15

پاکستان میں ایماندار اور عوامی خدمت کرنے والے آفسروں کی مخالفت کیوں ہوتی ہے


اس آفسر کا نام نسیم صادق ہے اس کی ایمانداری اور دیانتداری اور عوامی خدمت کو کون نہیں جانتا جس جس شہر میں اس آفسر کو بطور ڈی سی او لگایا گیا,وہاں اس نے پورے پورے شہر کو قبضہ مافیا سے نجات دلائی اور انتظامی معاملات کو بخوبی سر انجام دیا جس کی وجہ سے ہر حکومت میں سیاسی مافیا نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور مسلسل تبادلہ کرواتے رہے کیونکہ اس آفسر کی وجہ سے اداروں کی کارکردگی بہتر ہوئی جس کی چند مثال جیساکہ جب یہ آفسر ایکسائز میں گیا تو ایکسائز کے محکمے کو جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ متعارف کروایا اور روایتی طریقوں کو تبدیل کر کے دیکھایا جب یہ وائلڈ لائف میں گیا تو پاکستانی عوام کو معلوم ہوا کہ یہ بھی کوئی محکمہ ہے جانور کی نگہداشت کا اور نسیم صادق کے حکم پر دودھ دینے والے جانوروں کی زیادہ پیداوار بڑھانے والے ٹیکے پر بین لگا دیا گیا جس کی وجہ سے جانوروں اور انسانوں کی صحت خراب ہونے سے بچی رہی جب سے وائلڈ لائف سے نسیم صادق کا تبادلہ ہوا ہے تب سے دوبارہ دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے مضر صحت ٹیکے کا دوبارہ استعمال شروع ہو چکا ہے جس سے عورت اور مردوں میں وقت سے پہلے بالغ ہوجانا اور دوسری بیماریاں دودھ کے ساتھ مل کر انسانی جسم کو نقصان پہنچاتی ہیں
اسی طرح جس شہر میں بھی یہ آفسر رہا اس نے بیوروکریسی کی کارکردگی بہتر بنائی اور اس شہر کا نقشہ بھی بدل دیا جس کی مثال لاہور, فیصل آباد ملتان وغیرہ شامل ہیں
موجود حکومت میں اس جیسے قابل آفسر سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے تھا اس جیسے قابلیت کے حامل تمام آفیسروں سے موجود حالات میں بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے کیونکہ اس جیسے افسران حکومت و قوم کا بہترین سرمایہ ہیں اور موجودہ حالات میں ان کی اشد ضرورت ہے مگر اس کے باوجود نسیم صادق جیسے افسران کو حکومت سیاسی انتقام کا نشانہ بنارہی ہے ان کی ملکی و قومی خدمات کو مکمل نظر انداز کیا جا رہا ہے نسیم صادق کو صرف دو ماہ 2 دن سیکرٹری خوراک تعینات کیا گیا لیکن ساریالزام تراشی نسیم صادق پر شروع کردی گئی ہیں جس کی وجہ سیاسی انتقامی کاروائی کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ کے قریب تذلیل کرتے ہوئے ، فوری طور پر او ایس ڈی بنادیا گیا ہے

میڈیا کے لوگ جو رات دن نسیم صادق کے کام کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے وہ بھی اب اپنے ضمیر کو بیچ کر خاموش ہو کر بیٹھے ہیں بدقسمتی سے پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ ہم خود ہیں کیونکہ دراصل ہم خود ایمانداری اور فرض شناسی کو پسند نہیں کرتے جب کہ رشوت خور اور لوٹ مار کرنے والے کو تحفظ فراہم بھی کرتے ہیں اور ترقیاں بھی کرتے ہے افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ضمیر پر ان برے حالات میں بھی تالے لگے ہوئے ہیں جوکہ ہم سب کسی دوسرے انسان کی مدد کے لیے آواز بلند کرنے سے ڈرتے ہیں اللہ تعالی اس ملک کو اچھے لوگ عطا فرمائے آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں