10

چینی نرخ آسمان پر،کاٹن جینگ انسٹیٹیوٹ

یکم جولائی 2021 پاکستان میں مالی سال کا پہلا دن تھا،خبریں آ رہی تھی کہ مصر سے25ہزار ٹن چینی پاکستان پہنچ رہی ہے اور لگ رہا تھا کہ ایکس مل اور ہول سیل میں چینی دبائو میں آجائے گی اور نرخ گرے گا لیکن اس کے بر عکس کہانی سامنے آئے شوگر مل کی جانب سے یہ افواہ آئی کہ چینی کا سٹاک محدود ہے اکثر ملوں نے روایتی انداز میں افواہوں کی تصدیق کر دی دوسری طرف مصر سے آنے والی چینی کے بارے میں یہ خبر مارکیٹ میں گردش کر گئی کہ مصری چینی کا معیار پست ہے اور پھر اگلے ہی دن چار دنوں میں مقامی مارکیٹ نے ایکس مل ہی 400روپے اوپر کا جمپ لیا اور9100والی چینی 9500ہو گئی جبکہ ہول سیل میں بھی چینی غائب ہو گئی پاکستان کی شوگر مارکیٹ میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ تیزی کی آواز بھی آجائے تو لوگ کیا ہول سیلر کیا رٹیلرکیا مڈل مین ہر بندہ اپنے سٹاک کو روکتا ہے اس وقت ویسے بھی حکومتی سختی کی وجہ سے سٹاک محدود ہیں جس کی وجہ سے تیزی کا جمپ بھی خاصا اونچا تھا اور ضرورت مند نے دام سے زیادہ اپنی ضرورت کو اہمیت دی اور تیزی میں استحکام نظر آیا یہ نہیں کہ کچھ نے ہاتھ روکا اور کچھ نے ہاتھ بڑھایا سب نے ہی اوپر جاتی مارکیٹ میں اپنا حصہ ڈالا اور خریداری کی اب دوسری طرف وفاقی حکومت نے چینی پر عائد ہونے والا رعایتی سیلز ٹیکس اور اس کی رعایتی قیمت ختم کر دی ہے FBRنے اس سلسلے میں نوٹیفیکشن جاری کر دیاہے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مقامی چینی پر سیلز ٹیکس 60روپے سے زائد کی رقم پر ہو گا اس سے پہلے چینی پر سیلز ٹیکس 60روپے فی کلو گرام پر ہوتا تھا نوٹیفیکشن کے مطابق اب چینی پر سیلز ٹیکس مارکیٹ ریٹ پر عائد ہو گا اس کا مطلب ہے چینی کی قیمتوں میں مزید اضافہ حقیقی صورتحال یہ ہے کہ حکومت مسلسل دو سالوں میں چینی کی قیمت کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی جس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت سب سڈی دے نہیں سکتی اور مقامی چینی کی لاگت اونچی ہے اگر چینی پر سیاست نہ ہو رہی ہوتی تو سب سڈی دے کر عوام کو چینی سستی دی جا سکتی تھی لیکن اس سب سڈی کو ایک گالی بنا دیا گیا ہے اس لئے چینی کی قیمتوں میں ابھی کمی مشکل ہے ڈالر 160کا ہو گیا ہے جس سے لازمی امر ہے کہ امپورٹ ہونے والی چینی کے دام بڑھ جائیں گے نیا کریشنگ سیز ن سٹارٹ ہونے میںابھی کم از کم 90دن لگیںگے نئی چینی آنے کے بعد ہی مارکیٹ اپنے خدوخال تبدیل کرے گی پاکستان میں شوگر پر سیاست کی وجہ سے سارا کاروبار ہی سیاسی ہو گیاہے چینی کی قیمتوں میں کمی کیلئے ایک پالیسی بنائی جائے گی تو قیمتوں میں استحکام آئے گا وہ پالیسی نہیں جو اب بنائی گئی ہے یہ تو الٹا اثر کر رہی ہے ساری کہانی کا لب لباب یہ ہے کہ عام آدمی چینی110روپے کلو لینے کیلئے تیار رہے،اب ایک نظر کاٹن جینگ سیکٹر پر جو زبوں حالی کا شکار ہے اور لگ بھگ تباہ ہی ہو گیا ہے سیزن 2020-21میں 1350میں بمشکل 450کاٹن فیکٹریاں چل سکی تھی رواں سیزن 2021-22میں لگتاہے مزید کم فیکٹریاں چلیں گی کیونکہ ملک میں کاٹن کراپ سائز ابھی بھی بارشوں میں چھپا ہوا ہے مون سون کے بعد پتہ چلے گا کہ کتنی کاٹن بیلز پیدا ہوں گی ابھی تک تو فصل بہت بہتر نظر آ رہی ہے پاکستان میں کاٹن جینگ مشین بہت پرانے طرز کی ہے دنیا کو اس طرز کی مشینری چھوڑے چھ سے سات دہائیاں بیت گئی ہیں پاکستان میں کاٹن جینگ ایک بہت بڑی انڈسٹری ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ کاٹن جینگ کا ملک میں کوئی ایک تعلیمی ادارہ نہیں ہے جینگ مشینری کے بارے میں کہیں بھی پڑھایا نہیں جاتا لگ بھگ 23سالوں سے ملتان انڈسٹریل اسٹیٹ میں چار کنال کا ایک پلاٹ پاکستان جینگ انسٹیٹیوٹ کے نام کا پڑاہے جس پر آج تک کوئی کام نہیں ہوا اور کمال دیکھ لیں جنرز کی نمائندہ تنظیم PCGAنے آج تک اس پر کوئی کام نہیں کیا سری لنکا جیسے ملک میں جہاں نہ جینگ انڈسٹری ہے اور نہ ہی کاٹن پیدا ہوتی ہے وہاں کاٹن جینگ پر پڑھایا جارہاہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی کاٹن جینگ سیکٹر میں سری لنکن کام کر رہے ہیں لیکن پاکستان میں اس حوالہ سے مجرمانہ خاموشی ہے ملک میں 1350کاٹن فیکٹریوں میں سے بیشتر بند ہو گئیں ہیں لیکن ملک میں ایک بھی کاٹن جینگ انسٹیٹیوٹ ہم نہ بنا سکے جہاں ہم وہ انجینئراور ٹیکنکل سٹاف تیار کرتے جو پاکستان میں کاٹن جینگ کو اپ گریڈ کرتے اور چلاتے جس سے ملک میں کاٹن کا معیار بین الا قوامی ہوتا گذشتہ کاٹن سیزن میں کپاس کی فصل کم تھی اور ملکی کاٹن کی ضرورت آسمان سے باتیں کر رہی تھی تو تاجکستان سے افغانستان کے راستے 60سے80ہزار من پھٹی پاکستان لائی گئی تو وہاں کی پھٹی جب پاکستان میں جینگ ہوئی تو کاٹن میں ٹریش 6سے7فیصد آئی جبکہ تاجکستان سے جب کاٹن آتی ہے تو اس میں ٹریش 3فیصد بھی مشکل سے ہوتی ہے یہ ہے جینگ مشینری کا فرق ۔
بشکریہ نوائے وقت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں