5

ٹیکسوں میں اضافہ، قومی بچت سے اربوں روپے کی سرمایہ کاری آؤٹ بوڑھے ،پنشنرز، بیواوں کے پھر لٹنے کا خدشہ

رحیم یار خان،نیشنل سیونگ سنٹرز (مراکز قومی بچت)میں کئی سرمایہ کاری پر حالیہ وفاقی بجٹ میں ود ہولڈنگ انکم ٹیکس کی شرح میں ہوش ربا اضافے کے باعث ان مراکز سے اربوں روپے کی سرمایہ کاری نکالنے اور مراکز قومی بچت بند ہونے اور ’’ڈبل شاہ‘‘جیسی بچت سکیمیں شروع ہونے کے خدشات،تفصیلات کے مطابق وفاقی بجٹ میں میں مراکز قومی بچت کی گئی تمام قسم کی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی پر فائلرز کے لئے ود ہولڈنگ انکم ٹیکس کی شرح پندرہ فیصد جبکہ نان فائلرز کے لئے ریکارڈ تیس فیصد کر دی گئی ہے جبکہ منافع پانچ لاکھ روپے سے زائد ہونے پر یہ شرح 35فیصد کر دی گئی ہے جس سے رحیم یار خان سمیت ملک بھر میں مراکز قومی بچت میں سرمایہ کاری کرنے والوں جن میں خاص طور پر بوڑھے پنشنرز اور بیوائیں شامل ہیں ،میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور بیشتر سرمایہ کاروں نے مراکز قومی بچت سے رقوم نکال کر پرائیویٹ پارٹیوں کے پاس سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے فراڈ کے واقعات میں خاطر خواہ اضافے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔یاد رہے کہ قبل ازیں حکومت کی جانب سے کئی قسم کے پرائز بانڈز ختم کرنے کے باعث مراکز قومی بچت کے ڈیپازٹس میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی تھی اور منافع پر ملنے والی رقم پر انکم ٹیکس کی شرح میں ریکارڈ اضافے سے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ ان مراکز قومی بچت میں شہریوں کی طرف سے کی گئی سرمایہ کاری واپس نکالنے سے یہ مراکز بند بھی ہو سکتے ہیں ۔ذرائع کے مطابق مراکز قومی بچت میں کچھ عرصہ قبل تک شہریوں کی جانب سے چار ہزار تین سو ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی تھے جو ایک ریکارڈ تھا تاہم اب اس میں ریکارڈ کمی متوقع کی جا رہی ہے تاہم معلوم ہوا ہے کہ سپیشل سیونگ سرٹیفیکیٹ،شہداء فیملی ویلفیئر اکاؤنٹس اور پنشنرز بینیفٹ اکائونٹس پر ان نئے ٹیکسز کا نفاذ نہیں ہو گا لیکن ان مدوں میں کی گئی سرمایہ کاری کی شرح بہت کم ہے۔مزید معلوم ہوا ہے کہ مراکز قومی بچت میں سرمایہ کاری میں ہونے والی کمی سے ان مراکز سے وصول کئے جانے والے ٹیکسز میں بھی کافی کمی واقع ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں