4

چینی انقلاب کا تیسرا مرحلہ


چین کی کمیونسٹ پارٹی نے سو سال مکمل کرلئے ہیں،انسانی تاریخ میں یہ سو سال ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے،ان سو سالوں میں چین نے نہ صرف چین کے اندر کامیاب انقلاب برپا کیا بلکہ ایک غریب ملک کو دنیا کی نمبر ون معاشی طاقت بنا دیا۔نپولین بونا پارٹ نے کہا تھا کہ” چین کو سونے دو اگر یہ جاگ گیا تو یہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیگا ” یہ پیشین گوئی درست ثابت ہوئی اور ایک سو سال کے بعد چین نے واقعی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے- دنیا کے عظیم ملک چین کی ترقی کی وجہ سے خوفزدہ ہیں اور دنیا پر اپنی بالادستی کیلئے سنگین خطرہ سمجھتے ہوئے چین کے عالمی اثرورسوخ کو روکنے کیلئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں-چین کی کیمونسٹ پارٹی نے عظیم انقلابی لیڈر ماؤزے تنگ کی قیادت میں 1948 میں چائینہ پیپلز ریپبلک کی بنیاد رکھی-پرانے عوام دشمن اشرافیائی نظام کو تبدیل کرکے سوشلسٹ نظام کو نافذ کیا-پرانی ذہنیت کو تبدیل کرنے کیلئے کلچرل انقلاب کی تحریک چلائی اور عوام کی پرانی سوچوں کو تبدیل کرکے ان کو سوشلزم کے نظریے کے ساتھ وابستہ کیا-چین کے انقلاب کا یہ پہلا مرحلہ تھا جس کو ارتقائی سوچ کی بنیاد پر آگے بڑھایا گیا،اگر چین کا کامیاب انقلاب سٹیٹس کو اور جمود کا شکار ہو جاتا تو چین آج دنیا کی عظیم طاقت کبھی نہیں بن سکتا تھا-ثابت ہوا کہ عوامی انقلاب کے بعد بھی ارتقائی عمل جاری رہنا چاہیے اور نئے حالات کیمطابق حکمت عملی میں تبدیلی لانی چاہیے،چین کے برعکس روس کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے انقلاب کے بعد ارتقاء کے بجائے جمود کی شکل اختیار کر لی اور اسکے نتیجے میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ چین کے دوسرے بڑے عظیم لیڈر ڈینگ زیاو پنگ نے 1970 میں نئے حالات کیمطابق چین کے سیاسی اور معاشی نظام میں تبدیلیاں کیں-انہوں نے معاشی ترقی کو اپنا مرکز اور محور بنایا اور یہ کہا” جب تک کہ بلی چوہے پکڑتی رہے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بلی سفید ہے یا کالی ہے”انقلاب کے دوسرے مرحلے میں چین نے دنیا کے مختلف ممالک کو چین میں سرمایہ کاری کرنے کے مواقع فراہم کیے البتہ چین سوشلزم کے بنیادی فلسفہ کیساتھ جڑا رہا – چین کی قیادت نے مغربی ممالک کے مشوروں اور تجاویز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور انہوں نے اپنے حالات اور انقلاب کے فلسفے کیمطابق اپنی سیاسی اور معاشی پالیسیوں کو ترتیب اور تشکیل دیا۔ ڈینگ زیاو پنگ نے اپنی پارٹی کے لیڈروں کو یہ نصیحت کی تھی کہ اپنی صلاحیتوں کو خفیہ رکھو وقت گزارو اور عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرنے سے گریز کرو۔بدقسمتی سے پاکستان قیام کے بعد سے عالمی سطح پر لیڈر بننے کی کوشش کرتا رہتا ہے جبکہ اسے اپنے گھر کی کوئی فکر نہیں ہے – گزشتہ تیس سالوں کے دوران چین نے مختلف عالمی تنازعات میں الجھنے سے گریز کیا اور معاشی ترقی پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔چین کی کیمونیسٹ پارٹی سو سال گزر جانے کے باوجود چین کے اندر سیاسی استحکام کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہی ہے اگر چین میں سیاسی استحکام نہ ہوتا تو اس کا معاشی استحکام بھی ناممکن ہو جاتا۔چین کے تیسرے عظیم لیڈر شی جن پنگ نے چین کو انقلاب کے تیسرے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ انہوں نے سوشلزم اور کیپیٹل ازم کے حسین امتزاج پر عمل کرکے دنیا کو حیران کر کے رکھ دیا ہے- چین نے انسانی تاریخ کا معجزہ کر دکھایا ہے کہ اس نے سرمایہ کاری کو بھی فروغ دیا ہے اور کروڑوں شہریوں کو غربت کی لکیر سے بھی باہر نکال دیا ہے۔ معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کی وجہ سے چین کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور اس نے اب عالمی سطح پر مزاحمتی رویہ اختیار کر لیا ہے۔چین کے عظیم لیڈر نے کرپشن کے سلسلے میں زیرو ٹالرنس کا مظاہرہ کیا ہے اور کرپشن کے مرتکب افراد کو موت کی سزائیں دے کر چین میں کرپشن پر کافی حد تک قابو پالیا ہے۔چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے قائد کی بے مثال قیادت اور کامیابیوں کے پیش نظر ان پر دو ٹرم صدر بننے کی پابندی ختم کرکے انہیں تاحیات صدر منتخب کر لیا ہے۔چین کے عظیم قائد شی جن پنگ نے انسانی تاریخ کا پہلا معجزاتی انفراسٹرکچر کا منصوبہ بیلٹ اینڈ روڈ سے شروع کر رکھا ہے جس میں دنیا کے مختلف براعظموں کے 68 ممالک شامل ہیں۔ اس عظیم الشان تاریخ ساز منصوبے کا ایک مقصد یہ ہے کہ دنیا کے سب ممالک مشترکہ ترقی کریں اور دوسرا یہ ہے کہ امریکہ اور مغرب کی دنیا پر بالادستی کو ختم کر کے ترقی انصاف اور امن پر مبنی نیا ورلڈ آرڈر نافذ کیا جائے۔ امریکہ نے جی سیون ممالک کے ساتھ مل کر چین کے عالمی اثرورسوخ کو روکنے کیلئے اربوں ڈالر کا ایک نیا معاشی منصوبہ تیار کیا ہے جس میں دنیا کے مختلف ممالک کو شامل کیا جائیگا۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ اس کا ورلڈ آرڈر دنیا پر قائم اور دائم رہے-امریکا طاقت کا حربہ استعمال کرتا ہے جبکہ چین معاشی ہتھیار استعمال کر کے دنیا کو فتح کر رہا ہے کیونکہ وہ اپنی معاشی پالیسی میں دنیا کے ملکوں کے معاشی مفادات کو بھی جگہ دیتا ہے۔ چین کے عظیم لیڈر شی جن پنگ نے کیمونسٹ پارٹی کے سوسالہ جشن کی تقریبات میں خطاب کرتے ہوئے دنیا کو واشگاف الفاظ میں انتباہ کیا ہے کہ چین کسی دھونس اور بلیک میلنگ میں نہیں آئیگا اور نہ ہی مغرب کی مقدس تبلیغ کا شکار ہوگا جس نے بھی چین کو دھمکی دینے یا بلیک میل کرنے کی کوشش کی اسکے سر پر شدید چوٹ لگائی جائیگی۔ مغرب کے ممالک چین کیخلاف یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ چین انسانی حقوق کی پرواہ نہیں کرتا جبکہ چین کا موقف یہ ہے کہ انسانوں کے سب سے بڑے انسانی حقوق یہ ہیں کہ انکو عزت اور وقار کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے اور انکو بنیادی حقوق روٹی کپڑا مکان تعلیم صحت ٹرانسپورٹ صاف پانی جیسی سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ امن اور سکون کے ساتھ معیاری زندگیاں گزار سکیں۔ پاکستان کے نوجوان چین کے کامیاب تجربات سے سبق سیکھ کر اپنی اور آنیوالی نسلوں کا مقدر سنوار سکتے ہیں ۔ پاکستان کے نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اگر انہوں نے بیدار ہونے کی بجائے اپنی آنکھیں بند رکھیں تو انکی اس سرد مہری کی وجہ سے پاکستان کو خدانخواستہ ناقابل تلافی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے نوجوانوں کا قومی فرض ہے کہ وہ پاکستان کے سیاسی اور معاشی استحکام کیلئے فیصلہ کن کردار ادا کر یں-
بشکریہ نوائے وقت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں