20

پی ٹی آئی اور قبضہ گروپ،ضلعی صدر خالد جاوید پر الزامات بڑھنے لگے

قیمتی زمینوں پر قبضوں کےحوالےسےبدنام ہونے والے حکمراں جماعت ضلع ملتان کے عہدیدار راو یاسر گزشتہ دنوں جیل سے رہا ہوکر ضمانت پر واپس آئے ہیں ،انہوں نے باہر آتے ہی انتہائی دلچسپ بیان اپنے امدادیوں کے ذرئعے دےکر اپنی ہی جگ ہنسائی کرائی ہے بیان یہ ہے کہ مجھے انتقامی سیاست کا نشانہ بنا یا گیاہے۔راو یاسر پر سرکار جو کہ اس وقت انکی اپنی ہے نے آٹھ مختلف متاثرہ افراد کی درخواستوں پر مقدمات درج کئے ہیں اور انہیں ریمانڈ کے بعد جیل بھجوایا گیا ۔جیل سے ضمانت پر رہائی کے بعد وہ باہر آتے ہیں اور کہتےہیں کہ ان کےخلاف انتقامی کارروائی ہوئی ہے ان کے لئے بطور ماوتھ پیس کام کرنےوالوں کو اتنا تو پتہ ہونا چا ہیے کہ حکومت میں رہتے ہوئے ان کےخلاف قبضوں کے کیس کسی دوسری جماعت نے نہیں بنائے،دوسری طرف ضلعی صدر خالد جاویدوڑائچ کا کردار بھی ان کی وجہ سےپارٹی میں انتہائی مشکوک ھو گیا ہے، خالد جاوید وڑائچ پر الزام یہ بھی لگ رہاہے کہ ننگانہ چوک پر ایک قیمتی سروس سٹیشن کی جگہ راو یاسر نے اپنے لیے خدمات سرانجام دینے پر انہیں دلوائی ہے۔اسی طرح دیگر الزامات بھی ان پر لگ رہےہیں ۔ خالد جاوید وڑائچ کے بارے میں انکی پارٹی کے لوگ کہ رہے ہیں کہ وہ اچھے تعلیمی ادارے چلا کر وہاں سے بہت کما رہے ہیں انہیں قبضہ گروپوں کی حمایت کر کے بدنامی کے علاوہ کچھ نہیں ملا تاہم انہیں قبضہ گروپ کی طرف سے اب تک جو قیمتی تحائف مل چکے ہیں ان پر قناعت کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں