16

کاشتکاروں کو ڈرپ نظام آبپاشی چلانے کیلئے سولر سسٹم فراہم کئے جارہے ہیں،ڈائریکٹر جنرل زراعت

ملتان، ڈائریکٹر جنرل زراعت (اصلاح آبپاشی) پنجاب ملک محمد اکرم نے بتایا ہے کہ محکمہ زراعت کاشتکاروں کو 3 ارب 67 کروڑ روپے کی لاگت سے جاری جدید آبپاشی کے نظام کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبہ کے تحت 50 فیصد سبسڈی پر سولر سسٹم مہیا کر رہا ہے،جو ڈرپ نظام آبپاشی کی موٹر کو چلانے میں معاون ثابت ہوگا،انھوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبہ کے تحت کاشتکاروں کو 20 ہزار ایکڑ رقبے پر ڈرپ نظام آبپاشی چلانے کے لئے سولر سسٹم فراہم کئے جارہے ہیں،پاکستان میں ڈرپ نظامِ آبپاشی (HEIS) کو سولر سسٹم کی مدد سے کامیابی سے چلایا جاسکتا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں سورج کی روشنی قریباً روزانہ آٹھ گھنٹے دستیاب ہوتی ہے جسے استعمال میں لاتے ہوئے ڈرپ نظام آبپاشی کی تنصیب کے لئے موٹر کو چلایا جا سکتا ہے۔ عام طور پر ڈرپ نظامِ آبپاشی کو چلانے کے لیے ڈیزل کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے کاربن کی اچھی خاصی مقدار فضا میں منتقل ہوتی رہتی ہے اور نتیجتاً آب و ہوا شدید متاثر اور آلودہ بھی ہوتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سولر سسٹم سے نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ اس سے زرعی مداخل پر آنے والی کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہونے کے ساتھ توانائی کی بچت بھی ہوگی۔ ڈائریکٹر جنرل زراعت (اصلاح آبپاشی) پنجاب نے مزید کہا کہ کاشتکار جدید نظام آبپاشی کی سولر سسٹم پر منتقلی کے بعد باآسانی فصلات کو ضرورت کے مطابق پانی مہیا کر سکیں جس سے پیداواری اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔ اس ضمن میں جدید نظام آبپاشی کی سولر سسٹم پر منتقلی کے لئے کاشتکار شعبہ اصلاح آبپاشی کے مقامی دفاتر سے رجوع کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں