7

پسند کی شادی پر لڑکی والوں کا دھاواگائوں بدری، بدلے میں لڑکیوں کے رشتے پنجابی فیصلے

میاں چنوں،پسند کی شادی کرنا جرم بن گیا،لڑکی کے ورثاء نے حملہ کرکے لڑکے کے رشتہ داروں کے پانچ گھروں پر قبضہ کرکے سامان اٹھا لیا مکینوں کو گھروں سے نکال دیا گھروں کی بجلی کاٹ دی پنچانتی طور پر گاؤں سے نکالنے اور بدلے میں بطور وٹہ لڑکیوں کے رشتے لینے کا فیصلہ کیا،تفصیلات کے مطابق تھانہ سٹی میاں چنوں کے نواحی گاؤں چک نمبر 128 پندرہ ایل چھوٹی کے رہائشی جمشید ولد شیر محمد نائی نے گاؤں کے رہائشی ریاض احمد اوڈھ کی بیٹی سے پسند کی شادی کی جس کے رنج میں اوڈھ برداری کے افراد نے جمشید نائی کے گھر پر دھاوا بول دیا اور گھر کی چار دیواری گرا دی گھر میں موجود سامان اٹھا کر لے گئے اور جمشید کے دیگر چار رشتہ داروں کے گھر بھی گرا دیئے جمشید کی رشتہ دار خواتین نے بتایا کہ اوڈھ برداری کے مسلح افراد نے حملہ کرکے ہمیں گھروں سے باہر کردیا ہے اور ہمارے گھروں پر قبضہ کر لیا ہے ہمارے فریاد سننے والا کوئی نہیں بشیر دولو نامی شخص کے ڈیرے پر پنچایت ہوئی اور ہمیں کہا گیا کہ بطور وٹہ جمشید کی رشتہ دار دو لڑکیوں کا رشتہ ہمیں دو اور گاؤں بدر ہو جاؤ پولیس تھانہ سٹی میاں چنوں کو وقوعہ کے بارے میں تحریری درخواست دی گئی لیکن کئی روز گزرے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا اس سلسلے میں جب ایس ایچ او تھانہ سٹی میاں چنوں عدنان خورشید سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ گھر میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ کرنے والے ملزمان کے خلاف کاروائی عمل لائی جارہی ہے اور ملزمان کے خلاف زیر دفعہ 452 مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں