11

کارڈیالوجی ملتان میں مریض خوار،ایمرجنسی میں بھی ہروقت سہولیات کا حصول مشکل

ملتان،چوہدری پرویز الہٰی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ملتان میں دل کے مریض خوار ہونے لگے،ایمرجنسی میں علاج معالجے کا حصول مشکل ہوگیا،دل کے مریض خوار،بیڈز اور ویل چیئرز کیساتھ بنچوں پر بھی جگہ نہیں بچ سکتی،مریض فرش پر بیٹھ کر بھی علاج کروانے پر مجبور ہوتے ہیں،جنوبی پنجاب،بلوچستان،ڈیرہ اسماعیل خان سے آنے والے دل کے مریضوں کی امراض قلب کی سب سے بڑی علاج گاہ بھی عدم توجہی اور بدانتظامی سے دوچار ہے،ایمرجنسی میں دل کی تکلیف سے آنیوالے مریضوں کا علاج سست روی کا شکار ہے،علاج میں تاخیر سے رش بڑھ گیا،بیڈز اور ویل چیئرز کیساتھ ویٹنگ ایریا کے بنچوں پر بھی جگہ نہیں بچتی،مریض فرش پر بیٹھ کر علاج کروانے پر مجبور ہیں،مریض اور ان کے لواحقین کا شکوہ ہے کہ کئی کئی گھنٹوں کے بعد بھی علاج کیلئے بستر ملنا تو درکنار ایمرجنسی میں پوری ادویات تک میسر نہیں ہوتیں،ایم آئی سی کی سو بیڈز کی ایمرجنسی میں سہولت ہونے کے باوجود مریضوں کی پرائمری انجیوگرافی ہورہی ہے نہ معمول کے پروسیجر،جس کے باعث ایمرجنسی میں علاج کی فراہمی کی ابتر حالت سدھارنے میں تاحال ناکام دکھائی دے رہی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں