6

پوائنٹ آف سیلرزاور پراپر ٹی ٹیکس50لاکھ سے زائد چھوٹے تاجروں پر لٹکتی تلوار کی مانند ہے،مرکزی تنظیم تاجران

ملتان(سٹاف رپورٹر)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے عہدیداران نے دو ٹوک اور واضح انداز میں کہا ہے کہ وزیر خزانہ، ایف بی آر تاجروں کے ساتھ کئے گئے وعدے کی خلاف ورزی کے بجائے ملکی معیشت کے استحکام کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں،کیونکہ سیلز ٹیکس، پوائنٹ آف سیلرز، پراپر ٹی ٹیکس ملک بھر کے 50لاکھ سے زائد چھوٹے تاجروں پر لٹکتی تلوار کی مانند ہے،جس کو کسی صورت تسلیم نہیں کرتے تاجر ٹیکس دینے کو تیار ہیں لیکن فکس ٹیکس لگایا جائے،مینو فیکچررز کو پکڑنے کے بجائے چھوٹے تاجروں کی گردن پر چھری نہ پھیری جائے،چھوٹے تاجروں کے ساتھ حکومت، ایف بی آر سوتیلی ماں سے بھی بدتر سلوک کر رہی ہے لیکن دوسری طرف ایف بی آر کے 22ہزار ملازمین ماہانہ چار سے پانچ ارب تنخواہ لیتے ہیں لیکن اخراجات ان کے شاہانہ ہیں ایف بی آر کے افسران اور اہلکاروں کے اثاثے چیک کئے جائیں کہ وہ اپنی ماہانہ آمدنی سے زائد اخراجات کہاں سے پورے کر رہے ہیں اگر حکومت، ایف بی آر نے تاجر تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ مزاکرات نہ کئے اور تاجر برادری کے تحفظات دور نہ کئے تو مرکزی تنظیم تاجران پاکستان وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے ہیڈ آفس اسلام آباد کے سامنے غیر معینہ مدت کے لئے احتجاجی دھرنا دینے پر مجبور ہوجائیں گے،بجلی کے بلوں میں ریلیف دیا جائے، مہنگائی پر بیان بازی کے بجائے عملی معنوں میں قابو پایا جائے،21ستمبر کو ملتان میں مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی مرکزی کونسل کا مشاورتی اجلاس ہوگا،جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گاان خیالات کا اظہار مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی نے دیگر تاجر رہنماؤں مرکزی سنیئر وائس چیئرمین شیخ اکرم حکیم، مرکزی سنیئرنائب صدرحاجی بابر علی قریشی، مرکزی نائب صدرحا ملک عامر اعوان، صدرجنوبی پنجاب شیخ جاوید اختر، ضلعی صدر سید جعفر علی شاہ، صدرملتان خالد محمود قریشی، جنرل سیکرٹری جنوبی پنجاب زیشان صدیقی، چیئرمین جنوبی پنجاب جاوید اختر خان، چیئرمین ملتان کاشف رفیق،جنرل سیکرٹری ملتان مرزا نعیم بیگ، جوائنٹ سیکرٹری ملتان یعقوب راجپوت، نائب صدر جنوبی پنجاب اکمل بلوچ، نائب صدرملتان ناصر چوہان، سنیئروائس چیئرمین شیخ الطاف، رضوان قریشی، مقبول قریشی،شہباز قریشی،ودیگر کے ہمراہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا خواجہ سلیمان صدیقی نے مزید کہا کہ کرونا وباء کے باعث لاک ڈاؤن کی وجہ سے گذشتہ ڈیڑھ سال سے لاکھوں چھوٹے تاجر پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہیں جن کے لئے دکانوں اور گھریلواخراجات پورے کرنا انتہائی مشکل ہو چکے ہیں رہی سہی کسر آئے روز نت نئے ٹیکسز اور ٹیکسز میں اضافے نے پوری کردی ہے ایسے ٹیکسز محترمہ بے نظیر بھٹو، (ن) لیگ، پرویز مشرف کے دور میں بھی لگائے گئے گذشتہ 33سالوں سے ہم ایسے ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف میدان عمل میں ہیں انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے ساتھ یہ طے ہوا تھاکہ جب تک حکومت، ایف بی آر کے ساتھ مزاکرات کامیاب نہیں ہوجاتے تاجروں کو نوٹسز جاری نہ کئے جائیں لیکن افسوس کہ ایف بی آر نے خلاف ورزی کی اور وزیرخزانہ نے بھی وعدے کا پاس نہیں کیا اور تاجروں کو نوٹسز بھیجنا اور جرمانے کرنا شروع کردیئے ہیں اور اب یہ سلسلہ ملک بھر میں پھیل گیا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں چھوٹے تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے انہوں نے کہا کہ ایک ہزار فٹ کی دکان پر 16فی صد ٹیکس کی ادائیگی لازمی قرار دی گئی ہے لیکن 975فٹ کی دکان پر یہ ٹیکس لاگو نہیں ہے ایسے دہرے معیار کو ہم کسی صورت تسلیم نہیں کرتے اسی طرح پراپر ٹی ٹیکس میں 100فی صد سے 200فی صد تک اضافہ کردیا گیا ہے جب تک ٹیکسز میں کمی نہیں کی جاتی اور کامیاب مزاکرات نہیں ہوتے ہم ٹیکس ادا نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ چھوٹے تاجروں کے ساتھ حکومت، ایف بی آر سوتیلی ماں سے بھی بدتر سلوک کر رہی ہے لیکن دوسری طرف ایف بی آر کے 22ہزار ملازمین ماہانہ چار سے پانچ ارب تنخواہ لیتے ہیں لیکن اخراجات ان کے شاہانہ ہیں ایف بی آر کے افسران اور اہلکاروں کے اثاثے چیک کئے جائیں کہ وہ اپنی ماہانہ آمدنی سے زائد اخراجات کہاں سے پورے کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مہنگائی سرکار نے نئے پاکستان میں مہنگائی کا لامتناہی طوفان کھڑا کرکے رکھ دیا ہے ڈالر کنٹرول نہیں ہورہا ہے روپے کی قدر ختم ہو کر رہ گئی ہے ملکی معیشت کے عدم استحکام کی وجہ سے عام شہری کی قوت خرید ختم ہو کر رہ گئی ہے جب عام آدمی کی قوت خرید مستحکم نہیں ہوگی تو چھوٹے تاجروں کی حالت کیسے بدلے گی اور ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر کیسے گامزن ہو گا اگر حکومت، ایف بی آر نے تاجر تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ مزاکرات نہ کئے اور تاجر برادری کے تحفظات دور نہ کئے تو مرکزی تنظیم تاجران پاکستان وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے ہیڈ آفس اسلام آبادکے سامنے غیر معینہ مدت کے لئے احتجاجی دھرنا دینے پر مجبور ہوجائیں گے انہوں نے کہا کہ قانون کی رو سے مینو فیکچررز ایسے ٹیکسز کے زمرے میں آتے ہیں چھوٹے تاجروں کو بلاوجہ پریشان نہ کیاجائے اور ان کو سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کیاجائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں