8

پناہ گاہیں بند ، بے گھر پھردربدر، غریبوں کے لئے کھانہ نہ بستر

وہاڑی،پناہ گاہ کے مقیم بھی بے گھر ہو گئے، ہسپتال انتظامیہ افسران کو خوش کرنے کے لئے سب اچھا کی رپورٹ کرتی رہی ہے ، فرضی فوٹو سیشن ہوتے رہے، وہاڑی میں بے گھراوربے سہارا افرادکیلئے ڈی ایچ کیوہسپتال میں قائم واحدپناہ گاہ بند ہے،کچھ عرصہ تک مخیرحضرات پناہ گاہ میں قیام پذیربے گھراوربے سہاراافرادکوکھانافراہم کرتے رہے لیکن انہوں نے کھانادینے سے ہاتھ کھیچ لیاتوپناہ گاہ میں رہنے والے افرادپناہ گاہ سے نکل کردربدرہوگئے اورمتعددافرادسڑکوں کے کنارے فٹ پاتھوں اورپارکوں میں سونے لگ گئے،غریب اوراب بے سہاراافرادشدیدگرمی میں کھلے آسمان تلے پارکوں اورفٹ پاتھوں پرسونے پرمجبورہیں دردِدل رکھنے والے شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے مطالبہ کیاہے کہ اس پناہ گاہ کوفوری کھول کران کیلئے تین وقت کے کھانے کاانتظام کیاجائے تاکہ بے سہارالوگوں کواس شدیدگرمی میں پناہ مل سکے شہریوں کایہ بھی کہناہے کہ جب کبھی کسی اعلی حکومتی عہدیداریاسرکاری افسرنے ڈی ایچ کیوہسپتال کاوزٹ کرناہوتاہے توانتظامیہ اعلیٰ حکام کوسب اچھاکی رپورٹ دینے اورفوٹوسیشن کیلئے پناہ گاہ کوکھول لیتی ہے اورتلاش کرکے چندبے سہارالوگوں کواس میں بٹھاکراعلی آفسران کی آنکھوں میں دھول جھونک دیتی ہے اوراعلی افسران بھی بے سہارالوگوں کے ساتھ بیٹھ کرچند نوالے کھانابھی کھاتے ہیں لیکن ان بے سہاراافرادسے ان کے مسائل نہیں پوچھتے جیسے ہی اعلی افسران واپس چلے جاتے ہیں توپھراس پناہ گاہ کوبندکردیاجاتاہے،جوکہ سراسرظلم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں