19

وہاڑی،ڈی ایس پی روبینہ عباس نے ٹاؤٹ اشفاق گل اور آصف کے ہمراہ رشوت کا بازار گرم کررکھا ہے

وہاڑی(نمائندہ پی این این اردو)ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر سابق ایس پی انویسٹی گیشن نے مبینہ طور پر کرپشن و نااہلی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے.موجودہ ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر وہاڑی روبینہ عباس کرپشن کی انکوئری رپورٹ کی روشنی میں تنزلی پاکر ساڑھے تین سال قبل انسپکٹر لیگل تعینات ہوئیں,ذرائع نے بتایا کہ انتہائی قلیل مدت میں ہی ڈی پی او آفس میں وسیع اثرورسوخ قائم کرکے پہلے نائب کورٹس سے منتھلی لینا شروع کی پھر ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم بن گئیں تو مختلف نوعیت کے کاموں اور اندراج مقدمہ کی رشوت کے بھاری ریٹ مقرر کئے,ڈسٹرکٹ انویسٹی بورڈ میں تعینات انسپکٹر اشفاق گل کے ذریعے متخلف مقدمات کی تفتیش میں میرٹ کی دھجیاں اڑا کر کروڑں کی رشوت اکھٹی کی ڈی آئی بی بورڈ میں تعینات سب انسپکٹر فتح شیر چشتی کو ایماندار ہونے کی بنا پر رشوت کی ڈیمانڈ پوری نہ کرنے پر دو شوکاز نوٹس جاری کروائے.ایس پی انویسٹی گیشن کی سیٹ کافی عرصہ تک مسلسل خالی رہنے سے اضافی چارج روبینہ کوثر کے پاس رہا,جس سے منتھلی کا دائرہ کا ضلع بھر کے ایس ایچ اوز تک پہنچ گیا سابق ایس پی انویسٹی گیشن مہر آصف سیال جس نے سرکاری پسٹل بھی بازو میں ڈالا ہوتا تھا کو اپنے ساتھ بٹھا کر گشت بھی اکٹھے کرتے ہیں,آصف سیال نے وائرلیس پر ملازمین کی غیرحاضریاں نوٹ کروانا اور ایس ایچ اوز کی پوزیشن لینا معمول بنالیا,اپنی موجودگی میں مختلف مقدمات کی تفتیش کرواکر مبینہ بھاری رقوم لینا شروع کردیں.ایس پی انویسٹی گیشن مطیع اللہ نے اپنی تعیناتی کے بعد 3 لاکھ روپے کی کرپشن کا کیس پکڑلیا لیکن معافی مانگنے کی وجہ سے سرزنش پر ہی اکتفا کرلیا گیا.روبینہ کی ڈی ایس پی صدر افضل لودھی سے کسی ایشو پرکھٹ پھٹ ہوئی تو ڈی پی او زاہد نواز مروت نے مداخلت کرکے انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس سے شکایت کرکے تبادلہ کروایا جس کا انہوں نے بہت رنج منایا اور دھمکی دی,اس طرح اب وہ ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر کے طور پر ڈی پی او آفس میں گروہ بندی کئے ہوئے ہیں.پولیس لائن میں گنتی کے نام پر بلیک میل کرکے بھاری رشوت لے رہی ہیں.ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر میاں عبدالزاق اے ایس آئی اسکی بیوی منور سلطانہ کانسٹیبل کے گھر میں عرصہ 4 سال سے مقیم ہیں.اکثر مقدمات کی تفتیش مرضی کی کرانے کے سودے ان دونوں کی معرفت ہوتے ہیں.ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر میڈم روبینہ کوثر عباس نے دریافت پر پہلے تو موقف دینے سے انکار کیا اصرار پر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ڈیوٹی تن دہی سے سرانجام دے رہی ہیں مخالفین بلاوجہ الزام تراشی میں مصروف ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں