6

پٹرولیم مصنوعات کے بعد بجلی کے نرخوں میں بھی اضافہ


نیپرا نے وفاقی حکومت کو بجلی کا ٹیرف دو روپے 97 پیسے بڑھانے کی اجازت دے دی،اکتوبر 2021 سے گھریلو صارفین کیلئے بجلی ایک روپے 72 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے پر نظر ثانی کی،حکومتی درخواستیں منظور کرلی گئیں،اسکے ساتھ ساتھ کمرشل اور زرعی صارفین پر ایک روپیہ 25 پیسے فی یونٹ سرچارج لگانے کی بھی اجازت دے دی گئی،تاہم گھریلو صارفین سرچارج سے مستثنیٰ ہونگے، حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے بجلی مختلف سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کی مد میں مہنگی کرنے کا فیصلہ کیا ہے،اس سلسلہ میں 2019،2020 کی چوتھی سہ ماہی کی مد میں بجلی 85 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ 2021 کی پہلی دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس میں بجلی 90 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کا فیصلہ ہوا،بجلی صارفین سے اضافی وصولیاں ایک سال میں کی جائیں گی،نیپرا قیمتوں میں اضافے کا اطلاق لائف لائن صارفین پر نہیں ہوگا،نیپرا کی ایک سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مدت رواں سال ستمبر میں ختم ہو جائیگی اور اکتوبر سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق ہوگا،اس وقت مہنگائی عوام کے بنیادی مسائل میں شامل ہے اور پٹرولیم مصنوعات و بجلی کے نرخوں میں اضافے سے مہنگائی کو پَر لگ جاتے ہیں نتیجتاً روزمرہ استعمال کی تمام اشیاء مہنگی ہو کر عوام کی پہنچ سے دور نکلتی جاتی ہیں۔ سابق ادوار حکومت میں بھی مہنگائی کے عفریت نے عوام کو نڈھال کئے رکھا،گزشتہ انتخابات کی مہم میں پی ٹی آئی کے قائد عمران خان نے عوام کے غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری سے متعلق مسائل کو ہی فوکس کیا اور ان مسائل سے خلاصی دلانے کے دل خوش کن نعرے لگا کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کیں۔ ایک پبلک جلسے میں انہوں نے بجلی کے مہنگے بل نذرآتش بھی کئے جبکہ آئی ایم ایف کے چنگل سے ملک اور قوم کو خلاصی دلانا بھی عمران خان کا مرغوب نعرہ تھا چنانچہ عوام نے انکے ساتھ اپنے اچھے مستقبل کی امیدیں وابستہ کرتے ہوئے انہیں انتخابات میں وفاقی اور صوبائی اقتدار کا مینڈیٹ دیا اور پھر پی ٹی آئی حکومت سے اپنے مسائل کے فوری حل کی توقعات باندھ لیں۔ بدقسمتی سے عوام کے روٹی روزگار اور مہنگائی کے مسائل میں کمی آنے کے بجائے حکومتی اختیار کردہ سخت مالیاتی پالیسیوں کے باعث روزمرہ کے مسائل مزید بڑھنے لگے۔ حکومت اپنے پہلے قومی بجٹ سے پہلے دوضمنی میزانیے لانے پر بھی مجبور ہوئی جن کے ذریعے ٹیکسوں کی شرح بڑھانے کے علاوہ بعض نئے ٹیکس بھی عائد کئے گئے جس کا عوام پر براہ راست اور بالواسطہ بوجھ پڑا۔ اسکے ساتھ ساتھ ڈالر کے نرخ غیرمعمولی بڑھنے سے مہنگائی بھی بے لگام ہوئی جبکہ حکومت نے سابقہ حکمرانوں کی طرح پٹرولیم مصنوعات‘ بجلی‘ گیس کے نرخ بڑھانے کی پالیسی بھی برقرار رکھی چنانچہ پی ٹی آئی حکومت سے اپنے اچھے مستقبل کی امیدیں وابستہ کرنیوالے عوام عملاً راندۂ درگاہ ہوگئے۔ پھر حکومت کو اپنے دعوئوں اور اعلانات کے برعکس آئی ایم ایف کے پاس بھی جانا پڑا جس کے چھ ارب ڈالر کے بیل آئوٹ پیکیج کیلئے حکومت اسکی تمام شرائط من و عن قبول کرنے پر رضامند ہو گئی چنانچہ حکومت کے دو وفاقی میزانیے آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ہی تیار ہوئے جن کی بنیاد پر مہنگائی کا عفریت عملاً بے قابو ہوتا نظر آیا اور عوام کیلئے زندہ درگور ہونے کی نوبت آگئی،پی ٹی آئی حکومت کے تیسرے سال عوام کو توقع تھی کہ وہ اب عوام کو ریلیف دینے کی پالیسیاں اختیار کریگی۔ اس حوالے سے عوام کے سامنے اقتصادی استحکام اور سالانہ گروتھ ریٹ بڑھنے کے دل خوش کن اعداد و شمار بھی پیش کئے جانے لگے جنہیں نئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے مہمیز لگائی اور ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا کہ بجٹ کو آئی ایم ایف کی شرائط کے ساتھ نہیں باندھا جائیگا۔ اسی طرح انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ ہم نے بجلی کے نرخ بڑھانے کا آئی ایم ایف کا تقاضا مسترد کر دیا۔ عوام کو امید کی کرن نظر آئی کہ پی ٹی آئی حکومت کا تیسرا بجٹ فلاحی‘ عوام دوست اور ٹیکس فری ہوگا جس کیلئے وزیر خزانہ اور دوسرے حکومتی اکابرین کی جانب سے عندیہ بھی دیا جاتا رہا مگر بجٹ پیش ہونے کے بعد پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کر دیا گیا اور پھر قومی اسمبلی میں بجٹ منظور ہوتے ہی یکم جولائی کو پٹرولیم مصنوعات کے نرخ دوبارہ بڑھا دیئے گئے جبکہ بجٹ میں بھی بے شمار نئے ٹیکس لاگو ہو گئے اور بعض مروجہ ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی۔ عوام کو اس بجٹ کی بنیاد پر مہنگائی کا عفریت مزید موٹا تازہ ہوتا نظر آرہا تھا کہ اب نیپرا کے ذریعے بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کا بھی پژمردہ عوام کو نیا جھٹکا دے دیا گیا ہے،یہ طرفہ تماشا ہے کہ بجلی کے بلوں کے ذریعے صارفین سے پہلے ہی چار مختلف ٹیکس وصول کئے جا رہے ہیں جن میں جنرل سیلز ٹیکس کی شرح بجلی کے بلوں کے ساتھ ہی بڑھتی چلی جاتی ہے جبکہ بجلی کے استعمال کے مختلف سلیب مقرر کرکے بجلی کے نرخ 9 روپے سے 21 روپے فی یونٹ تک پہنچا دیئے گئے ہیں۔ اس طرح عوام موسم گرما میں تین سو سے اضافی یونٹ بجلی کے دو سے تین گنا زیادہ بل ادا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جبکہ انہیں کئی کئی گھنٹے تک بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی اذیت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اب یہ اذیت برداشت کرنے والے صارفین پر بجلی کے نرخ مزید بڑھانے کا ہتھوڑا بھی برسا دیا گیا ہے اور صنعتی و زرعی صارفین پر ایک روپیہ 25 پیسے فی یونٹ سرچارج بھی عائد کر دیا گیا ہے جس سے ملک کی صنعت و زراعت مزید تنزلی کا شکار ہو سکتی ہے۔ حکومت کو یہ حقیقت نظرانداز نہیں کرنی چاہیے کہ غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری کے رگڑے کھاتے عوام اب یہ حکومتی عذر قبول نہیں کرینگے کہ یہ سارے مسائل سابقہ حکمرانوں کی پالیسیوں کے پیدا کردہ ہیں۔ عوام کو سکھ کا سانس لینے کیلئے اب بہرصورت ریلیف کی ضرورت ہے جس کے بغیر حکمران پی ٹی آئی عوام میں پذیرائی حاصل نہیں کر پائے گی۔ اس کیلئے حکومت کو اپنی اقتصادی اور مالی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
بشکریہ نوائے وقت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں