4

پاک بحریہ کی جانب سے کشمیر میں میڈیکل کیمپس

پاک بحریہ پاکستان کی بحری حدود سمندری اور ساحلی مفادات کی محافظ ہے، یہ 1046 کلومیٹر ( 650 میل ) ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ اہم شہری بندرگاہوں جیسے کراچی پورٹ، بن قاسم پورٹ، گوادر پورٹ اورماڑہ پورٹ پسنی جوانی کی طرح چھوٹے ساحلی شہروں کے دفاع کو بھی بطریقِ احسن ادا کر رہی ہے،اس وقت پاک بحریہ جدت و توسیع کے تمام مراحل پورے کرچکی ہے،وطن عزیز میں جہاں پاک بحریہ اپنے قیام کے بنیادی اُصول سمندری سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اپنی پوری محنت و جانفشانی اورجذبہ حب الوطنی کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر انجام دے رہی ہے وہیں وطن عزیز کے دوسرے شعبوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کر رہی ہے 2001 سے پاک بحریہ نے اپنی آپریشنل گنجائش کو بڑھایا اور عالمی دہشتگردی منشیات سمگلنگ اور بحری قزاقی کے خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنی ملکی اور عالمی ذمہ داری کو پورا کرنے کیلئے بہت زیادہ محنت کی ۔وطن عزیز میں سیلاب کی تباہ کاریاں ہوں یا زلزلہ کی ہولناکیاں، دہشت گردوں سے مقابلہ ہو یا کرونا کی صورتحال میں غریب و لاچار لوگوں کو فری راشن کی فراہمی ،بلوچستان کی ساحلی پٹی پر غریبوں کو میڈیکل کی سہولیات دینی ہوں یا صاف پانی کی فراہمی پاک بحریہ ہمہ وقت اپنے وطن اور اس کے باسیوں کے لیے حاضر ہے،چند روز قبل پاک بحریہ نے اپنی شاندار روایات کا تسلسل برقرار رکھنے کیلئے آزاد جموں و کشمیر مظفر آباد کے مضافاتی علاقوں چہلہ ، بانڈی ، چکارا اور کنڈی شاہی میں میڈیکل کیمپس لگائے ۔پاک بحریہ کے ان کیمپس میں بہترین ڈاکٹرز اور سرجنز کی ٹیم موجود تھی۔ ادویات کا بھی وافر مقدار میں انتظام تھا لیبارٹری ٹیسٹ اور چھوٹے آپریشنز کی بھی سہولیات بھی بہم پہنچائی گئیں۔ مظفر آباد آزادکشمیر کے ان مضافاتی علاقوںکے باسیوںکا کہنا تھا کہ ہم پاک بحریہ کے بیحد مشکور ہیں کہ انہوں نے ہماری مشکلات کا احساس کیا اور ہمیں ہماری دہلیز پر فری میڈیکل سہولیات کا انتظام کیا ۔ہم غریب لوگ ہیں اتنی طاقت نہیں رکھتے کہ مظفر آباد یا راولپنڈی جا کر اپنا علاج اور ٹیسٹ وغیرہ کرا سکیں۔ پاک بحریہ کی یہ کاوش انتہائی قابل ستائش ہے کہ انہوں نے ہم غریبوں کا احساس کیا ہم پہاڑی علاقے کے رہنے والے لوگ مالی طور پر اتنے مستحکم نہیں ہوتے کہ کہیں دور جا کر ڈاکٹروں کی بھاری بھرکم فیس اور دوائیاں خرید سکیں۔ پاک بحریہ کا یہ قدم ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ وہ وقفے وقفے سے ان علاقوں میں میڈیکل کیمپس لگاتے رہیں گے۔ پاک بحریہ کے اس عمل سے علاقے کے لوگوں میں پاک بحریہ کیلئے محبت کے جذبات میں اضافہ ہوا، کشمیر کے لوگوں نے اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کرتے ہوئے پاک بحریہ کی اس انسانی ہمدردی کے جذبے کی خوبصورت الفاظ میں تعریف کی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کیمپس سے ہمیں بہت فائدہ ہوا ہے اور ہماری پاک بحریہ سے درخواست ہے کہ ہر تین ماہ بعد یہاں میڈیکل کیمپس لگائے جائیں۔ پاک بحریہ کے ترجمان کے مطابق کشمیری عوام نے ان کیمس کی کارکردگی کو بہت سراہا اور ہر طرح کی فری سہولیات کی تعریف کی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے ان کیمپس سے ٹیسٹ کرائے اور ادویات حاصل کیں اور چھوٹے آپریشن بھی کیے گئے پاک بحریہ کے اس اقدام سے لوگوں کی نظروں میں بحریہ کیلئے عقیدت کا جذبہ پیدا ہو گیا ہے ۔
بشکریہ نوائے وقت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں