9

پی سی جی اے کے عہدیداروں کی پریس کانفرنس،بجٹ میں عائد 17 فیصد ٹیکسسز کو مسترد کردیا

ملتان،پاکستان جنرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بجٹ میں عائد ٹیکسز کے خلاف پریس کانفرنس کی،چیئرمین پی سی جی اے ڈاکٹر جسومل نے کہا کہ حکومت نے جننگ انڈسٹری پر 17 فیصد ٹیکس لگا دیا ہے،چیئرمین پی سی جی اے ڈاکٹر جسومل نے کہا کہ ملک کی 70 فیصد معیشت کپاس سے جڑی مصنوعات پر منحصر ہے،حکومت سیلز ٹیکس ضرور لگائے مگر کنزیومر کو بیچنے والوں پر لگایا جائے،ڈاکٹر جسومل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں اضافہ کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو ملکی معیشت تباہ ہو جائے گی،حالیہ بجٹ میں عائد ٹیکسز کی شدید مذمت کرتے ہیں،سنیئر وائس چیئرمین پی سی جی اے ملک طفیل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زیر عتاب جننگ انڈسٹری کپاس کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے 70 فیصد بند ہوچکی ہے،انہوں نے کہا کہ کاٹن سیڈ آئل اور کاٹن لنٹ پر 17 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا،ٹیکسز کی وجہ سے جننگ انڈسٹری تباہ اور بوجھ کاشتکاروں پر پڑے گا،شیخ عاصم سعید نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھے لوگوں کو یہ نہیں پتا کہ کپاس کا پودا ہوتا ہے کہ درخت ہے.پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن نے بجٹ میں عائد ٹیکسز کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے خلاف آئی ایم ایف کی سازش قرار دیا ہے،جنوبی پنجاب کی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی حمایت کے بعد پی سی جی اے عہدیداروں نے وزیرِ اعظم سے فی الفور نوٹس لے کر ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے،ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی سی جی اے چیئرمین نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے ستر فیصد جننگ انڈسٹری بند ہو گئی ہے،کاٹن سیڈ آئل اور کاٹن لنٹ پر 17 فیصد ٹیکس جبکہ 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے سے جننگ انڈسٹری تباہ اور اسکا بوجھ کاشتکار پر ہی پڑے گا،شیخ عاصم سعید نے کہا کہ کاٹن پر یہ ٹیکس آئی ایم ایف کی جانب سے لگایا گیا ہے،کپاس کی ایک ملین ڈالر ایک بلین ڈالر کے برابر ہے،سابق صدر ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری شیخ فضل الٰہی نے کہا کہ کپاس پر عائد ٹیکس وزیراعظم کے ویژن کے برعکس ہے،جنوبی پنجاب کی تمام چیمبرز پی سی جی اے کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتی ہیں،پی سی جی اے ممبران نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ مجبوریوں کا وزن کپاس پر نا ڈالا جائے،وزیراعظم کپاس پر عائد ٹیکس کا فوری خاتمہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں