3

پیسٹی سائیڈزکمپنیوں اور سرکاری لیب کا گٹھ جوڑ،غیر معیاری سیمپل درست قرار،فصلیں تباہ

بہاولپور،پیسٹی کمپنیوں اور گورنمنٹ لیب کا مبینہ گٹھ جوڑ، جعلی اور غیر معیاری پیسٹی سائیڈ کمپنیوں کے ساتھ رجسٹرڈ کمپنیوں کا بھی اصل کی آڑ میں دو نمبر دھندہ کرنے کا انکشاف،کسانوں کی درجنوں ایکڑ فصلیں سپرے سے جل کر تباہ ہو گئیں،لیکن سرکاری لیب سے سیمپل کا رزلٹ بالکل فٹ ، زمینداروں ،کسانوں کا وزیر اعلیٰ پنجاب ،چیف سیکرٹری اور سیکرٹری زراعت سے تحقیقات کا مطالبہ،تفصیل کے مطابق پنجاب بھر میں جعلی اور غیر معیاری پیسٹی سائیڈ کمپنیوں کی بھر مار کے ساتھ ساتھ رجسٹرڈ کمپنیوں کا بھی اصل کی آڑ میں دو نمبر دھندے کا انکشاف ہوا ہے،اس دو نمبر دھندہ میں اکثر پیسٹی سائیڈ کمپنیاں معیاری اور اچھے امپورٹر سے تھوک میں اسپرے کی معمولی خریداری کر کے انوائس حاصل کرکے لیبل پر ڈیٹا پرنٹ کروا لیتی ہیں اور بعد میں غیر معیاری اور جعلی ادویات اسی لیبل اور ڈیٹا کے تحت پیک کر کے ڈیلرز کو سستے ریٹس اور انعامات کا لالچ دیکر مارکیٹ میں فروخت کرتی ہیں اور بھاری منافع کماتی ہیں،اس غیر معیاری اور دو نمبر اسپرے کرنے سے گذشتہ سال درجنوں ایکڑز پر کھڑی لہلہاتی فصلیں جل کر تباہ ہو گئیں۔ کسانوں ،کاشتکاروں کے شکایت کرنے پر جب متعلقہ کمپنیوں کے پروڈکٹس کے سیمپل کئے گئے تو پیسٹی سائیڈ کمپنیوں اور سرکاری لیب کے مبینہ گٹھ جوڑ کے نتیجے میں وہ سیمپل بالکل فٹ آئے لیکن کسانوں کی سال بھر کی روزی ان کمپنیوں کی غیر معیاری ادویات کی وجہ سے کھیتوں میں ہی جل کر تباہ ہو گئی۔ذرائع کے مطابق مارکیٹ سے جیسے ہی سیمپل ہوتا ہے تو ڈیلرز فوری طور پر کمپنی کو مطلع کرتا ہے جس پر کمپنی کا نمائندہ فوری طور پر سرکاری لیب میں مافیا سے رابطہ کر کے معقول لفافہ پہنچا دیتا ہے اور رزلٹ بالکل فٹ آ جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق جن کمپنیوں کا سرکاری لیب کے ساتھ ٹھیکہ ہے ان کا سیمپل لیب میں آنے پر صرف کمپنی کا نام دیکھتے ہی بغیر ٹیسٹ کیے فٹ رزلٹ کی رپورٹ جاری کر دی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں