6

چیف جسٹس قاسم خان کے چند بڑے فیصلوں سے حکومتی حلقوں‘ اداروں میں ہلچل رہی

ملتان سے تعلق رکھنے والے موجودہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان آج اپنے عہدے کی مدت پوری ہونے پر ریٹائرڈ ہو رہے ہیں،اپنے دور میں بھرپور انداز سے عدالتی اور انتظامی امور میں فیصلے کر کے وہ پنجاب کی عدالتی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے درج کرا چکے ہیں،ان کے دور میں وکلا اور عدلیہ کے درمیان ہونے والے تنازعات ختم ہوئے،ان کے دور ہی میں ملتان کی وکلاء اور عدلیہ کا اہم ترین جوڈیشل کمپلیکس مسئلہ حل ہوا ‘ انہیں کی کاوشوں سے ہائیکورٹ ملتان بنچ کو ہائی وے کی کالونی اور بلڈنگ کی اراضی کا حصول ممکن ہوا۔ جبکہ انہی کے دور ملتان میں ایشیاء کا سب سے بڑا جوڈیشل ٹاور بھی منظور ہو گیا،چیف جسٹس محمد قاسم خان نے عدالتی تاریخ میں چند اہم اور بڑے فیصلے دیئے جس سے حکومتی حلقوں اور اہم اداروں میں بھی ہلچل دیکھنے میں آئی۔ ملتان کے علاقہ گلگشت کالونی سے تعلق رکھنے والے چیف جسٹس محمد قاسم خان آج جب ریٹائرڈ ہونگے تو ان کے ساتھ ہی ان کا ہنگامہ خیز دور بھی اختتام پذیر ہو گا، بطور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ان کے کام کی رفتار ہی اصل میں ان کی پہچان بن گئی تھی،وہ 6 جولائی 1959 کو ملتان میں پیدا ہوئے،کمپری ہینسو سکول سے میٹرک نمایاں نمبروں سے پاس کیا۔ گیلانی لاء کالج سے لا ء کی ڈگری حاصل کی جبکہ 1982-83ء میں وہ گیلانی لاء کالج ہی میں سٹوڈنٹ یونین کے جنرل سیکرٹری بھی رہے۔ ان کا تعلق اس وقت انجمن طلباء اسلام سے تھا۔ بعد ازاں وکالت کے میدان میں ملتان بار کے ممبر بن کر کنور اختر علی اور پھر چوہدری فقیر محمد کے شاگرد بنے۔ 1997ء میں وہ ملتان ڈسٹرکٹ بار کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے اور پھر 2000ء میں انہیں ہائیکورٹ ملتان بنچ میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل تعینات کردیا گیا‘ 31 دسمبر 2009ء تک وہ بطور لا آفیسر کام کرتے رہے جنوری 2010ء میں انہیں لاہور ہائیکورٹ کا جج نامزد کردیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں