کی میزبانی کی،اس اجلاس میں انسانی بحران کو روکنے کی ضرورت، افغانستان سے انخلا کیلئے محفوظ راستے کی فراہمی ایک جامع حکومت کی تشکیل، تمام افغانوں کے حقوق کا احترام بشمول خواتین کے مساوی حقوق، لڑکیوں کی تعلیم اور دہشت گردوں کے ذریعے افغان سرزمین کے استعمال کی روک تھام جیسے مشترکہ اہمیت کے حامل اہداف پر گفتگو کی گئی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں