9

ٹائیفائیڈ کے انجکشن لگانے پر محکمہ صحت کی ٹیم پر ڈنڈوں سے حملہ ، 5 زخمی،2 مرد ایک خاتون گرفتار

چوک سرورشہید،ٹائیفائڈ کے انجکشن بچوں کو کیوں لگائے؟ دو افراد اور ایک خاتون نے محکمہ صحت کی ٹیم پر ڈنڈوں سے حملہ کردیا، تین لیڈی ہیلتھ ورکز اورمحکمہ صحت کا ویکسینیٹراور ڈرائیور شدید زخمی ہوگئے،کثیر تعداد میں اہل محلہ تماشا دیکھتے رہے،پولیس تھانہ سرورشہید کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی،دو مر د ملزمان اور ایک خاتون کو حراست میں لے لیا، مقدمہ درج ، محکمہ صحت کے ملازمیں میں تشویش کی لہر،ملزمان کے سخت کارروائی نہ کی گئی تو ٹائیفائیڈ ویکسین لگانے کی مہم کا مکمل بائیکاٹ کریں گے محکمہ صحت کی لیڈی ہیلتھ ورکز اور دیگر عملہ کا انتباہ، تفصیل کے مطابق محکمہ صحت نے 12 جون سے 26 جون تک 12 سال کے بچوں کو ٹائیفائیڈ سے بچانے کے لئے یونیسف کے تعاون سے ویکسین لگانے کا عمل شروع کررکھا ہے گزشتہ روز محلہ حافظ آبا د پبلک سکول میں ٹیم طالب علموں کو ٹائیفائیڈ ویکسین لگارہی تھی کہ اچانک ملزمان راجو شاہ ولد غلام عباس ، سجاد ولد عبدالغفار قوم آرائیں ، اور عابدہ زوجہ سجاد نے پبلک سکول میں داخل ہوکر محکمہ صحت کی ٹیم جن لیڈی ہیلتھ ورکرنسرین کوثر، لیڈی ہیلتھ ورکر ، فضیلت بی بی،یونیسف نمائندہ بلال، ویکسینٹر اظہر ملانہ پر ڈنڈوں سے حملہ کردیا ۔اور ما ر مار کر ادھ مویا کرددیا۔ شور واویلہ سن کر کثیر تعداد میں اہل محلہ اکٹھے ہوگئے،کچھ ہی دیر میں پولیس وین بھی موقع پر پہنچ گئی ۔ اور پولیس اہلکار نے میڈیا کے نمائندہ کو کوریج کرنے سے زبردستی روکنے کی بھی کوشش کی،اور موبائل کیمرہ بھی چھیننے کی کوشش کی لیکن میڈیا نمائندگان نے کوریج جاری رکھی،پولیس نے ملزمان کو گرفتا ر کرکے وین میں بٹھایا خاتون ملزمہ عابدہ کو بھی مرد پولیس اہلکار نے بازوسے پکڑ کر ڈالہ میں ڈالہ ،حالانکہ تھانہ میں لیڈیز پولیس بھی موجود تھی ۔پولیس تھانہ سرورشہید نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی کا آغاز کردیا۔محکمہ صحت کے ملازمین نے اس واقعہ کو بدترین قرار دیا ۔ ایم ایس ڈاکٹر ضیاء انجم اور لیڈی سپر وائزر محترمہ شازیہ پروین نے کہا کہ یہ کھلی غنڈہ گردی ہے ہم حکام بالا سے اپیل کرتے ہیں کہ ملزمان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے اگر کارروائی نہ کی گئی تو ہمہ قسمی مہم کا بائیکاٹ کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں