17

پڑھی لکھی ماں ہی بہترین اور باشعور قوم دے سکتی ہے،چیف وہیپ ملک عامر ڈوگر

ملتان(سٹاف رپورٹر)وزیر مملکت وچیف وہپ قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ ایک مرد کو تعلیم یافتہ کرنا صرف ایک فرد تک محدود ہوتا ہے،جبکہ ایک خاتون کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے ثمرات نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں،کیونکہ ایک پڑھی لکھی ماں ہی بہترین اور باشعور قوم دے سکتی ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے آواز فائونڈیشن اور شعور ترقیاتی تنظیم کے زیر اہتمام منعقدہ ایجوکیشن کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا،جبکہ وائس چانسلر خواتین یورنیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی، سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طار ق محمودانصاری، ہیڈ آف سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹرکامران اشفاق،ڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر مزمل یار ڈار، ڈسٹرکٹ آفیسر سپیشل ایجوکیشن میاں محمدماجد مہمانان خصوصی تھے،جبکہ چیف ایگزیکٹوآواز فاﺅنڈیشن ضیا الرحمان اور صدر شعورترقیاتی تنظیم شاہد محمودانصاری تقریب کے میزبان تھے،جبکہ شرکا میں معروف کالم نگار اظہرسلیم مجوکہ، سینئر صحافی مظہر جاوید، بیرسٹرملک عثمان ڈوگر، سینئرصحافی رانا محمدعرفان، انیلہ اشرف سمیت چیف کوآرڈینیٹر سول سوسائٹی فورم گلنار کاشف، شازیہ وحید آرائیں، شمائلہ ایاز شاہ، چیئرمین ایس ٹی ٹی ڈاکٹر ہمایوں شہزاد، جنرل سیکرٹری چوہدری منصوراحمدایڈووکیٹ، میاں وقاص فرید قریشی، آفیسرریجنل بلڈ سنٹرمحمدرمضان ، سلیم اقبال، فاروق خان، ڈاکٹرفاروق خان لنگاہ، اقبال خان بلوچ، پروفیسر امیرنواز شریک تھے،تقریب میں ملک محمدعامر ڈوگر نے مزید کہا کہ اب بچیوں میں تعلیم کا رجحان فروغ پایا جا رہا ہے اور تعلیمی اداروں خصوصاً یونیورسٹیوں میں بچیوں کی کثیر تعداد نظر آتی ہے،بلکہ بعض شعبوں اور اداروں می بچیاں ہی چھائی ہوئی ہیں اسی طرح بورڈ،یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی نتائج میں بھی بچیاں نمایاں پوزیشن حاصل کرکے بچوں کو پیچھے چھوڑ دیتی ہیں وقت کے ساتھ لوگوں میں بچیوں کے حقوق بارے شعور اجاگر ہوا ہے اور مثبت تبدیلیاں معاشرے کا حصہ بنی ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان سائوتھ پنجاب کےلئے بہت کچھ کررہی ہے،جنوبی پنجاب میں سیکریٹریٹ کا قیام نئے صوبے کے طرف مثبت قدم ہے،انہوں نے کہا کہ اس وقت 17 سیکرٹریز سائوتھ پنجاب سیکرٹریٹ میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جو اس خطے کےلئے خوش آئند بات ہے،انہوں نے کہا کہ میری اولین ترجیح ہے کہ سائوتھ پنجاب میں زیادہ سے زیادہ بچیوں کے سکولز قائم ہوں،تاکہ انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جاسکے،چیف ایگزیکٹو آواز فائونڈیشن و میزبان تقریب ضیا الرحمان نے کانفرنس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت 400 سکولز بچیوں کے ہیں اور 1200 بچوں کے ہیں جوکہ بچیوں کی تعلیم میں ایک بہت بڑا خلا ہے،انہوں نے کہا کہ اس وقت 1.2%بچیاں یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہی ہیں جن کی تعداد آبادی کے لحاظ سے بہت کم ہے،کم عمرشادی، غیرت کے نام پر قتل، زبردستی کی شادی، گھریلو تشدد، غربت، جہالت میں تب ہی کمی لائی جاسکتی ہے جب ہم خواتین کو اعلیٰ تعلیم دیں تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی آسکے انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر بچیوں کی تعلیم کے فروغ کے حوالے سے جو قوانین بنائے گئے ہیں ان پر عملدرآمد ہمارا مطالبہ ہے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 90 ہزار اساتذہ کی آسامیاں خالی پڑی ہیں جن میں سے 46ہزار جنوبی پنجاب کی ہیںسالانہ صرف 14لاکھ بچیاں میڑک کرپاتی ہیں2 سے سوا دو کروڑ بچیاں بھی سکولوں میں نہیں جاتی ہیں جن کی بنیادی وجہ غربت،ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی،سکولوں میں ٹوائلٹ،چاردیواری اور کلاس رومز کا فقدان شامل ہے وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب فروغ تعلیم پرخصوصی توجہ دے رہے ہیںنسلوں کو سنوارنے کیلئے خواتین کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے سابق وائس چانسلر بہاو¿ الدین زکریا یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود انصاری نے کہا کہ وقت کے ساتھ معاشرتی ترجیحات میں تبدیلی آئی ہے تاہم بچیوں کی تعلیم اور تعلیمی سہولیات کے حوالے سے مزید توجہ کی ضرورت ہے خصوصاً بچیوں کا سکولوں سے ڈراپ آو¿ٹ روکنے کیلئے ٹرانسپورٹ، واش روم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے بچیوں کے معاملات پر ہر فرد کو اپناکردار ادا کرتے ہوئے اپنی ذات سے عملی قدم اٹھائے اپنی سوچ اور رویے مثبت رکھے انہوں نے مزید کہا کہ آج وقت کی ضرورت ہے کہ ہمیں اپنے معاشرے میں مثبت سوچ پیدا کرنی ہوگی انہوں نے کہا کہ حدیث مبارکہ ہے کہ تعلیم حاصل کرنا ہرمرداور عورت پر فرض ہے بیٹے کے ساتھ ساتھ بیٹی کی تعلیم کو لازم کرنا ہوگا تاکہ بیٹیاں بھی بیٹوں کے ساتھ ساتھ معاشرتی ترقی میں اہم کردارادا کرسکیں انہوں نے مزید کہا کہ بچیوں کی تعلیم میں سب سے بڑی رکاوٹ غربت، تعلیم و شعور کی کمی جس کی وجہ سے والدین اپنی بچیوں کو نہیں پڑھاتے ہمیں ملکر اس فروسوہ کلچر کو ختم کرنا ہوگا،بیٹیوں کو برابر کی تعلیم دے کر معاشرے کا مفید شہری بنانا ہوگا،ہیڈ آف سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر کامران اشفاق نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پرانے جینڈر رولز پر کام کرنے کی ضرورت ہے وہ ملک کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا جہاں خواتین کو معاشی و معاشرتی سطح پر شانہ بشانہ شامل نہ کیاجائے انہوں نے کہا کہ ایک مرد کو پڑھانا ایک فرد کو پڑھانا ہے جبکہ ایک خاتون کر پڑھانا پورے خاندان کو پڑھانے کے مترادف ہے کانفرنس میں سماجی رہنما شاہد محمودانصاری، بیرسٹر ملک عثمان ڈوگر ، میاں محمدماجد، میڈم کلنارکاشف سمیت دیگر شرکاءنے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب میں بچیوں کی تعلیم کا فروغ وقت کا اہم تقاضہ ہے اور اس حوالے سے جنوبی پنجاب کے پسماندہ اضلاع خاص توجہ کے متقاضی ہیںخاص طور پر ہائر ایجوکیشن، سیکنڈری ایجوکیشن اور پرائمری ایجوکیشن سے متعلقہ جتنے بھی رولز اینڈ ریگولیشنز ہیں ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا تب جاکر تعلیم ِ نسواں کا خواب ایک حقیقت کا روپ دھارے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں