12

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کا ٹیکسز میں اضافے پر اظہار تشویش،کاٹن کی بحالی کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا،چیئرمین کاشف اسلام

ملتان(سٹاف رپورٹر)پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مرکزی آفس پی سی جی اے ہاؤس میں پی سی جی اے وفد کی جنرز گروپ لیڈر حاجی اکرم سے ملاقات،پاکستان کاٹن بروکرز ایسوسی ایشن کے چیرمین میجر کاشف اسلام (ر) سنئیر وائس چیئرمین مشتاق خان سنئیر کاٹن بروکر میاں طارق نے پاکستان کاٹن جنرزج ایسوسی ایشن کے مرکزی (PCGA HOUSE) ملتان میں کاٹن جنرز گروپ لیڈر حاجی اکرم صاحب سے ایک تفصیلی ملاقات کی،جس میں کاٹن کی بحالی اور جینگ سیکٹر پر لگائے جانے ٹیکسوں پر تبادلہ خیال کیا گیا،میاں طارق نے بتایا کہ کاٹن پر لگنے والے سیلز ٹیکس سے جینگ انڈسٹری کے ایک فیصد ودہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ ہو گیا ہے جو ناجائز ہے ایف بی آر سیلز ٹیکس کی رقم پر سے ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی فوری طور پر ختم کرے،کاٹن بروکرز ایسوسی ایشن کے چیرمین میجر کاشف اسلام (ر) نے کہا کہ ایک طرف ملک میں کاٹن کی بحالی کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا اور کاٹن بحالی کو ممکن بنانے والے تمام ریاستی ادارے ایک دوسرے پر الزام لگانے کے سوا کچھ بھی نہیں کر رہے کاٹن سیزن جزوی طور پر شروع ہے اور پورے ملک میں کاٹن کا معیار خاص طور پر روئی کے ریشہ کی لمبائی کم ہونا ظاہر کر رہا ہے کہ کاٹن ریسرچ پر توجہ نہیں دی گئی چار پانچ سال قبل آخری چنائی کی سٹیپل لینتھ 1.05 آ جاتی تھی آج پہلی اور دوسری چنائی کی یہ یہ لینتھ آ جائے تو جنرز بروکرز مل اونرز خوشی کا اظہار کرتے ہیں یہ قابل تشویش بات ہے جس پر وفاقی وزارت ٹیکسٹائل اور وزارت فوڈ سیکورٹی کو ایکشن لینا چاہیے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے،کاٹن جنرز گروپ کے لیڈر حاجی اکرم نے کہا کہ کاٹن جینگ اور آئل مل پر جو ٹیکس لگائے گئے ہیں اس سے کھل بنولہ کی قیمتوں میں عدم استحکام پیدا ہو گیا ہے پہلے ہی کھل بنولہ مہنگا ہونے کی وجہ سے لوگ ونڈا کی جانب چلے گئے ہیں،اس وقت کاٹن سیڈ (بنولہ ) جینگ انڈسٹری کے لئے درد سر بن گیا ہے اور تین سالوں سے جینگ انڈسٹری کا اربوں روپیے کھل میں ڈوب گئے ہیں حقیقت یہ ہے کہ جینگ کے شعبہ کو نقصان ہی بنولہ اور کھل بنولہ میں ہو رہا ہے حکومت فوری طور پر بنولہ اور کھل بنولہ پر سے ہر قسم کے ٹیکس ختم کر دے تاکہ دم توڑتی جینگ انڈسٹری کا سانس بحال ہو،پی سی بی اے کے سینئر وائس چیئرمین مشتاق خان نے کہا کہ جینگ انڈسٹری کی بقا کاٹن پیداوار میں اضافہ سے مشروط ہے اور اس سال PCGA نے کاشتکار کے ساتھ مل کا کاٹن پیداوار میں اضافہ کی جو مہم چلائی ہے وہ قابل ستائش ہے حکومت اچھا ریونیو دینے والی جینگ انڈسٹری کی بحالی کو ممکن بنائے 1300 کاٹن فیکٹریوں میں سے صرف 450 کا چلنا بہت خراب صورتحال کو ظاہر کرتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں