7

پنجاب پولیس اصلاحات میں پیجھے رہ گئی

آٹھ برس قبل پنجاب پولیس میں اصلاحات کے تحت ایف آئی آر کے اندراج کے بعد فوری گرفتاری کی بجائے یہ تجویز تھی کہ پہلے کیس کی انکوائری کی جائے اس کے بعد گرفتاری عمل میں لائی جائےمگر سیاسی حکومتوں نے اس تجویز پر عملد آمد سے انکار کردیا جس کی بڑی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ اس سے اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ کا عمل مکمل نہیں کرسکتے تھے یہ تجویز زیر التوا رکھی گئی جبکہ اس پر عمل کی صورت میں عدالتی نظام پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جاسکتا تھا،پنجاب میں سندھ سمیت دیگر تمام صوبوں کے مقابلے میں مقدمات کا اندراج بہت زیادہ ہے اور اس تجویز پر عملدر آمد کی سب سے زیادہ ضرورت بھی یہاں تھی مگر اب اس پر عملدرآمد کا سہرا سندھ حکومت کے سر جارہا ہے جس کے بعد یقینا اس کا اطلاق دوسرے صوبے بھی کریں گے،سندھ حکومت نے اب پولیس رولز میں ترامیم کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیےپولیس رولز میں ترامیم کا مسودہ تیار، سندھ کابینہ اجلاس میں منظور کرلیا گیا ہے ۔ایف آئی آر کٹتے ہی ملزم کو گرفتار کرلیا جاتا تھا۔ تاہم اب جب تک جرم ثابت نہ ہو اب گرفتاری نہیں ہوگی۔ مشیر قانون سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ اس طرح کی گرفتاریوں سے جیلوں اور عدلیہ پر بوجھ بڑھتا ہے۔سندھ حکومت نے اس چیز کو محسوس کرتے ہوئے قانون میں ترمیم کا فیصلہ کیاہے۔اس پر پولیس حکام اور ماہرین سے مشاورت کی گئی ہے۔ اس ترمیم کا مقصد ایف آئی آر میں نام داخل ہونے سے ضروری نہیں کہ نامزد شخص کو گرفتار کیا جائے۔ملزم کی گرفتاری کے لئے تفتیشی پولیس افسر کے لئے لازم ہے کہ شواہد کی بنیاد پر گرفتار ہو گی بعض کیسز میں تفتیشی افسر اپنے اعلی افسر سے منظوری کے بعد ملزم کی گرفتاری عمل میں لائیگا۔مقدمے کی تفتیش کے بعد ملزم کی گرفتاری کا فیصلہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں